آج جب مشینیں سوچنےلگی ہیں تو یہ سوال ایک دفعہ پھر ابھر رہا ہے۔
اگلی طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی؟
انسانی تاریخ کا خلاصہ اگر ایک لائن میں لکھے تو کچھ یوں ہوگا کہ دنیا کی امامت وہی کرتا ہے جو علم کے میدان میں قیادت کرے۔
تاریخ نے ہمیشہ یہ سکھایا ہے کہ جو قوم علم کے میدان میں برتری حاصل کرتی ہے پھر وہی دنیا کی قسمت لکھتی ہے۔
اورآج اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں وہ علمی برتری ہے اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس۔
آج سوال یہ نہیں کہ اے آئی دنیا بدلے گا یا نہیں ۔
اصل سوال یہ ہے کہ اے آئی کی مدد سے دنیا پر حکمرانی کون کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین بولے گا اور دنیا سنے گی (قسط 1)
اگر تاریخ کے آئینے میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب برطانیہ نے بھاپ کا انجن بنایا تو اس کی مدد سے جلد ہی وہ دنیا کی عالمی طاقت بن گیا جب ایٹم بم آیا تو دنیا کی قیادت کا سہرا سویت یونین اور امریکہ کے سر سجا۔
آج ان سب سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک ہتھیار اے آئی کی صورت میں موجود ہے۔
اوردنیا میں ہر ملک کے لیے یہ اہم ہتھیار بن چکا ہے ابھی حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ہم نے دیکھا کہ کیسے اے آئی کی مدد سے ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا۔
آج دنیا اے آئی کے میدان میں ہر لمحہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں سرگرم ہے۔
امریکہ اس وقت چیٹ جی پی ٹی گروک اوپن اے آئی کلاڈ اور کئی ماڈلز جبکہ چین کی جانب سے ڈیپ سیک مون سائیٹ بائڈو جیسے کئی ماڈلز پر بھاری انویسمنٹ کی جا رہی ہے ، ادھرروس بھی اس میدان کی قیادت کرنے کے لیے بےتاب نظر آتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف — مستقبل کیسا ہوگا؟۔
اگر ہم ماضی اور آج کے حالات کو دیکھیں، تو آنے والے وقت میں ان باتوں کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین بولے گا اور دنیا سنے گی (قسط ٢)
اگر امریکہ یا چائنا میں سے کوئی ایک ٹیکنالوجی کی دنیا میں فیصلہ کن برتری حاصل کرتا ہے تو سال2050 تک دنیا پر صرف ایک ہی ملک راج کرے گا۔ لیکن اس بار یہ راج فوج کے ذریعے نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے ذریعے ہوگا۔ دنیا بھر کے بینک، ہسپتال، اسکول اور دفاعی نظام اسی ملک کی کمپنیوں کے کمپیوٹر پروگرامز ہی چلائیں گے۔ یہ ایک ایسی خاموش اور گہری جنگ ہوگی جس میں ہتھیاروں کے بجائے کمپیوٹر سسٹمز کا استعمال ہوگا۔
جبکہ اگر کسی فریق کو فیصلہ کن برتری حاصل نہ ہوئی تواس بات کا امکان سب سے زیادہ ہے کہ دنیا دو بڑے حصوں میں بٹ جائے۔ ایک طرف امریکی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سسٹمز ہوں گے، تو دوسری طرف چین کا اپنا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سسٹمز ہوں گے۔ پاکستان سمیت دنیا کے باقی تمام ممالک کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ پرانی سرد جنگ جیسا ہی ہوگا، بس فرق یہ ہوگا کہ اس بار مقابلہ ایٹمی ہتھیاروں کا نہیں بلکہ اعصابی نیٹ ورک اور کمپیوٹر کی رفتارکا ہوگا۔
لیکن توایک منظرنامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یورپ، انڈیا، برازیل اور افریقہ جیسے ممالک اپنے اپنے کمپیوٹر سسٹمز بنائیں گے۔ اوپن سورس اے آئی کو فروغ ملے گا، جس کی وجہ سے کوئی ایک ملک یا کمپنی پوری دنیا کے دماغ اور معلومات پر قبضہ نہیں کر سکے گی۔
یہ سب سے بہترین مستقبل ہے، لیکن اس کے لیے چھوٹے ممالک کو آپس میں متحد ہونا پڑے گا، جو کہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے کافی مشکل نظر آتا ہے۔
اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو ہر ٹیکنالوجی نے جنگ کے میدان کو مزید ہولناک بنایا ہے جبکہ اے آئی کا مستقبل بھی کچھ ایسا ہی نظرآ رہا ہے، دنیا جہاں جنگی ہتھیاروں کو اے آئی کی مدد سے مزید خطرناک بنا رہی ہے۔
وہیں ڈکٹیکٹر اور نیم جمہوری معاشرے اس کا استعمال بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں کر رہے ہیں، تاریخ میں ایک بحث ہمیشہ رہی ہے؟ کیا ٹیکنالوجی جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے یا آمریت کو؟
انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں ماہرین نے کہا یہ آزادی کا ہتھیار ہے۔ عرب بہار نے اسے ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ مصر، لیبیا میں سوشل میڈیا نے انقلاب کو منظم کیا۔
لیکن پھر کچھ اور بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: جیو پالیٹکس: مصنوعی ذہانت نہیں تو کچھ بھی نہیں؟ (آخری قسط)
چین نے دی گریٹ فائروال بنائی اور انٹرنیٹ کو اندر سے قابو میں کر لیا۔ روس نے سوشل میڈیا کو جھوٹی خبروں کا میدان بنایا۔ اور 2016 میں امریکی انتخابات میں اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈا نے جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا دیا۔
آج اے آئی آمروں کا سب سے طاقتور ہتھیار بن گیا ہے۔
فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی جو آج بیجنگ کی سڑکوں پر ہے، کل ماسکو میں ہوگی، پرسوں کراچی اور لاہور میں بھی ہو سکتی ہے۔
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی جو کسی بھی لیڈر کی جھوٹی ویڈیو بنا سکتی ہے، کسی بھی خبر کو حقیقت جیسا بنا سکتی ہے۔ اوردنیا میں ہر جگہ سیاست کے اندر اے آئی سے تیار مواد کا استعمال دیکھا گیا۔
کیا جمہوریت اس حملے کا سامنا کر سکتی ہے؟
شاید لیکن صرف اسی صورت میں جب جمہوری معاشرے اے آئی کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اتنی ہی تیزی سے آگے بڑھیں جتنی تیزی سے یہ ٹیکنالوجی خود آگے بڑھ رہی ہے لیکن یہ بہت مشکل شاید ناممکن ہے ۔
جاری ہے۔۔۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







