ایسے حالات میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کو 10 جدید الیکٹرک بسیں بطور تحفہ دینے اور اس سے قبل 15 "کلینک آن ویلز" فراہم کرنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
حکومت اسے عوامی خدمت، بین الحکومتی تعاون اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے انتخابی ماحول میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ ان دونوں مؤقف کے درمیان ایک سوال مسلسل موجود ہے، کیا اس فیصلے کی ٹائمنگ بہتر ہو سکتی تھی؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ انہی دنوں پنجاب خود مون سون کی شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سامنا کر رہا تھا۔ صوبے کے کئی اضلاع میں شہری جانوں، گھروں اور بنیادی انفراسٹرکچر کا نقصان برداشت کر رہے تھے، جبکہ مزید بارشوں اور سیلاب کے خدشات برقرار تھے۔ ایسے وقت میں ریاستی وسائل کی تقسیم ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کی عکاس بن جاتی ہے۔
لاہور جہاں چند گھنٹوں کی بارش کے بعد سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اگر صوبے کے دارالحکومت کا یہ حال ہو، جہاں حکومتی وسائل اور انتظامی مشینری سب سے زیادہ موجود ہوتی ہے، تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دور دراز اضلاع، دیہات اور نشیبی علاقوں میں صورتحال کس قدر سنگین ہوگی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صرف چند روز میں بارشوں اور سیلابی حادثات کے نتیجے میں پنجاب میں 21 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 154 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا، جبکہ اٹک، جھنگ، پاکپتن، خوشاب، میانوالی، چنیوٹ، سیالکوٹ، فیصل آباد، گجرات اور ساہیوال بھی اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے۔ بارشوں سے درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا، کئی خاندان بے گھر ہوئے اور مختلف علاقوں میں انفراسٹرکچر متاثر ہوا۔
صورتحال یہیں ختم نہیں ہوتی۔ این ڈی ایم اے مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ دریائے چناب اور دریائے جہلم میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان موجود ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں فلیش فلڈز کا خطرہ برقرار ہے۔ سیالکوٹ اور وزیرآباد میں بھی ہائی الرٹ نافذ کیا جا چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پنجاب کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
یقیناً آزاد کشمیر کے عوام بہتر ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنے پنجاب کے شہری۔ بحث اس بات پر نہیں کہ انہیں یہ سہولیات کیوں فراہم کی گئیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیوں کیا گیا جب پنجاب کے اپنے متعدد اضلاع ہنگامی صورتحال سے گزر رہے تھے۔ اگر حکومت کے پاس اضافی وسائل موجود تھے تو ان کے استعمال کی ترجیح، وقت اور طریقہ کار کے بارے میں وضاحت دینا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ عوامی وسائل صرف خرچ ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کا بروقت اور درست جگہ استعمال بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ 10 الیکٹرک بسیں پنجاب کے مجموعی منصوبے کے مقابلے میں ایک نہایت چھوٹا حصہ ہیں، اور ان سے پنجاب کے ٹرانسپورٹ نظام پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑتا۔ تاہم سیاست میں اکثر اصل بحث وسائل کی مقدار پر نہیں بلکہ ان کے استعمال کے وقت اور اس سے پیدا ہونے والے تاثر پر ہوتی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب آزاد کشمیر انتخابی مہم کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہو اور ہر سرکاری اقدام سیاسی زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہو۔
قدرتی آفات حکومتوں کی نیت نہیں بلکہ ان کی ترجیحات کا امتحان لیتی ہیں۔ عوام یہ نہیں دیکھتے کہ حکومت نے کتنے منصوبے شروع کیے یا کتنے تحائف دیے، بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مشکل کی گھڑی میں ریاست نے سب سے پہلے کس کا ہاتھ تھاما۔ اگر پنجاب کے سیلاب زدہ اضلاع کو فوری ریلیف، طبی سہولیات اور ریاستی توجہ آزاد کشمیر کو بھیجے گئے تحائف کے ساتھ ساتھ، یا اس سے پہلے، واضح طور پر ملتی نظر آتی تو شاید یہ فیصلہ اتنے سوالات کو جنم نہ دیتا۔ جمہوری حکومتوں کے لیے صرف درست فیصلہ کرنا کافی نہیں ہوتا، اس فیصلے کا وقت، اس کی ترجیح اور اس کے بارے میں عوامی اعتماد قائم رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







