مقامی قبائلی سرداروں اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کی شمولیت اسے ایک پیچیدہ معاملہ بناتی ہے۔ ایک طرف یہ سرنڈری امن کی طرف ایک قدم سمجھی جا رہی ہے، تو دوسری طرف اسے علاقائی جاگیرداری نظام اور ذاتی مفادات کے کھیل کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
شکارپور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ڈکیتی اور جرائم کی سرگرمیاں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ خطہ کئی دہائیوں سے قبائلی جھگڑوں، جاگیرداری نظام اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے بدنام رہا ہے۔
ڈاکوؤں کی سرگرمیاں نہ صرف مقامی آبادی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان حالات میں 72 ڈاکوؤں کی سرنڈری کو ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کے محرکات اور نتائج پر گہری نظر ڈالنا ضروری ہے۔
اس سرنڈری میں قبائلی سرداروں اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ سردار نہ صرف سرنڈری کے عمل میں شریک تھے بلکہ انہوں نے اسے ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کا کردار واقعی امن کے قیام کے لیے ہے یا اس کے پیچھے ان کے ذاتی مفادات کارفرما ہیں؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سردار ڈاکوؤں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، چاہے وہ قبائلی جھگڑوں میں برتری حاصل کرنا ہو یا سیاسی اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا۔ سرنڈری کے اس عمل کو وہ اپنی مقبولیت اور حمایت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جب کہ اصل مسائل جیسے کہ جاگیرداری نظام، غربت اور تعلیم کی کمی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جاگیرداری نظام سندھ کے دیہی علاقوں میں ایک گہرا جڑ پکڑے ہوئے سماجی اور معاشی ڈھانچہ ہے۔ یہ نظام نہ صرف معاشی ناہمواری کو بڑھاتا ہے بلکہ جرائم کو بھی فروغ دیتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری کے شکار نوجوان آسانی سے ڈاکو گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس روزگار کے متبادل مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
سردار اور جاگیردار اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ڈاکوؤں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور بدلے میں انہیں اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ جب حالات ان کے حق میں ہوں یا انہیں سیاسی فائدہ نظر آئے، تو وہ انہی ڈاکوؤں کو سرنڈر کروا کر اپنی "امن پسندی" کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔
اس سرنڈری کے موقع پر حکومتی اداروں کی کارکردگی بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ اگرچہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عمل کی نگرانی کی، لیکن یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ سرنڈری مستقل امن کی طرف ایک قدم ہے یا محض ایک عارضی ڈرامہ؟
ماضی میں بھی ایسی سرنڈریاں ہوتی رہی ہیں، لیکن چند ماہ بعد ڈاکو یا تو دوبارہ جرائم کی طرف لوٹ جاتے ہیں یا نئے گروہ ابھرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جرائم کی جڑیں، یعنی غربت، بے روزگاری اور جاگیرداری نظام، کو ختم کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی جاتی۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے جاگیرداری نظام کو کمزور کرنے کے لیے زمینی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ زمین کی منصفانہ تقسیم سے نہ صرف معاشی ناہمواری کم ہوگی بلکہ لوگوں کو جرائم کی طرف جانے سے روکا جا سکے گا۔ دوسرا تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔
شکارپور جیسے علاقوں میں تکنیکی تربیت اور چھوٹے پیمانے پر صنعتی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کو جرائم سے دور رکھا جا سکتا ہے۔ تیسرا قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔ قبائلی سرداروں اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
مزید برآں ڈاکوؤں کی بحالی کے لیے ایک جامع پروگرام کی ضرورت ہے۔ سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے کے لیے انہیں پیشہ ورانہ تربیت، مالی امداد اور سماجی قبولیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر انہیں معاشرے کا فعال حصہ نہ بنایا گیا تو وہ دوبارہ جرائم کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنے کے لیے شفاف اور منصفانہ نظام ضروری ہے۔ لوگوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ سرنڈری صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ امن کی طرف ایک حقیقی قدم ہے۔
شکارپور میں 72 ڈاکوؤں کی سرنڈری ایک اہم واقعہ ہے، لیکن اسے تنہا کسی بڑی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب تک جاگیرداری نظام، غربت اور سیاسی مفادات کے گٹھ جوڑ کو ختم نہیں کیا جاتا، اس طرح کے واقعات عارضی رہیں گے۔
حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور مقامی رہنماؤں کو مل کر ایک ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی جو نہ صرف جرائم کو روکے بلکہ ان کی جڑوں کو بھی ختم کرے۔ صرف اسی صورت میں شکارپور جیسے علاقوں میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
یہ سرنڈری ایک موقع ہے کہ خطے کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور انہیں حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو یہ علاقہ ایک بار پھر وہی پرانا کھیل دیکھے گا، جہاں سردار اپنے مفادات کے لیے ڈاکوؤں کو استعمال کرتے رہیں گے اور عوام بدستور مسائل کی دلدل میں پھنستے رہیں گے۔ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان کو استحکام نصیب فرمائے۔ آمین







