اگر پولیس قانون کے مطابق غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ فرائض انجام دے تو معاشرے میں امن، انصاف اور ریاست کی رٹ مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہی ادارہ اپنے اختیارات کے استعمال میں قانونی حدود سے تجاوز کرنے لگے تو عوام کے دلوں میں تحفظ کے بجائے خوف جنم لیتا ہے۔
لاہور میں پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی رہائش گاہ پر پولیس کے چھاپے نے ایک مرتبہ پھر یہی سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہمارے ہاں پولیس کے پاس موجود اختیارات کے ساتھ مؤثر احتساب بھی موجود ہے؟ یا پھر عام شہری کی طرح ریاست کے اعلیٰ ترین قانونی افسر کا گھر بھی ایک غلط اطلاع کی بنیاد پر غیر محفوظ ہو سکتا ہے؟
پولیس کا موقف ہے کہ اسے انٹیلی جنس ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ اٹارنی جنرل کے پڑوس میں واقع ایک مکان میں قحبہ خانہ چلایا جا رہا ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد پر ایس ایچ او کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کارروائی کی، مگر مبینہ طور پر نشاندہی میں غلطی ہوئی اور پولیس مطلوبہ مکان کے بجائے اٹارنی جنرل کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئی۔ بعدازاں متعلقہ اہلکار معطل ہوئے، مقدمہ درج ہوا اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔
یہ واقعہ بظاہر ایک انتظامی غلطی معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے قانونی، انتظامی اور سماجی اثرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔
پاکستان میں روزانہ درجنوں پولیس چھاپے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کبھی میڈیا کی زینت نہیں بنتے کیونکہ متاثرہ افراد عام شہری ہوتے ہیں۔
دیہی علاقوں سے لے کر بڑے شہروں تک یہ شکایات عام ہیں کہ پولیس ملزم کی عدم موجودگی میں اس کے والدین، بھائیوں یا دیگر اہلِ خانہ کو تھانے لے جاتی ہے، خواتین اور بچوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے، املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور بعد میں یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے کہ غلط فہمی ہو گئی تھی۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ دہشت گردی، منشیات، اغوا اور منظم جرائم جیسے چیلنجز میں بعض اوقات لمحوں کا فیصلہ اہم ہوتا ہے۔ مگر یہی دلیل قانون سے انحراف کا جواز نہیں بن سکتی۔
جدید پولیسنگ کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر کارروائی معلومات کی تصدیق، قانونی اجازت اور پیشہ ورانہ منصوبہ بندی کے بعد کی جائے۔
لاہور کے واقعے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر انٹیلی جنس اطلاع موجود تھی تو کیا اس کی آزادانہ تصدیق بھی کی گئی؟ کیا متعلقہ مکان کی شناخت ایک سے زائد ذرائع سے کی گئی؟ کیا چھاپہ مارنے والی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر دوبارہ تصدیق کی؟
اگر ان تمام مراحل پر عمل کیا گیا تھا تو غلطی کیوں ہوئی اور اگر نہیں کیا گیا تو ذمہ داری صرف ایک ایس ایچ او تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورا نگرانی کا نظام سوالوں کی زد میں آ جاتا ہے۔
سابق آئی جی پنجاب انعام غنی کا یہ مؤقف قابلِ توجہ ہے کہ کسی بھی ایس ایچ او کو اپنے علاقے میں موجود اہم شخصیات کے گھروں سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ پولیس رولز کے تحت کسی بھی ریڈ سے پہلے آن لائن منظوری، آپریشنل منصوبہ بندی، روزنامچہ اندراج اور بعد از کارروائی رپورٹنگ لازمی ہے۔ اگر یہ تمام تقاضے پورے کیے گئے تھے تو پھر غلط مکان تک پہنچنے کی گنجائش کیسے پیدا ہوئی؟
اصل مسئلہ صرف ایک غلط چھاپہ نہیں بلکہ پولیس کلچر بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کامیاب افسر وہ سمجھا جاتا ہے جس کی سختی اور خوف کے چرچے ہوں، حالانکہ ترقی یافتہ معاشروں میں بہترین پولیس افسر وہ تصور کیا جاتا ہے جس پر عوام اعتماد کریں، جس کی کارروائیاں قانون کے مطابق ہوں اور جس کے فیصلے عدالت میں بھی برقرار رہیں۔
پولیس اصلاحات کی بحث پاکستان میں نئی نہیں۔ 2002ء کے پولیس آرڈر سے لے کر بعد کی مختلف اصلاحاتی تجاویز تک متعدد بار کوشش کی گئی کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد، جدید اور عوام دوست بنایا جائے، مگر ہر حکومت کے ساتھ اصلاحات کا سفر بھی ادھورا رہ گیا۔
نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی ایک طرف پولیس وسائل کی کمی، سیاسی دباؤ اور افرادی قلت کا شکار ہے، جب کہ دوسری طرف عوام اس کے رویوں سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پولیس ریفارمز کو صرف تقاریر کا موضوع نہ بنایا جائے بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔ ہر چھاپہ مار کارروائی کے دوران باڈی کیمرے لازمی قرار دیے جائیں، انٹیلی جنس اطلاعات کی دوہری تصدیق کو قانون کا حصہ بنایا جائے، غیر قانونی کارروائی پر فوری محکمانہ اور عدالتی احتساب یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق پولیس اہلکاروں کی مسلسل تربیت کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ پولیس میں بھرتی، تبادلوں اور ترقی کے نظام کو بھی مکمل طور پر میرٹ سے منسلک کرنا ہوگا تاکہ پیشہ ورانہ قابلیت ہی کامیابی کا معیار بنے، نہ کہ خوف اور طاقت کا تاثر۔
اس واقعے نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے۔ اگر یہ چھاپہ کسی عام شہری کے گھر پر پڑتا تو شاید نہ یہ خبر بنتی، نہ مقدمہ درج ہوتا اور نہ ہی معطلیاں ہوتیں۔ یہی وہ احساسِ محرومی ہے جو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے۔ قانون کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اس کا اطلاق طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں ہو۔
لاہور کا یہ واقعہ وقتی طور پر ایک غلط فہمی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اسے محض ایک انفرادی غلطی سمجھ کر نظرانداز کرنا مستقبل میں مزید ایسے واقعات کی راہ ہموار کرے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کو ایک مثال بنایا جائے، ذمہ داروں کا شفاف احتساب ہو اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کی روشنی میں پولیس کے نظام کو مزید مؤثر، پیشہ ورانہ اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس کے اختیار میں نہیں بلکہ اس اختیار کے منصفانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ جب پولیس قانون کے دائرے میں رہ کر شہری کے دروازے پر دستک دے گی تو عوام اسے محافظ سمجھیں گے، لیکن اگر وہ دیواریں پھلانگ کر گھروں میں داخل ہوگی تو اعتماد کی وہ دیوار بھی گر جائے گی جس پر کسی بھی مہذب ریاست کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔







