یہ الفاظ جنتر منتر احتجاج میں آئی ایک لڑکی کے ہیں جو روایتی میڈیا کی حقیقت کو سمجھ چکی ہے۔ یہ صرف ایک بھارتی ناری کے نہیں جین زی کی اکثریت ایسا ہی سمجھتی ہے۔
انڈیا بھر میں ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاع عام ہے، یہ وہی میڈیا ہے جس نے اسلام آباد اور لاہور میں بندرگاہیں دکھادی تھیں۔ یہ اصطلاح کیوں اور کس کے لیے استعمال کی جاتی ہے؟
گودی میڈیا کی اصطلاح بھارتی صحافتی و سیاسی حلقوں میں کافی مقبول ہو چکی ہے، مگر یہاں پاکستان میں بہت سارے ادارے ہیں جن کے لیے یہ الفاظ استعمال کیا جاتا ہے۔ بات انڈیا کی ہورہی ہے تو ہم انڈیا تک ہی محدود رہیں گے۔
"گودی میڈیا" ہندی لفظ "گود" سے نکلی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "گود میں بیٹھا میڈیا" یعنی انگریزی محاورے "lapdog media" کے مترادف ہے۔ یہ اصطلاح بھارتی صحافی روش کمار نے وضع اور مقبول کی، جس سے وہ متعصب بھارتی پرنٹ اور ٹی وی نیوز میڈیا کو بیان کرتے ہیں جو 2014 سے اقتدار میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی کھلی حمایت کرتا ہے۔
روش کمار نے یہ اصطلاح ایسے میڈیا چینلز پر تنقید کے لیے استعمال کی جو حکومت کے نگہبان (watchdog) کا کردار ادا کرنے کے بجائے اس کے وفادار "lapdog" بن گئے ہیں، خاص طور پر 2014 کے بعد یہ لفظ 2018 میں خاصا مقبول ہوا جب کئی صحافیوں نے عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر ایسے چینلز کے خلاف احتجاج کیا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی بڑے میڈیا اداروں کا تعلق براہِ راست بی جے پی سے وابستہ شخصیات سے ہے، مثلاً اوڈیشہ ٹی وی کی ملکیت بی جے پی کے قومی نائب صدر کے خاندان کے پاس ہے، جبکہ شمال مشرقی بھارت کا مشہور چینل نیوز لائیو، آسام کے بی جے پی وزیراعلیٰ کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔
ناقدین اسے میڈیا کیپچر (media capture) کی ایک شکل قرار دیتے ہیں، جہاں سیاسی و کارپوریٹ مفادات صحافتی آزادی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور طاقت کے ساتھ وفاداری کو سچائی اور عوامی خدمت پر ترجیح دی جاتی ہے۔
ناقدین اکثر ری پبلک ٹی وی، آج تک، انڈیا ٹی وی اور ری پبلک بھارت جیسے چینلز اور ان کے مخصوص اینکرز کا حوالہ دیتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ چینلز حکومتی بیانیے کو زیادہ جگہ دیتے ہیں جبکہ اپوزیشن یا تنقیدی آوازوں کو کم اہمیت۔
روش کمار کا اپنا تجربہ اکثر بطور مثال پیش کیا جاتا ہے، 2016 میں دہشت گردی کے واقعے کی کوریج پر "قومی سلامتی سے سمجھوتہ" کرنے کے الزام میں این ڈی ٹی وی انڈیا کو 24 گھنٹے کے لیے آف ایئر کر دیا گیا تھا، جس کے بعد این ڈی ٹی وی اور اس کے بانیوں کو کئی ٹیکس چھاپوں، عدالتی مقدمات اور اشتہاراتی آمدنی میں کٹوتیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ اصطلاح بنیادی طور پر حکومت کے ناقدین، اپوزیشن، اور مخصوص صحافتی حلقوں کی طرف سے استعمال ہوتی ہے، بی جے پی اور اس کے حامی اسے ایک متعصبانہ یا سیاسی طور پر محرک لیبل سمجھتے ہیں جسے بائیں بازو یا اپوزیشن نواز حلقے حکومت کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
میڈیا کیپچر کا مسئلہ بھارت میں صرف ایک سیاسی نظریے تک محدود نہیں؛ تاریخی طور پر بھارتی میڈیا مختلف سیاسی و کارپوریٹ مفادات کے زیرِ اثر رہا ہے، اور حکومتی حامی بعض اوقات تنقید کے جواب میں "whataboutism" کا سہارا لیتے ہیں یعنی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں کے دور میں بھی میڈیا جانبدار رہا۔
بھارت میں آزاد میڈیا ہاؤسز اور صحافی (جیسے دی وائر، اسکرول، این ڈی ٹی وی کے سابق عملے) بھی موجود ہیں جو حکومت پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا یکسر یک طرفہ نہیں بلکہ اس میں تنوع پایا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ "گودی میڈیا" ایک متنازع سیاسی اصطلاح ہے ، ناقدین کے نزدیک یہ بھارتی میڈیا کی حکومت کے سامنے جھکاؤ کی درست عکاسی کرتی ہے، جبکہ حکومتی حامی اسے سیاسی مخالفت کا ایک ہتھیار سمجھتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں بھی یہ اصطلاح اکثر بھارت مخالف تناظر میں استعمال ہوتی ہے، خاص طور پر پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا کی کوریج پر تنقید کے لیے۔
تحریر: اظہر تھراج
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







