میری خواہش تھی کہ اس موضوع پر گفتگو ہو مگر کسی پر ذاتی یا اجتمائی تنقید نہ کی جائے، لیکن حسبِ معمول دیکھا کہ ہمارے تحریکِ انصاف کے دوستوں نے اسرائیل، امریکا یا ڈونلڈ ٹرمپ کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے دینی جماعتوں ہی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

دوسری طرف یہی لوگ وزیراعظم شہبازشریف اوراُن کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات پر تنقید کرتے رہے، جیسے کہ یہ کوئی انتہائی گھناؤنا عمل ہو۔ ٹرمپ سے ملاقات پر اعتراض وہی لوگ کر رہے ہیں جو کبھی اسی ٹرمپ سے ملاقات کو ورلڈ کپ جیتنے جیسی کامیابی قرار دیتے تھے۔ اور برسوں اس بات پر خوش رہے کہ ٹرمپ ہیرو کو دوست کہتا ہے ٹرمپ کی بیوی خان کو للچائی نظروں سے دیکھتی ہے۔ 

خان ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتا ہے  پھر اس عمران کی رہائی کی پے در پے ناکام  تحریکوں کے بعد خدا کے بجائے ٹرمپ سے امید لگا بیٹھے۔  گزشتہ سال نومبر کے انتخابات سے قبل پوری مسلم کمیونٹی کا اجتماعی فیصلہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ مسلم مخالف امیدوارہیں، لہٰذا انہیں ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ تیسر پارٹی کو ووٹ دیا جائے لیکن اس موقع پر صرف مشی گن کے چجر مسلمان اور ایک کمیونٹی نے کھلے عام ٹرمپ کی حمایت اور چندے کا اعلان کیا — وہ تھی پاکستانی کمیونٹی، جس میں  تحریکِ انصاف کے حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

امریکا کی مختلف مساجد سے لے کر گھروں تک ٹرمپ کے لیے مہم چلائی گئی، کیمپ لگانے، ترانے بجانے اور چندہ اکٹھا کرنے کی تجاویز تک دی گئیں۔ نیویارک میں تو اس کی فتح پر جشن تک منایا گیا۔ پاکستان سے لیے کر امریکا تک ٹرمپ پر یہ امید باندھ لی کہ وہ آتے ہی عمران خان کو رہا کرا دے گا۔ ۔

اسی دوران، ہمارے تحریکِ انصاف کے دوستوں نے امریکا میں جو حرکات کیں، ان کا کوئی حساب لینے والا نہیں۔ کون سا صہیونی یا اسرائیل نواز رکنِ کانگریس ہے جس کے دروازے پر انہوں نے دستک نہ دی ہو — 

برَیڈ شرمن سے لے کر چک شومر تک سب کے سامنے جھکنے گئے۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مگر اخلاقی طور پر متنازع ساتھی رچرڈ گرنل تک کے تلوے چاٹنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

یہی رچرڈ گرنل، جو اعلانیہ ہم جنس پرست تھا، اُس سے ہمارے چند پاکستانی لیڈروں نے مدد کی بھیک مانگی۔ شہباز گل سے لے کر معید پیرزادہ تک، سب نے اس کے دروازے پر شکایتیں پہنچائیں۔

آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر مظاہرے کیے گئے تاکہ پاکستان کی امداد رکوانے کی قرارداد پیش کروا  کر حکومت کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ یہ وہی لوگ تھے جو انسانی حقوق کے نام پر قراردادیں پیش کرواتے تھے — انہی ارکان سے جو خود فلسطین میں انسانیت کے قاتل اسرائیل کے سب سے بڑے حمایتی ہیں۔

پہلے تو یہ دعویٰ کیا گیا کہ جیسے ہی انتخابات کے نتائج آئیں گے، سب سے پہلا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمران خان کی رہائی کا ہوگا۔

مگر جب ایسا نہ ہوا تو ٹی وی پر متعدد رہنماؤں نے تسلی دی کہ حلف اٹھاتے ہی ٹرمپ صاحب خان صاحب کی رہائی کا اعلان کریں گے۔

مزید پڑھیں: غزہ کا معاملہ حل ہونے جارہا ہے؟

یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا — 20 جنوری گزر گیا، اور اس کے بعد ہر مہینے کی گیارہ تاریخ کو نئے سرے سے امید بندھ جاتی کہ شاید آج کا دن “وہ دن” ہو گا۔

