جنوبی ایشیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش تینوں ممالک میں نوجوان ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
انڈیا نے آئی ٹی انقلاب میں اپنا نام بنایا تو آج کئی بڑے انڈین نام دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
لیکن انڈیا کے پاس بھی اپنی اے آئی پالیسی واضح نہیں ۔
اور پاکستان تو اس میدان میں ابھی بہت پچھے کھڑا ہے۔
پاکستان کے پاس مواقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیو پالیٹیکس: مصنوعی ذہانت نہیں تو کچھ بھی نہیں؟
لیکن چیلنجز زیادہ ہیں۔
ڈیٹا پرائیویسی کا کوئی قانون نہیں۔ اے آئی پالیسی کا کوئی واضح فریم ورک نہیں۔ سیمی کنڈکٹرانڈسٹری صفر ہے۔ یونیورسٹیوں میں اے آئی ریسرچ انتہائی محدود ہے۔
لیکن اگر پاکستان تعلیمی نظام میں اے آئی کو بنیادی مضمون بنائے، چین اور ترکیہ کے ساتھ ریسرچ سینٹرز قائم کرے، اور اردو جیسی مقامی زبانوں کے لیے جدید این ایل پی ماڈلز تیار کرے، تو پھر یہ ممکن ہے کہ اگلی دہائی میں پاکستان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اے آئی کے شعبے میں ایک نیا باب لکھے۔ یاد رکھیں، جو آج سرمایہ کاری کرے گا، وہ کل کی ٹیکنالوجی پر حکمرانی کرے گا۔
تو سوال یہ نہیں کہ کیا پاکستان اے آئی میں قیادت کر سکتا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس موقع کو ضائع ہونے دے گؒا یا آج سے قدم اٹھائے گا؟
اگرپاکستان صرف تماشائی رہا تواس نئی ڈیجیٹل نوآبادیاتی نظام میں پھنس جائے گا۔ اپنی مرضی کے نہیں، دوسروں کے الگورتھم کے تابع ہوجائے گا۔
تاریخ میں بلکل واضح ہے کہ جیو پولیٹیکل طاقت کسی ایک رات میں نہیں بدلتی لیکن جو قوم آج فیصلہ کرتی ہے، وہی کل تاریخ لکھتی ہے۔
پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے راستہ واضح ہے۔
اے آئی کی تعلیم ابتدائی سطح سے لازمی بنائیں۔ ڈیٹا پرائیویسی کے فوری قوانین بنائیں۔ علاقائی تعاون کریں۔ اوپن سورس اے آئی کی تحریک کی حمایت کریں تاکہ اے آئی کسی ایک ملک یا کمپنی کی محتاج نہ رہے۔ اور سب سے اہم نوجوانوں کو صرف اے آئی استعمال کرنے والا نہیں، اے آئی بنانے والا بنائیں۔
کیونکہ تاریخ کا خلاصہ ہے۔
دنیا کی قیادت وہی کرے گا جو علم کے میدان میں امامت کرے گا یعنی اے آئی کے میدان کا فاتح اگلی سپر پاور ہوگا۔ آپ کے خیال میں اب دنیا کی قیادت کون کرے گا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







