فرانسیسی ریفری فرانسوا لیٹیکسیئر (François Letexier) کے چند فیصلوں نے نہ صرف ایک اعصاب شکن مقابلے کا رخ موڑ دیا، بلکہ فٹبال کی دنیا کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ مبصرین ہیں جو اسے چھوٹے ممالک کے خلاف  بڑی ٹیموں کا تعصب  (Big-Team Bias) قرار دے رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ قانون پسند ہیں جو تکنیکی بنیادوں پر ریفری کے فیصلے کو سو فیصد درست مانتے ہیں۔

کھیل کا وہ موڑ جہاں تنازع نے جنم لیا

میچ کا اصل ڈراما اس وقت شروع ہوا جب مصر نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ارجنٹائن کو دباؤ میں لیا۔ میچ کے 62 ویں منٹ میں مصر کے مصطفیٰ زیکو نے گیند کو نیٹ میں ڈال کر اسکور 2-0 کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ارجنٹائن ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا اور مصری شائقین جشن منا رہے تھے۔ لیکن اچانک وی اے آر (VAR) حرکت میں آیا۔

ریفری نے اسکرین پر جا کر دیکھا کہ گول سے کافی دیر پہلے، پچ کے دوسرے کونے پر مصر کے مروان عطیہ نے ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹنیز کو فاؤل کیا تھا۔ ریفری نے گول منسوخ کر دیا۔ یہاں سے میچ کا پورا رخ بدل گیا۔ ارجنٹائن نے کم بیک کیا، اسکور 2-2 ہوا اور پھر 92 ویں منٹ میں وہ ہوا جس نے مصریوں کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ ارجنٹائن کے ڈی باکس میں محمد صلاح کو مبینہ طور پر الیکس میک الیسٹر نے پیچھے سے کھینچ کر گرایا۔ مصر نے پنالٹی کی اپیل کی، ریفری نے کھیل جاری رکھا، اور اسی کاؤنٹر اٹیک پر ارجنٹائن نے جا کر میچ کا فیصلہ کن اور تیسرا گول داغ دیا۔

مصری کوچ حسام حسن کا شدید غم و غصہ: "یہ فٹبال کی موت ہے"

الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق میچ کے بعد پریس کانفرنس میں مصر کے لیجنڈری سابق کھلاڑی اور موجودہ ہیڈ کوچ حسام حسن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے انہوں نے ریفری اور فیفا کے نظام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:

"آج جو کچھ ہوا، وہ فٹبال کی روح کا قتل ہے۔ اگر آپ کو صرف بڑی ٹیموں اور بڑے ناموں کو ہی اگلے مرحلے میں لے کر جانا ہے، تو ہم جیسی ٹیموں کو ورلڈ کپ میں بلانے کا ڈھونگ کیوں رچایا جاتا ہے؟" 

انہوں نے مزید کہا کہ "مصر کا دوسرا گول سو فیصد قانونی تھا کیونکہ فاؤل اور گول کے درمیان کھیل کا تسلسل بدل چکا تھا۔ لیکن ریفری نے ارجنٹائن کو بچانے کے لیے بال کی کھال نکالی۔ دوسری طرف جب محمد صلاح کو واضح طور پر گرایا گیا، تو ریفری نے VAR کی اسکرین کی طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھا ۔ یہ کھلا دوہرا معیار ہے اور ہم اس ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے" 

عالمی میڈیا اور مبصرین کی کڑی تنقید:  دوہرا معیار 

برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا پر فٹبال کے بڑے ناموں نے اس ریفرینگ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انگلینڈ کے سابق مایہ ناز اسٹرائیکر ایلن شیئرر نے ایک جملے میں پوری بحث کا احاطہ کرتے ہوئے کہا، "یا تو دونوں فاؤل تھے یا دونوں ہی نہیں تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ VAR ہر چھوٹے فیصلے پر دوبارہ ریفرینگ نہیں کرے گا، لیکن یہاں بالکل الٹ ہوا"۔

