بچے کا معائنہ کیا اور اس کے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں پوچھا، تو جو حقیقت سامنے آئی وہ افسوسناک تھی ۔معلوم ہوا کہ اس معصوم کو دن میں تین بار کولڈ ڈرنک اور تین بار آئس کریم دی جا رہی تھی، یعنی 24 گھنٹوں میں چھ بار اس کے نازک دانتوں پر چینی اور تیزاب کا خوفناک حملہ کروایا جا رہا تھا۔
محترم والدین آپ سے گزارش ہے کہ جسے آپ لاڈ، پیار یا بچے کی ضد پورا کرنا سمجھتے ہیں، دراصل وہ بچوں کے ساتھ نادانستہ دشمنی ہے۔ تین سال کے بچے کے دودھ کے دانت بہت نرم اور حساس ہوتے ہیں۔
جب انہیں دن میں چھ بار میٹھی اور تیزابی اشیاء میں ڈبو کر رکھا جائے، تو دانتوں کی حفاظتی تہہ پگھل جاتی ہے اور اندر کی نسیں خراب ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس معصوم کے دانتوں میں شدید انفیکشن ہو چکا تھا اور وہ چبھن اور درد سے تڑپ رہا تھا۔
آج کے دور میں دانتوں کی بیماریاں اور مسوڑھوں کا درد ایک ایسی خاموش وبا بن کر ابھرا ہے، جس کی زد میں معصوم بچوں سے لے کر بزرگوں تک، ہر عمر کے افراد آ چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر پھیلاؤ کے باوجود ہمارے معاشرے میں دانتوں کی صحت کو بری طرح نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اس بحران کی جڑیں ہماری روزمرہ کی عادات میں چھپی ہیں۔ دانتوں کی صفائی ستھرائی سے متعلق شعور کی کمی، برش کرنے کے غلط طریقے اور دانتوں کی دیکھ بھال کے معمولات کو عام سمجھنا اور اس پہ توجہ نہ دینا اور اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
ہماری جدید طرزِ زندگی اور ناقص غذا اور دانتوں کی بیماریوں کو فروغ دیتی ہیں۔ میٹھی اشیاء، ٹافیاں، کاربونیٹیڈ مشروبات (کولڈ ڈرنکس) اور ڈبوں میں بند (ٹیٹرا پیک) جوسز کا بے دریغ استعمال دانتوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
تمباکو، چھالیہ، پان، گٹکا اور سگریٹ کا کثرت سے استعمال منہ کی صحت کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ عادات دانتوں پر کیلکولس (پلاک کی سخت تہہ) جما دیتی ہیں، جو بعد میں شدید انفیکشن کا باعث بنتی ہے۔
جب بھی ہم کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں، تو منہ میں موجود بیکٹیریا اس چینی کے ساتھ مل کر ایک ایسا تیزاب بناتے ہیں جو اگلے 20 منٹ تک دانتوں کی حفاظتی تہہ پر مسلسل حملہ آور رہتا ہے۔
دن بھر وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے سے دانت مسلسل تیزابی ماحول میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسوڑھے خراب ہو جاتے ہیں، دانتوں میں پیپ (پھوڑے) پڑنے لگتی ہے اور انسان مسوڑھوں کی دائمی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
خراب دانت صرف منہ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ پورے جسم اور دماغ کو مفلوج کرنے میں ایک خاموش مجرم کا کردار ادا کرتے ہیں۔
زیادہ چینی کا استعمال جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے، جو آگے چل کر ذیابیطس، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
جب منہ اور جسم میں تیزابیت بڑھتی ہے، تو جسم اس تیزاب کو بے اثر کرنے کے لیے ہڈیوں اور دانتوں سے کیلشیم کھینچنا شروع کر دیتا ہے، جس سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔
جدید طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ منہ کے خطرناک بیکٹیریا خون کی گردش کے ذریعے دل تک پہنچ کر دل کی سنگین بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
یہ بیکٹیریا اور انفیکشن دماغی دھند کا باعث بنتے ہیں جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، جلد پر دانے (مہاسے) اور وقت سے پہلے بڑھاپے کے اثرات بھی اسی وجہ سے ظاہر ہو سکتے ہیں۔
بچوں میں شوگر کی زیادتی ان کے مزاج کو چڑچڑا بنا دیتی ہے اور وہ ہائپر ایکٹیویٹی یعنی ضرورت سے زیادہ اچھل کود اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ احتیاط اور صحیح معلومات پر عمل کرنا ہے۔ دانتوں کو محفوظ رکھنے کے چند سنہری اصول یہ ہیں کہ دن میں دو بار (خاص طور پر صبح ناشتے کے بعد اور رات کو سونے سے پہلے) باقاعدگی سے برش کیا جائے۔
دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے باریک ذرات کو نکالنے کے لیے دھاگے کا استعمال کریں، جہاں برش کا پہنچنا ناممکن ہوتا ہے۔
چائے، کافی، دودھ یا کوئی بھی کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی سے اچھی طرح کلی کریں تاکہ سانس کی بدبو اور بیکٹیریا کا خاتمہ ہو سکے۔
اگر آپ کو دانتوں میں معمولی سا درد یا چبھن بھی محسوس ہو، تو اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ فوراً کسی مستند ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) سے رجوع کریں۔
یاد رکھیں، بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا آپ کو مستقبل کی بڑی پیچیدگیوں، شدید درد اور مہنگے علاج سے بچا سکتا ہے۔







