افغانستان میں امریکی و نیٹو انخلاء کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا کیونکہ امریکی انخلاء کے دوران انڈیا بھی یہاں سے نکل گیا تھا چائنہ یہاں اپنے پاؤں جمانے کیلئے آیا یہ جنوبی ایشیاء میں ایک بڑی جیو پولیٹکس شفٹنگ تھی،افغانستان کے بلوچستان میں جیو اکنامک انٹرسٹ بھی نہیں تھے، افغان طالبان کو ہمیشہ پاکستان کی سپورٹ رہی تھی چاہے وہ سویت یونین وار ہو یا امریکی و نیٹو آپریشن ہوں۔
امریکی موجودگی میں افغان حکومت نے انڈیا کو فری ہینڈ دیا ہوا تھا انڈیا کے مشن اور سفارت خانے پاکستانی بارڈر پر تھے جو بلوچستان اور نادرن ایریا میں کھل کر کام کر رہے تھے،اس انخلاء سے ایک نئی امید بن گئی کہ اب سی پیک منصوبہ مکمل کیا جائے گا،لیکن افغان طالبان کی عبوری حکومت پاکستان کیلئے ایک سیکیورٹی تھریٹ کے طور پر سامنے آگئی،جس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی اور پاکستان کے سیاسی و معاشی مسائل کیلئے سر درد بن گئی۔
امریکی انخلاء سے جو خلاء پیدا ہوا اس کو چائنہ اور روس پُر کرنے لگے تھے امریکہ و انڈیا اس خلاء کو چائنہ اور روس کو پُر نہیں کرنے دے سکتے تھے، انڈیا کیونکہ یہاں اپنا اثرورسوخ قائم کرچکا تھا بلوچستان میں دو دہائیوں تک انویسٹمنٹ لگا چکا تھا وہ ایک دم یہاں سے نہیں نکلنا چاہتا تھا انڈیا عمان کی دقم اور ایران کی چاہ بہار پورٹ حاصل کر کے اس خطے میں خود کو سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پیش کر رہا تھا۔امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی یہاں کام کر رہی تھی امریکہ کا بلوچستان میں جیو اکنامک انٹرسٹ نہیں ہے مگر اس کا یہاں رہنا اور چائنہ کو کاؤنٹر کرنا ضروری ہے اور اگر یہ محفوظ راستہ چائنہ کو ملتا ہے تو امریکہ کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ بلوچستان چائنہ کیلئے سی پیک کی شہ رگ ہے تو اس کو کاٹا جائے چائنہ کو مالاکا ڈائلما میں ہی رکھا جائے اور اپنا کھیلا جاری رکھا جائے چائنہ نے سی پیک اسی وجہ سے بنایا تھا کہ وہ مالاکا ڈائلما سے بچ سکے آسان اور محفوظ راستے طے کر کے بحیرہ عرب پہنچ جائے۔اس تمام صورتحال کے بعد انڈیا اور امریکہ کو شفٹ ہونا پڑا۔
افغان طالبان کی حکومت آئی تو انڈیا نے تعلقات قائم نہیں کئے بلکہ دوری اختیار کی کیونکہ انڈیا سمجھ رہا تھا کہ اب اس کو افغانستان کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ دقم اور چاہ بہار پورٹ پر پہنچ چُکا تھا تو وہ محسوس کرنے لگا کہ اس خطے کا سیکیورٹی پرووائیڈر وہی ہے۔مگر مئی 2025 کی کشیدگی نے انڈیا کی اس خوش فہمی کی تمام سٹریٹجی کو خاک میں ملا دیا اور امریکہ کو احساس ہوا کہ ہم نے جس انڈیا کو خطے کا سیکیورٹی پروائیڈور کے طور پر پیش کیا یہ تو پاکستان کے سامنے نہیں ٹک سکا تو چائنہ کے مقابل کیسے جائے گا۔انڈیا کو بھی محسوس ہوگیا کہ پاکستان کیلئے مغربی بارڈر چھوڑنا انڈیا کیلئے خطرہ ہے یہ خلاء پاکستان کی معیشت کو بہتر بنا دے گا اور اس کی توجہ صرف مشرقی بارڈر پر رہے گی،اس پالیسی کو انڈیا فیس نہیں کر سکے گا۔انڈیا اور امریکہ نے دوبارہ اس خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔جو امریکن و انڈین کی انویسٹمنٹ یہاں کی گئی تھی اس کو بڑھا دیا گیا۔
انڈیا نے افغان طالبان کیساتھ تعلقات بڑھانے کیساتھ فنڈ کرنا شروع کر دیئے امریکہ بھی ہر ماہ کئی ملین ڈالر افغان طالبان کو فراہم کر رہا تھا اور ابھی بھی کر رہا ہے امریکہ چاہتا ہے کہ یہ خطہ غیر مستحکم رہے اور چائنہ جیو پولیٹکس کی شفٹنگ سے فائدہ نہ اٹھائے اور ایران بھی اسی شفٹنگ سے مستفید ہو رہا تھا جو امریکہ کو بعد میں محسوس ہوا کہ انخلاء کرنا ضروری نہیں تھا،انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہے۔امریکہ کو پاکستان نے اعتماد میں لیا اور پسنی پورٹ کی آفر کروا دی تاکہ بلوچستان میں جو انڈیا، متحدہ عرب امارات اور افغانستان طالبان کے ذریعے سے کام کر رہے ہیں ان کو روکا جائے امریکہ کو یہ آفر پسند آئی امریکہ نے اپنا رخ تبدیل کر دیا بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کا ذیلی گروپ مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔یہ پاکستان کا ایک ماسٹر اسٹروک تھا جس سے انڈیا،متحدہ عرب امارات اور افغانستان کو جھٹکا لگا۔کہ اب اگر فنڈنگ اور تعلقات سامنے آگئے تو عالمی سطح پر معاملات خراب ہو جائیں گے۔اس پر تحریک طالبان و اتحادی گروپ کو ایکٹیو کیا گیا اور اس کے جنگجووں کو القاعدہ کے اہم ترین کمانڈروں کی نگرانی میں ٹریننگ دی گئیں۔اسلحہ سمیت پاکستانی بارڈر کراس کروایا گیا۔
چائنہ کیونکہ اس شفٹنگ سے فائدہ حاصل کر رہا تھا اس نے کوشش کی کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک ساتھ بیٹھایا جائے آخر کار چائنہ خاموش ہوگیا پاکستان نے افغانستان میں کارروائی کا فیصلہ کیا امریکہ کو اعتماد میں لے چکے تھے اور اس کو باور کروایا جاچکا تھا کہ یہاں آپ کا جیو اکنامک انٹرسٹ ہے تو اس نے مداخلت نہیں کی پاکستان نے ان ٹھکانوں کو آزادی کیساتھ نشانہ بنایا جہاں انڈین فنڈنگ والے ٹریننگ سینٹر تھے،جہاں سے کمانڈر ٹرین کر کے بلوچستان،وزیرستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کرنے کیلئے بھیجے جاتے تھے انڈیا کیلئے پاکستان کی افغانستان کے اندر کارروائی حیران کن تھی کیونکہ انکو لگتا تھا کہ امریکہ مداخلت کرے گا روس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی اور انڈیا میں بیٹھ کر روسی صدر نے افغان طالبان کے حق میں بیان داغ دیا تو چائنہ سامنے آگیا۔پاکستان نے ایران و امریکہ کو اعتماد میں لیا اور انڈیا کو ایران کی چاہ بہار پورٹ سے کٹ کروا دیا۔ انڈیا کو ایک دم جھٹکا لگا دقم پورٹ کا معاہدہ مختلف نوعیت کا ہے انڈیا اب افغان طالبان کو پیسہ دیکر یہاں دہشت گردی کروا رہا ہے۔
جو بلوچستان میں ایک ایڈونچر ہوا ہے یہ کروانے میں چار ممالک براہ راست ملوث تھے، سعودی عرب چائنہ کے کئی پروجیکٹس میں پارٹنر ہے سعودی عرب نے چائنہ کو کہا تھا کہ وہ سی پیک اور گوادر پورٹ مین دلچسپی رکھتا ہے اور 25 ہزار ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کیلئے تیار ہے،سعودی عرب کو سیکیورٹی کے مسائل تھے پاکستان کیساتھ دفاعی معاہدہ کیا گیا۔ان دونوں کا ایک مسئلہ تھا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کروایا جائے اس میں سوڈان کو اسلحہ دینے کی ڈیل کی گئی،سعودی عرب گوادر پورٹ پر آتا ہے تو متحدہ عرب امارات، ایران اور عمان کی پورٹس کو براہ راست نقصان پہنچے گا اور اس نقصان کو بچانے کیلئے بلوچستان میں سیکیورٹی تھریٹ رکھنا ضروری ہے، اور یہ کام بلوچ علیحدگی پسند تحریک و افغان طالبان سر انجام دے رہے ہیں،اس ایڈوانچر سے ایک دن پہلے پنجگور اور شعبان میں 40 لوگوں کو سیکیورٹی فورسز نے مارا۔یعنی انٹیلی جنس تھیں کہ ایسا ایڈوانچر ہونا ہے۔
تحریر: فرحان ملک
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی فیس بک وال سے لی گئی ہے ادارے کا ذاتی خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر