پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، سفری اخراجات اور توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاؤں نے عام شہری سمیت کاروباری افراد کی زندگی بھی پہلے سے مشکل بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں ہر شخص کیلئے اپنے ضلع یا حلقے میں جا کر ووٹ ڈالنا ممکن نہیں رہا۔
مثال کے طور پر شاید میں خود بھی اپنے حلقے جا کر ووٹ نہ ڈال سکوں، بس سوشل میڈیا پر اپنے پسندیدہ امیدوار کی حمایت کرتا نظر آؤں گا مگر عملی طور پر ووٹ استعمال نہیں کر پاؤں گا۔ جیسا کہ 2015, 2020  کے انتخابات میں ووٹ نہیں دے سکا تھا۔
 یہ صرف میری نہیں بلکہ ہزاروں ایسے شہریوں کی صورتحال ہے جو گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں مگر روزگار تعلیم یا دیگر وجوہات کی بنا پر بڑے شہروں میں مقیم ہیں۔ دنیا جدید انتخابی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کئی ممالک میں پوسٹل ووٹنگ، ریموٹ پولنگ اور ای ووٹنگ جیسے نظام کامیابی سے چل رہے ہیں، مگر ہم آج بھی روایتی اور فرسودہ انتخابی ڈھانچے سے نکلنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔
 حلقے سے باہر مقیم افراد کا بھی مکمل آئینی (جی بی سے آئین کا کیا تعلق۔۔ خیر) اور جمہوری حق ہے کہ وہ اپنے ضلع، شہر یا حلقے کے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے سکیں۔

جس طرح سرکاری ملازمین اور مخصوص اداروں سے وابستہ افراد کو پوسٹل ووٹ کی سہولت حاصل ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں میں مقیم عام شہریوں کو بھی یہ حق ملنا چاہئے۔ حکومت پاکستان  کو چاہئے کہ کم از کم پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر گلگت، سکردو، لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ریموٹ پولنگ بوتھ یا خصوصی پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں تاکہ دوسرے شہروں میں مقیم ووٹرز بھی باآسانی اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

ریموٹ پولنگ بوتھ نہ صرف شہریوں کو سہولت دیں گے بلکہ گلگت بلتستان میں ووٹر ٹرن آؤٹ میں بھی واضح اضافہ ہوگا۔ کیونکہ ایسے ہزاروں شہری آج بھی عملی طور پر اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہیں۔

تحریر: بشارت عابدی

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر