16 اگست کو، یومِ آزادی کے جشن کی گونج ابھی مدھم بھی نہیں ہوگی کہ جماعتِ اسلامی کے کارکن سڑکوں پر ہوں گے۔ امیر جماعت حافظ نعیم الرحمان کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ طے پایا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کے احترام میں 9 اگست کی بجائے یہ دھرنا 16 اگست کو دیا جائے گا۔
یہ کوئی ایک شہر کی کہانی نہیں، بیک وقت چاروں صوبوں میں دھرنے دیے جائیں گے۔ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے، جبکہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز کے باہر کارکن بیٹھیں گے۔ ایک ہی دن، چار مختلف محاذ ۔۔۔۔ گویا احتجاج کو ایک ہی وقت میں پورے ملک کے چار کونوں تک پھیلا دیا جائے۔
اور مطالبہ؟ نہ کوئی آئینی بحران، نہ کوئی رہائی کا مطالبہ بلکہ وہ مسئلہ جو ہر پاکستانی گھر کی باورچی خانے کی میز پر بیٹھا ہے: پیٹرولیم کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی۔ حافظ نعیم الرحمان کا فلسفہ سادہ اور دو ٹوک ہے: "احتجاج سڑکوں پر ہی ہوتا ہے، گھروں میں نہیں۔" انہوں نے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ آنے کی دعوت دی، مگر جماعتِ اسلامی کی اپنی سوچ واضح ہے۔ ماضی کے سیاسی اتحاد بارآور ثابت نہیں ہوئے، اس لیے بہتر ہے ہر جماعت اپنے دم پر میدان میں اترے۔
یہ ایک منظم، یکسو اور محدود دائرہ کار کی تحریک ہے۔ ایک دن کا دھرنا، ایک واضح معاشی مطالبہ، اور ایک پارٹی جو اپنی صفوں میں اتفاقِ رائے رکھتی ہے۔
اب رخ کرتے ہیں پشاور کی طرف، جہاں سے ایک بالکل مختلف نوعیت کی تحریک جنم لینے والی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے اعلان کیا کہ پارٹی قیادت اور اتحادیوں کی مشاورت کے بعد پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ مارچ ایک دن کا نہیں، بلکہ کئی دنوں پر محیط ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی معاشی مطالبہ نہیں، بلکہ سیاسی وجود کی جنگ ہے۔ شفیع جان کے بقول، بانی چیئرمین عمران خان کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے مسدود ہو چکے ہیں اور لانگ مارچ اب کارکنوں کا "آخری آپشن" ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پشاور سے بیس لاکھ افراد کے ساتھ روانگی ہوگی۔ ایک ایسا ہندسہ جو خود بذاتِ خود ایک سیاسی بیانیہ ہے۔
مگر یہاں کہانی میں ایک دراڑ نظر آتی ہے۔ جہاں جماعتِ اسلامی کے فیصلے میں یکسوئی ہے، وہیں پی ٹی آئی کے اندر خود اتفاقِ رائے مکمل نہیں۔ کے پی حکومت کے دعوؤں کے برعکس، پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے کھلے عام کہا کہ انہیں اس فیصلے کا پیشگی علم ہی نہیں تھا۔ سوشل میڈیا پر "27 ستمبر لانگ مارچ ناقابلِ قبول" کا ہیش ٹیگ بھی گردش کرنے لگا یعنی جس مارچ کا اعلان اتحاد اور طاقت کے مظاہرے کے طور پر کیا گیا، اسی کی بنیاد میں اندرونی اختلاف کی دراڑ بھی موجود ہے۔
اگر ان دونوں تحریکوں کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو فرق واضح ہو جاتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کی تحریک زمین سے جڑی ہے۔ یعنی مہنگائی، جو ہر پاکستانی کی جیب پر اثرانداز ہوتی ہے، اور اس کا دائرہ کار محدود، منظم اور صوبائی سطح پر ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی تحریک براہِ راست اقتدار کے مرکز اسلام آباد کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مطالبہ ایک فرد کی رہائی اور آئین کی بحالی سے جڑا ہے، اور جس کی راہ میں خود پارٹی کے اندر سے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی ایک فرد کی جنگ لڑرہی ہے جبکہ جماعت اسلامی 25 کروڑ شہریوں کا مقدمہ پیش کررہی ہے، صورتحال عیاں ہے فیصلہ واضح ہے۔
ایک احتجاج کی نوعیت دباؤ کی سیاست کی ہے۔ قیمتیں کم کرو، ورنہ سڑکیں بند رہیں گی۔ دوسرا محاصرے کی سیاست کی۔ دارالحکومت تک پہنچو، چاہے راستہ کتنا ہی طویل اور غیریقینی کیوں نہ ہو۔
اگست اور ستمبر، دونوں مہینے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے والے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ باب مذاکرات پر ختم ہوتا ہے، یا ٹکراؤ پر۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







