سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، یہ رائے سازی کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ ایک وائرل ویڈیو لمحوں میں ہیرو کو ولن اور ولن کو ہیرو بنا دیتی ہے۔ کبھی غصہ بھڑکایا جاتا ہے، کبھی ہمدردی جگائی جاتی ہے، اور کبھی خوف پھیلا کر ذہنوں کو مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل، جو پہلے ہی شناخت، مستقبل اور روزگار کے سوالات میں الجھی ہوئی ہے، اس ڈیجیٹل طوفان میں مزید کنفیوژن کا شکار ہو رہی ہے۔

حکومتی پابندیاں اس مسئلے کا ایک اور رخ ہیں۔ کہیں انٹرنیٹ کی بندش، کہیں مواد پر قدغن، کہیں اظہار پر قدغن۔ نیت کچھ بھی ہو، نتیجہ اکثر یہ نکلتا ہے کہ شکوک مزید بڑھ جاتے ہیں۔ جب معلومات کا دروازہ بند ہوتا ہے تو افواہیں کھڑکیوں سے اندر آ جاتی ہیں۔ جب سوال پوچھنے کی آزادی محدود ہو تو سازشی نظریات پنپنے لگتے ہیں۔ یوں سچ دب جاتا ہے اور جھوٹ کے لیے میدان ہموار ہو جاتا ہے۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا دیکھ رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کس تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ الگورتھم ہماری پسند کو ہماری قید بنا دیتے ہیں۔ جو ہم ایک بار دیکھتے ہیں، وہی ہمیں بار بار دکھایا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ یہی پوری دنیا کی رائے ہے۔ اس ڈیجیٹل گونج میں مختلف نقطہ نظر دب جاتے ہیں، اور سوچ کا دائرہ سکڑتا چلا جاتا ہے۔

اس صورتحال میں سب سے بڑا نقصان تنقیدی سوچ کا ہوتا ہے۔ جب ہر بات جذبات کے زور پر پیش کی جائے تو عقل پیچھے رہ جاتی ہے۔ آنسوؤں، غصے اور سنسنی کی یہ معیشت سچ سے زیادہ ردعمل کو فروخت کرتی ہے۔ نوجوان اکثر جانے انجانے میں ایسے بیانیوں کا حصہ بن جاتے ہیں جو کسی اور کے مفاد کی تکمیل کر رہے ہوتے ہیں۔

لیکن تصویر کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ یہی سوشل میڈیا شعور، سوال اور سچ کی تلاش کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، اگر اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اصل ضرورت میڈیا لٹریسی کی ہے، یعنی یہ سیکھنا کہ خبر کو کیسے پرکھا جائے، ذریعہ کیسے چیک کیا جائے، اور جذباتی مواد سے کیسے فاصلہ رکھا جائے۔ اسکولوں، جامعات، والدین اور خود نوجوانوں کو مل کر یہ مہارتیں فروغ دینا ہوں گی۔

سچ اور جھوٹ کے درمیان یہ جنگ صرف اسکرین پر نہیں لڑی جا رہی، یہ ہمارے ذہنوں میں ہو رہی ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ریلز کے بہاؤ میں بہتے رہیں گے یا رک کر سوچیں گے، سوال اٹھائیں گے، اور حقیقت کو تلاش کریں گے۔ شاید آزادی صرف اظہار کی نہیں، بلکہ سوچ کی بھی ہونی چاہیے۔