یہاں تک کہا گیا کہ خان صاحب کی رہائی کے لیے ٹرمپ کے گھرانے میں نقب لگا دی گئی ہے — اُن کی بہو، داماد اور قریبی دوستوں کے ذریعے راستہ ہموار کر لیا گیا ہے، اور کسی بھی وقت امتِ

مسلمہ کے “عظیم ترین رہنما” کی رہائی کا اعلان ہو جائے گا۔

حتیٰ کہ حالیہ ٹرمپ ملاقات کے موقع پر بھی، ہمارے انصافی بھائیوں کے دلوں میں یہی امید جاگ رہی تھی کہ شاید ٹرمپ صاحب اسی موقع پر خان صاحب کے معاملے کو اٹھا دیں گے۔

اور گزشتہ دنوں تو خان صاحب کے دونوں بیٹوں نے بھی یہی امید ٹرمپ سے وابستہ کر لی۔

ایسے میں  انصاف کے رہنماؤں میں سے کوئی ایک بھی شخص — نہ معید پیرزادہ، نہ شہباز گل، نہ قاسم سوری — اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بول سکا، نہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف، نہ ہی مظلوم فلسطینیوں کے حق میں۔

میں عمران خان صاحب کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر تو مبارک باد دی، دنیا کا کون سا موضوع نہں چھوڑا، کرکٹ اور محسن نقوی سے موسم تک مگر گزشتہ ایک سال سے نہ فلسطین کے حق میں کوئی بیان دیا، نہ اسرائیلی مظالم کے خلاف۔ جب ان کے حامیوں سے سوال کیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ خان صاحب مجبوراورلاچار ہیں۔ لیکن یہی “مجبور” خان صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ “میری ہر ٹوئٹ میں خود کرتا ہوں”۔

رپورٹس کے مطابق، گزشتہ دو سال میں ان کی ملاقاتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہے، جن میں تین سو سے زیادہ ان کی بہنوں کے ساتھ ہیں جو ہر میسج باہر پہنچاتی ہیں۔

مگر پورے سال میں اسرائیل ٹرمپ کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں کوئی بیان باہر نہ آسکا۔ اس دوران حیرت انگیز طور پرآئی ایم ایف معاہدے اور پاک سعودی معاہدے کی حمایت بھی کی گئی یہ سب کچھ دیکھ کر سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسے لوگ دوسروں کو منافق کیسے کہہ سکتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تحریکِ انصاف دوبارہ سیاسی طور پر ابھرے، الیکشن جیتے، اور نظام میں مثبت کردارادا کرے، مگر جھوٹ، الزام اور منافقت پر مبنی بیانیہ ناقابلِ قبول ہے۔


امریکا میں ان کے کتنے رہنما فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شریک ہوئے؟ کتنے لوگوں نے فلسطینی شہداء کے لیے ایک جملہ کہا؟

پاکستان میں بھی یہی حال ہے — جب جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد جیسے لوگ فلسطین کے لیے میدان میں نکلے، تو تحریکِ انصاف کے کسی نمائندے نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر روز مشتاق صاحب سے ہمدردی کی درجنوں پوسٹ موجود ہوتی ہیں وہ بھی صرف شرارت میں مجھے یقین ہے کہ تحریکِ انصاف کے عام کارکنوں کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں، مگر محبت کا تقاضا اظہار چاہتا ہے۔ آپ نے فلسطین کے نام پر صرف مذہبی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو طعنے دیے، مگر خود عملی طور پر کہاں کھڑے ہیں؟

جو لوگ ستر برس سے فلسطین کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر تنقید اور طنز کر کے آپ دراصل صہیونیوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار بھی یہ لکھ رہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت کو جماعتِ اسلامی جیسی پرو فلسطین تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے — مگر ہمارے یہ دوست اسے بھی مذاق سمجھتے ہیں۔

خدارا! اس ذہنی بیماری اور سیاسی منافقت سے نکلیں۔

اور حکومت بھی یہ جان لے کہ اگر وہ فلسطین جیسے مقدس مقصد سے غداری کرے گی، تو شاید وقتی طور پر کامیاب ہو جائے، مگر دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی اس کا مقدر بنے گی۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر معوذ اسد صدیقی کی فیس بک وال سے لی گئی ہے، تحریر میں بیان کیے گئے ذاتی خیالات سے ’پاکستان میٹرز‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر