یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے اور سالانہ اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ صرف تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر خرچ کرتا ہے۔

امریکی پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ہی یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ ان سے عالمی منظرنامے میں کیا تبدیلیاں سامنے آئیں گی؟ کیونکہ اس لائسنس میں صرف تجارت نہیں بلکہ بینکاری، انشورنس اور شپنگ کے مالیاتی راستے بھی شامل ہیں۔

یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ ایران کی تیل برآمدات کئی سال تک غیر رسمی اور محدود نیٹ ورکس پر چلتی رہیں۔ اب پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ ایران اپنی برآمدات کو عالمی مالیاتی نظام میں واپس لے آئے گا۔

پاکستان کے لیے فوری سوال یہ ہے کہ کیا اس پیش رفت سے پیٹرول اور ڈیزل سستا ہوگا؟ اس کا سادہ جواب صنعت کے ماہرین کے مطابق ‘براہ راست نہیں‘ ہے۔

پاکستان پہلے ہی ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ایرانی تیل غیر رسمی طور پر موجود ہے، جہاں قیمت سرکاری نرخ سے کم ہے۔ مگر یہ فرق قانونی مارکیٹ اور غیر رسمی تجارت کا ہے، عالمی قیمت کا نہیں۔

حقیقی سوال یہ ہے کہ اگر ایران عالمی مارکیٹ میں واپس آتا ہے تو کیا وہ رعایتی قیمت پر تیل دے گا یا بین الاقوامی معیار پر؟ پاکستان ریفائننگ سیکٹر کے سابق ماہرین کے مطابق ایرانی خام تیل تکنیکی طور پر ریفائن کیا جا سکتا ہے، مگر یہ ہمیشہ معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہوتا۔

اصل مسئلہ ایرانی خام تیل کی ‘کوالٹی پروفائل‘ ہے۔ یہ نسبتاً بھاری خام تیل ہے، جس سے زیادہ مقدار میں فرنس آئل (ایف او) نکلتا ہے۔ پاکستان میں فرنس آئل کی مقامی طلب بہت کم ہو چکی ہے، خاص طور پر پاور سیکٹر میں اس کے استعمال میں کمی کے بعد۔

زیادہ  ‘ایف او‘ نکلنے کی وجہ سے یہ تجارتی طور پر فائدہ مند نہیں، خاص طور پر جب اس کی مقامی مارکیٹ موجود نہیں۔‘ یہی وہ نکتہ ہے جو اس بحث کو صرف قیمت سے نکال کر صنعتی حقیقت میں لے آتا ہے۔

پاکستان میں ریفائنری سسٹم بڑی حد تک پرانا ہے۔ زیادہ تر ریفائنریاں  ‘ڈیپ کنورژن‘ ٹیکنالوجی سے محروم ہیں۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق  پاکستان کی بیشتر ریفائنریوں میں ‘ ہائیڈروکریکر ‘ اور ‘ایڈوانسڈ کریکنگ یونٹس ‘موجود نہیں

صرف پارکو کے پاس نسبتاً بہتر‘مائلڈ کریکنگ ‘ صلاحیت ہے۔

انڈین ریفائنریاں اس کے برعکس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، ‘جو ہیوی کروڈ ‘ کو بھی مؤثر طریقے سے‘ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس ‘میں تبدیل کر سکتی ہیں۔

اسی وجہ سے انڈین ریفائنریاں مختلف اقسام کے خام تیل کو زیادہ لچک کے ساتھ استعمال کر لیتی ہیں، جب کہ پاکستان کی ریفائنریاں محدود آپشنز رکھتی ہیں۔

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) نے ماضی میں ‘نیشنل ایرانی آئل کمپنی‘ کے ساتھ معاہدے کے تحت ایرانی خام تیل درآمد کیا تھا۔ تاہم امریکی پابندیوں کے بعد یہ سلسلہ مکمل طور پر رک گیا۔

اس کے بعد سے پاکستان نے ایرانی خام تیل رسمی طور پر درآمد نہیں کیا۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ موجودہ بحث نئے آغاز کے بارے میں نہیں، بلکہ ایک بند شدہ چین کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں ہے۔

گزشتہ 16 سالوں میں پاکستان کی ریفائنریوں نے اپنے ‘کرُوڈ مکس ‘ کو ‘ہیوی سَور‘ سے‘ لائٹ سویٹ‘ کی طرف منتقل کیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معاشی بقا بھی تھا۔

اس کے نتیجے میں ڈیزل کی مقامی پیداوار بہتر ہوئی، فرنس آئل کی پیداوار کم اہم ہو گئی، ریفائنریوں نے اپنی ایفیشنسی بڑھانے کے لیے فیڈ اسٹاک بدل دیا۔ تاہم اس تبدیلی نے ایران جیسے بھاری خام تیل کے لیے گنجائش محدود کر دی۔

پاکستان میں ڈیزل کی کھپت میں حالیہ کمی بھی اس تصویر کو متاثر کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں ڈیزل سیلز 455,000 ٹن رہی، یہ سال بہ سال 32 فیصد کمی اور ماہانہ 17 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے، FY25 میں ڈیزل کی پیداوار 4.958 ملین ٹن رہی، جب کہ FY26 کے ابتدائی مہینوں میں یہ 3.787 ملین ٹن رہی۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ خود بھی بدل رہی ہے، اور صرف نئے سپلائر سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

اصل فیصلہ قیمت نہیں بلکہ ڈسکاؤنٹ اسٹرکچر کرے گا۔ پاکستان نے 2025 میں تقریباً 17 ارب ڈالر کے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔ اگر ایران سے 10 سے 20 فیصد خام تیل رعایت پر حاصل کیا جائے تو پاکستان کو سالانہ 170 سے 340 ملین ڈالر تک بچت ہو سکتی ہے۔

لیکن یہ بچت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ایران واقعی ڈسکاؤنٹ دے، عالمی بینچ مارک سے قیمت کم ہو اور لاجسٹکس میں واضح فائدہ موجود ہو، بصورت دیگر فرق محدود رہتا ہے۔

پاکستان میں صرف پارکو کے پاس نسبتاً جدید کریکنگ یونٹ موجود ہے، جب کہ باقی ریفائنریاں اس سطح پر نہیں ہیں۔ اسی لیے جب تک ریفائنری اپ گریڈیشن نہیں ہوتی تب تک خام تیل کی تنوع فائدہ نہیں دے گی۔

ریفائنری ایکسپنشن اینڈ اپگریڈ پروجیکٹ جیسے منصوبے اس خلا کو کم کر سکتے ہیں۔ پی آر ایل اپنی کپسیٹی کو 50,000 سے 100,000 بیریلز پر ڈے تک بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ اگر یہ اپ گریڈیشن مکمل ہو جائے تو ایران جیسے بھاری تیل سے فائدہ بڑھ سکتا ہے۔

ایران کے تیل کی واپسی پاکستان کے لیے کوئی سیدھا پرائس ڈراپ والا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک پیچیدہ معاشی مساوات ہے جس میں شامل ہیں۔ عالمی قیمتیں، ریفائنری ٹیکنالوجی، کروڈ کی نوعیت اور دوطرفہ تجارتی فریم ورک۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا و ایران کے اس مفاہمتی یادداشت کے بعد تعلقات کس سمت کا تعین کرتے ہیں اور پھر اسی حساب سے آگے معاشی تبدیلیاں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کیا بنتی ہیں، مگر ایک بات تو طے ہے کہ جب تک امریکا و ایران کے تعلقات معمول پر نہیں آجاتے تب تک تیل کی قیمتیں یونہی اوپر نیچے جاتی رہیں گی اور عالمی مارکیٹ بے یقینی کا شکار رہے گی۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر