یہ حالت صرف خانیوال کے اللہ دتہ کی نہیں ۔ بہاولنگر کے ارسلان اور چولستان کے عاصم، اللہ ڈیوایا بھی یہی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ اوکاڑہ کے فرید اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رمضان کا بھی یہی رونا ہے۔
کپاس کم ترین نرخوں پر خریدی گئی تو گندم بھی اونے پونے حاصل کی گئی، آلو، گنا سب اتنی قیمت پر خریدے گئے کہ کسانوں کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوئے۔
ہم نے دیکھا کہ جب بھی کوئی فصل تیاری کے مراحل میں ہوتی ہے تو کسانوں کو بہت جتن کرنے پڑتے ہیں، گرمی ہو یا سردی موسم کی پروا کیے بغیر کاشکاراپنے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ٹھٹھرتی سردیوں میں جب پالیسی ساز گرم کمبلوں میں میٹھی نیند کے مزے لے رہے ہوتے ہیں توایک کسان کپاس کی فصل کو پانی دے رہا ہوتا ہے۔ جب کپاس خریدنے کی باری آتی ہے تو اس کو ایسی قیمت ملتی ہے کہ ہوش اڑ جاتے ہیں ۔
اسی طرح گنّا جب شوگر ملز کو فروخت کیا جاتا ہے تو قیمت نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے اورجب کرشنگ سیزن ختم ہوتا ہے تو چینی مہنگی کردی جاتی ہے جیسا کہ آج کل روز قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ شوگرملیں خریدے گئے گنے کی کئی ماہ تک ادائیگی ہی نہیں کرتیں، یہی حال گندم اور دیگر فصلوں کا ہے۔ کبھی کبھی تو قدرت کی طرف سے آزمائش کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔ پکی پکائی فصل کو یا تو سیلاب بہا لے جاتا ہے یا پھر ژالہ باری کام دکھا جاتی ہے۔ جیسا کہ آج کل حالات ہیں۔ پاکستان انڈیا بارڈر سے لے کر جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ تک پانی نے تباہی مچائی ہے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی کے ساتھ اتنی بے حسی کیوں؟ کسان جب اناج اور سبزی لے کرشہر میں آتا ہے تو پولیس کے سپاہی سے لے کر آڑھتی تک سب لوٹتے ہیں۔ اناج کی قیمتیں تو اپنی جگہ جب ایک مویشی پال کسان سارا سال جانور پالتا ہے اور سال میں ایک دن یعنی عید قربان پر انہیں بیچنے کی کوشش کرتا ہے کہ شاید اس طرح کچھ خرچہ نکل آئے۔
مزید پڑھیں: ٹی ایل پی بحران: حکومت یا سعد رضوی، ذمہ دار کون ہے؟
اُس وقت بھی سارے ٹی وی چینل اور اخبارات آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ اس سال جانور بہت مہنگے ہوگئے ہیں۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ کسان سارا سال قربان ہوتا ہے ایک دن باقی لوگ قربانی دے دیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟
ایک بار پھر کسان سڑکوں پر نکل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ گندم 35 سو روپے من خریدی جائے جبکہ کسان 55 سو روپے من پر بضد ہیں، بقیہ فصلوں کے نرخ بھی بڑھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کھادوں کی قیمتیں بھی اس وقت کاشتکاروں کی پہنچ سے باہرہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بارے میں معروف ہے کہ ’سب کی ماں‘ ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان سے درخواست ہے کہ آپ نے سیلاب کے دوران کے سب کے حالات تو دیکھے ہیں، ان کے گرے گھروں کا بھی مشاہدہ کیا ہے، کبھی کھیت میں کام کرتے کسان کے پاس جائیے، اس کے ساتھ ٹک ٹاک بنائیے۔
کسان آج بھی کھیت میں ایک بنیان اور لنگی پہنے ننگے پاؤں کھڑا ہے اُس کی اولادیں وہیں کھیتوں میں رل رہی ہیں جب کہ اس کی کپاس کے سوداگر درجنوں ٹیکسٹائل ملز لگا چکے ہیں۔
بڑی اچھی بات ہے کہ پنجاب بھر میں سڑکوں کے جال بچھائے جارہے ہیں، چین کے تعاون سے شہر خوبصورت بنائے جارہے ہیں، دیہات سے مریم صاحبہ کی تصویر والی وردی پہنے خاکروب بھی اچھے لگتے ہیں، سب کچھ کریں، پل بنائیں، بڑی بڑی انڈسٹریاں لگائیں، یہ سب کام کریں۔ لیکن ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کسان ہے جو آپ کی سرد مہری سے مررہا ہے۔ پنجاب کا کسان مررہا ہے، مریم صاحبہ بچاسکتی ہیں تو بچا لیجئے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر






