سلطنت وسطی کیا ہے منگ اور چنگ خاندان کی حکومت میں ایسا کیا تھا جو چین دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ 

 سلطنت وسطی صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ثقافتی و سیاسی برتری کا دعویٰ بھی ہے 

کہ اردگرد موجود ہرریاست کو اپنے زیراثر رکھا جائے۔ 

آج اگر مغربی دنیا  چین کے عروج کو صرف سرد جنگ کے بعد پیدا ہونے والے خالی پن کے تناظر میں دیکھتی ہے، تو وہ ایک بڑی تاریخی غلطی کر رہی ہے۔ 

 چین کی موجودہ عالمی حکمتِ عملی محض ایک جدید ریاست کی پالیسی نہیں، بلکہ  ایک ایسی تہذیب کی تعمیرِ نو کا منصوبہ ہے، جو اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

معروف مورخ پال کینڈی لکھتے ہیں کہ کسی بھی عظیم طاقت کے سیاسی اورفوجی استحکام کے پیچھے اصل طاقت اس کی معیشت ہوتی ہے۔  تاریخ میں بڑی سلطنتوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ  اپنے وسائل سے زیادہ فوجی پھیلاؤ تھا لیکن ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس دفعہ چین تاریخ سے سیکھ کر آیا ہے۔ اس لیے وہ روایتی فوجی توسیع کے بجائے  معیشت کے پیچیدہ جال کے ذریعے دنیا کو اپنی مٹھی میں کر رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ چین 4 روزہ دورے پر روانہ، سی پیک کے دوسرے مرحلے پر’ اہم پیشرفت‘ متوقع

ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ریلوے لائنوں، بندرگاہوں اور لاجسٹکس نیٹ ورکس سے جوڑ کر، چین ایک ایسا عالمی نظام تخلیق کر رہا ہے جہاں تمام راستے بیجنگ سے جڑے ہونگے۔ 

 ایسا لگتا ہے کہ چین پال کینڈی کے بتائے گئے راستے پر چلنے کا فیصلہ کر چکا ہے کہ اصل طاقت صرف بندوق کے زور پر نہیں، بلکہ عالمی  معیشت پر قبضہ کر کے منوائی جا سکتی ہے۔

ادھر سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے چینی اسٹریٹجک سوچ کا  بہترین خلاصہ بتایا ہے وہ کہتے ہیں کہ امریکی سوچ "شطرنج" کے کھیل کی طرح ہے۔ جہاں مقصد سیدھے ٹکراؤ اور شاہ مات پر ہوتا ہے وہیں چین کی حکمتِ عملی ان کے روایتی کھیل ویچی کی طرح ہے۔

ویچی کا مقصد حریف کے مہروں کو براہِ راست مارنا نہیں، بلکہ بورڈ کے خالی حصوں پر آہستہ آہستہ قبضہ جما کر حریف کا گھیراؤ کرنا اور اس کی نقل و حرکت کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ 

آج بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزائر پر فوجی چھاؤنیاں بنانا ہو یا تائیوان پر مسلسل نفسیاتی اور فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہو، یا آسیان ممالک کو معاشی انحصار کے جال میں جکڑنا ہو چین اسی ویچی کی اسٹریٹجک منطق کے تحت کام کر رہا ہے۔ وہ امریکہ سے براہِ راست جنگ کیے بغیر، اس کے اتحادیوں اور راستوں کو اپنے زیراثر لا رہا ہے۔

موجودہ چینی صدر شی چن پنگ نے 2017 میں ایک ہدف مقرر کیا کہ ’’سال 2049 تک چین کو ایک "جدید اشتراکی طاقتور ملک" بنانا ہے۔

 یہ صرف ایک ہدف نہیں بلکہ عالمی نظام کی قیادت سنبھالنے کا ایک باقاعدہ اعلان ہے۔

اس بیانیے کا سب سے اہم حصہ ’’چینی طرز کی جدید کاری"  ہے۔ (جاری ہے)

تحریر: اظہر تھراج