اس ڈرامے کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس کے ہدایت کار ابو علیحہ ہیں، جنہوں نے اپنے عملی سفر کا آغاز صحافت سے کیا اور بعد ازاں فلم اور ڈرامہ سازی میں قدم رکھا۔ بطور صحافی انہوں نے معاشرتی مسائل کو قریب سے دیکھا، ان کا مشاہدہ کیا اور انہی تجربات کو اپنی تخلیقات میں سمویا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کام میں محض تفریح نہیں بلکہ ایک واضح سماجی پیغام بھی موجود ہوتا ہے۔
"بھنور" کی کہانی ردا بلال نے تحریر کی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جو بظاہر جدید ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے، لیکن اس کے اثرات خاندان، معاشرے، قانون اور انسانی نفسیات تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ آج ڈیجیٹل دنیا میں ایک کلک کسی انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔
بطور صحافی میرے لیے اس ڈرامے کا ایک پہلو انتہائی اہم اور خوش آئند ہے۔ شاید پہلی مرتبہ پاکستانی ڈرامہ سیریل میں ایک صحافی کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو محض خبر دینے والا نہیں بلکہ سچ کی تلاش میں معاشرے کے ایک بڑے مسئلے سے ٹکراتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ڈراموں میں پولیس، وکیل، ڈاکٹر یا کاروباری شخصیات مرکزی کردار میں نظر آتی ہیں، لیکن صحافت جیسے اہم شعبے کو اس انداز میں نمایاں مقام کم ہی ملا ہے۔
یہ کردار صرف ایک فرد کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اس صحافت کی علامت ہے جو دباؤ، دھمکیوں اور مشکلات کے باوجود سچ کو سامنے لانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فیک نیوز، پروپیگنڈا اور سوشل میڈیا کی یلغار نے صحافت کے کردار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ایسے میں ایک تحقیقاتی صحافی کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا ایک مثبت اور معنی خیز قدم ہے۔
"بھنور" صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل شعور پیدا کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ یہ ناظرین کو احساس دلاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی جہاں بے شمار آسانیاں لے کر آئی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال نے معاشرے کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل اور خواتین کے لیے یہ موضوع نہایت اہم ہے، کیونکہ سائبر جرائم کی بڑی تعداد انہی طبقات کو متاثر کرتی ہے۔
ابو علیحہ کی ہدایت کاری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ حساس موضوعات سے گریز نہیں کرتے۔ ان کی سابقہ فلموں اور منصوبوں میں بھی سماجی، تاریخی اور انسانی پہلو نمایاں رہے ہیں، جبکہ "بھنور" میں انہوں نے موجودہ دور کے ایک ایسے مسئلے کو موضوع بنایا ہے جس پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
اس ڈرامے کی کامیابی صرف ریٹنگ یا مقبولیت میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان اس ڈرامے کو دیکھ کر اپنی آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط برتنے لگے، اگر کوئی خاندان اپنے بچوں کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ پر گفتگو شروع کر دے، یا اگر کوئی متاثرہ شخص خاموش رہنے کے بجائے قانونی مدد لینے کا فیصلہ کرے، تو یہی اس ڈرامے کی اصل کامیابی ہوگی۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو ایسے موضوعات کی ضرورت ہے جو معاشرے کی حقیقی مشکلات کی عکاسی کریں۔ "بھنور" اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی دکھائی دیتا ہے۔ یہ صرف ایک سنسنی خیز کہانی نہیں بلکہ ہمارے عہد کے ان مسائل کی تصویر ہے جن سے ہر روز ہزاروں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
بطور صحافی مجھے اس بات پر خوشی بھی ہے اور حیرت بھی کہ آخرکار پاکستانی ڈرامے میں صحافی کو مرکزی کردار کے طور پر وہ اہمیت دی گئی ہے جس کا وہ مستحق تھا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے ڈرامے سامنے آئیں گے جو صحافت، تحقیق، قانون اور سماجی شعور کے مثبت کردار کو اجاگر کریں گے۔ اگر "بھنور" اس روایت کا آغاز ثابت ہوتا ہے تو یقیناً یہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی۔
تحریر: کامران اشرف
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