اسی طرح اسکائی اسپورٹس کے مقبول مبصر جیمی کیراگھر نے کھل کر کہا کہ اگر یہ میچ دنیا کی کسی بڑی لیگ (پریمیئر لیگ یا لا لیگا) میں ہو رہا ہوتا تو مصر کا گول کبھی منسوخ نہ ہوتا، کیونکہ قانون کے مطابق گول اور فاؤل کے درمیان پلے کا تسلسل بہت طویل ہو چکا تھا۔ سابق فٹبالر ایان رائٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جب آپ ایک طرف اتنا پرانا فاؤل ڈھونڈ کر گول منسوخ کر سکتے ہیں، تو پھر دوسری طرف محمد صلاح جیسے بڑے کھلاڑی کو پچ پر گرائے جانے پر آپ نے VAR کی مدد لینا بھی گوارا کیوں نہیں کیا؟

دنیا بھر کے اخبارات، بشمول الجزیرہ اور رائٹرز نے اپنی رپورٹس میں لکھا ہے کہ اس میچ نے فٹبال شائقین کے دلوں میں یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ فیفا اور ریفریز دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ٹورنامنٹ کی مارکیٹنگ، ویورشپ اور لیونل میسی جیسے بڑے برانڈز کو ٹورنامنٹ میں زندہ رکھنے کے لیے ارجنٹائن جیسے بڑے ممالک کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

ریفری کا دفاع: قانون کیا کہتا ہے؟

جہاں ایک طرف جذبات اور غصے کا طوفان ہے، وہیں فٹبال کے چند سنجیدہ کالم نگاروں اور ریفرینگ کے ماہرین نے فرانسوا لیٹیکسیئر کا دفاع بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ری پلے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مصری کھلاڑی مروان عطیہ نے مارٹنیز کی قمیض کھینچی تھی اور ان کے پاؤں پر پاؤں رکھا تھا، جو کہ فٹبال کے قوانین کے تحت سو فیصد فاؤل ہے۔

چونکہ یہ فاؤل اسی پلے (Build-up) کا حصہ تھا جس کے نتیجے میں مصر نے گول اسکور کیا، اس لیے فیفا کے موجودہ قوانین کے تحت VAR کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ وہ ریفری کو مطلع کرے اور گول منسوخ کیا جائے۔ ان مبصرین کا خیال ہے کہ ریفری نے دباؤ کے باوجود قانون کے مطابق بالکل درست فیصلہ کیا، چاہے وہ مصر کے لیے کتنا ہی بے رحم کیوں نہ ہو۔

فٹبال کی روح اور ٹیکنالوجی کا تصادم

ارجنٹائن بمقابلہ مصر میچ اب ریفرینگ کی تاریخ کے چند متنازع ترین میچوں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ مصری فٹبال ایسوسی ایشن (EFA) نے فیفا کو باقاعدہ شکایت درج کروا کر ریفری کی معطلی کا مطالبہ کر دیا ہے [الجزیرہ, رائٹرز]، لیکن میچ کا نتیجہ اب نہیں بدلے گا۔

یہ میچ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی (VAR) فٹبال کی خوبصورتی اور اس کے قدرتی بہاؤ کو ختم کر رہی ہے؟ جب ٹیکنالوجی کا استعمال غیر مستقل ہو—یعنی ایک ٹیم کے لیے بال کی کھال نکالی جائے اور دوسری ٹیم کے لیے واضح فاؤل پر بھی آنکھیں بند کر لی جائیں—تو کھیل کی شفافیت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ ارجنٹائن کو مبارکباد، لیکن مصر کے شائقین کا یہ درد دیر تک محسوس کیا جائے گا کہ ان سے ایک تاریخی فتح قانون کی باریکیوں اور ریفری کی مبینہ جانبداری کی نذر کر کے چھین لی گئی

تحریر: کامران اشرف 

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر