دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں آج یہ بحث ہو رہی ہے کہ نوجوانوں کو زیادہ جلد سیاسی عمل کا حصہ کیسے بنایا جائے۔ برطانیہ میں کئی برسوں سے ووٹنگ ایج 16 سال کرنے پر بحث جاری ہے۔ اسکاٹ لینڈ نے 2014 کے ریفرنڈم میں 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کو ووٹ دینے کا حق دیا تھا۔ آسٹریا 2007 میں قومی سطح پر ووٹنگ ایج 16 سال کرنے والا پہلا یورپی ملک بنا۔ برازیل، ارجنٹینا اور ایکواڈور میں بھی 16 یا 17 سال کے نوجوان محدود یا مکمل حقِ رائے دہی رکھتے ہیں۔ ان ممالک کی دلیل سادہ ہے، اگر نوجوان ریاست کے قوانین، معیشت، ٹیکس نظام اور پالیسیوں کے اثرات برداشت کرتے ہیں تو انہیں فیصلے میں شریک بھی ہونا چاہیے۔

بھارت نے 1988 میں اپنی آئینی ترمیم کے ذریعے ووٹنگ ایج 21 سے کم کر کے 18 سال کی تھی۔ اس وقت بھارتی حکومت کا مؤقف تھا کہ نوجوان آبادی کو سیاسی دھارے میں شامل کرنا جمہوریت کو مضبوط کرے گا۔ آج دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں ووٹ کی عمر 18 سال ہے۔ یعنی عالمی رجحان سیاسی شرکت کو وسیع کرنے کا ہے، محدود کرنے کا نہیں۔ پاکستان میں اگر ووٹنگ ایج بڑھانے کی بات ہوتی ہے تو یہ سوال لازمی اٹھتا ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ 18 سال کا نوجوان شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے، ملازمت کر سکتا ہے، کاروبار شروع کر سکتا ہے، ٹیکس دے سکتا ہے، بینک اکاؤنٹ کھول سکتا ہے، سوشل میڈیا پر قانونی ذمہ داری قبول کر سکتا ہے، حتیٰ کہ مسلح افواج یا دیگر ریاستی اداروں میں خدمات انجام دے سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی نوجوان ووٹ ڈالنا چاہے تو اچانک اس کی “سیاسی بلوغت” پر سوال کیوں اٹھ جاتا ہے؟

یہ تضاد صرف قانونی نہیں، فکری بھی ہے۔ اگر ریاست کسی فرد کو معیشت کا حصہ مانتی ہے تو اسے جمہوریت کا حصہ ماننے سے انکار کیوں؟ اگر نوجوان مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی بحران اور پالیسیوں کے نتائج بھگتنے کے لیے بالغ ہیں تو حکومت بنانے یا بدلنے کے فیصلے میں شریک ہونے کے لیے نابالغ کیسے ہو سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان ووٹر بدل چکا ہے۔ وہ صرف خاندان یا برادری کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتا۔ وہ سوال پوچھتا ہے، پالیسیوں کا موازنہ کرتا ہے، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے سیاسی بیانیوں کو چیلنج کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان ووٹر اب روایتی سیاست کے لیے ایک “غیر متوقع عنصر” بن چکا ہے۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں روایتی نعروں اور شخصیات کے ذریعے ووٹ حاصل کر لیتی تھیں، لیکن آج کا نوجوان روزگار، آزادیِ اظہار، معیشت، گورننس اور احتساب پر سوال اٹھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انمول پنکی کیس: میڈیا، سوشل میڈیا کیسے جرم کا نصاب تیار کررہا ہے؟

شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔ پاکستان میں آبادی کا بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ ایسے میں اگر نوجوانوں کی سیاسی شمولیت کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک کی سب سے بڑی آبادی کو فیصلہ سازی سے دور کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، بلکہ نمائندگی کا نظام ہے۔ اور اگر سب سے بڑی اکثریت خود کو نمائندگی سے محروم محسوس کرے تو سیاسی نظام کمزور ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی شعور صرف عمر سے نہیں آتا۔ دنیا کی تاریخ میں کئی نوجوان تحریکوں نے معاشروں کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ طلبہ تحریکیں، سول رائٹس موومنٹس، آمریت مخالف جدوجہد، ماحولیاتی تحریکیں، سب میں نوجوان آگے رہے۔ پاکستان کی اپنی تاریخ بھی اس سے خالی نہیں۔ 1968 کی تحریک سے لے کر حالیہ برسوں کی ڈیجیٹل سیاسی بیداری تک، نوجوان سیاست کے مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ کہنا کہ 18 سال کا نوجوان “سمجھدار ووٹ” نہیں دے سکتا، دراصل یہ فرض کر لینا ہے کہ عمر کے ساتھ سیاسی دانش خود بخود آ جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ دنیا میں لاکھوں ایسے ووٹر موجود ہیں جو عمر میں بڑے ہونے کے باوجود غلط معلومات، جذبات یا تعصبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ جمہوریت کبھی بھی “کامل ووٹر” کے تصور پر قائم نہیں رہی۔ جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ ہر بالغ شہری کو رائے دینے کا حق حاصل ہو، چاہے اس کی رائے دوسروں سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔

پاکستان میں ووٹنگ ایج بڑھانے کی کوئی بھی کوشش نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کرے گی کہ ریاست ان کی آواز سے خوف زدہ ہے۔ اس سے سیاسی بیگانگی بڑھے گی، اعتماد کم ہوگا، اور نوجوان رسمی سیاست سے مزید دور ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا نوجوانوں کو پارلیمنٹ، پالیسی سازی اور جمہوری اداروں میں جگہ دینے کی بات کر رہی ہے، پاکستان میں حقِ رائے دہی محدود کرنے کی سوچ ایک الٹا سفر محسوس ہوتی ہے۔

جمہوریت کی اصل طاقت اختلاف کو برداشت کرنے میں ہوتی ہے، اختلاف کو محدود کرنے میں نہیں۔ ووٹر کم کرنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی، کمزور ہوتی ہے۔