لیکن نیویارک ٹائمز کی حالیہ تفصیلی رپورٹ نے اس جنگ کا ایک ایسا پہلو بے نقاب کیا ہے جو براہِ راست میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ گہرا اور دیرینہ ہے: اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا برسوں پر محیط وہ خفیہ منصوبہ جس کا مقصد ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو، ممکنہ نظامِ حکومت کی تبدیلی کی صورت میں، نئے ایرانی راہنما کے طور پر تیار کرنا تھا۔

2005 سے 2013 محمود احمدی نژاد ایران کے صدر رہے، جو اسرائیل کی تباہی کے مطالبات، ہولوکاسٹ کے انکار، اور یورینیم افزودگی کے پروگرام کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت، ان کردار اور سخت بیانیے کو مدنظر رکھیں تو انہیں اسرائیل کا ممکنہ اتحادی سمجھنا بظاہر ناقابلِ فہم لگتا ہے۔ مگر رپورٹس تو کچھ اور بتارہی ہیں، نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ موساد نے 2022 کے آس پاس ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ احمدی نژاد اپنی ہی جماعت کے اندر تین بار صدارتی امیدواری سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نظام سے شدید مایوس ہو چکے ہیں۔ یہی مایوسی، اسرائیلی منصوبہ سازوں کی نظر میں، ایک قابلِ استعمال موقع تھی۔

یہ منصوبہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور غزہ جنگ کے دوران عارضی طور پر تعطل کا شکار رہا، مگر بعد میں تیزی سے آگے بڑھا، اور خود موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیعا نے اس کی نگرانی سنبھال لی۔

اس پورے آپریشن کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر علمی و تعلیمی سرگرمی کی آڑ میں انجام دیا گیا۔ ہنگری کی لوڈوویکا یونیورسٹی آف پبلک سروس نے 2024 میں ماحولیاتی تبدیلی پر ایک کانفرنس کے لیے احمدی نژاد کو مدعو کیا۔ یونیورسٹی کے ریکٹر گرگیلی ڈیلی کے بقول، انہیں ایک اعلیٰ ہنگری عہدیدار نے واضح طور پر بتایا تھا کہ یہ دعوت دراصل موساد اور احمدی نژاد کے مابین خفیہ ملاقات کے لیے ایک کور اسٹوری ہے۔ ڈیلی نے، اپنے اور یونیورسٹی کے وقار کو لاحق خطرات کے باوجود، یہ دعوت اس دلیل پر قبول کی کہ دو دشمنوں کے درمیان مکالمہ کروانا بذاتِ خود ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔

اسی موقع پر ڈیوڈ برنیعا نے خود بوداپست جا کر احمدی نژاد سے ذاتی ملاقات کی۔ ایک دوسری ملاقات جون 2025 میں ہوئی، عین اس وقت جب اسرائیل اور امریکا ایران کے خلاف اپنی 12 روزہ فوجی مہم کا آغاز کرنے والے تھے۔

 رپورٹس کے مطابق احمدی نژاد نے اس سفر کے دوران دو مرتبہ اپنے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے محافظوں کو چکما دیا۔ اسرائیل نے مبینہ طور پر ان کی رہائش اور سفری اخراجات کے لیے خفیہ مالی معاونت بھی فراہم کی۔

سب سے دلچسپ پہلو وہ سیاسی وژن ہے جو احمدی نژاد نے اپنے حلقوں میں پیش کیا۔ اس بات کی تصدیق ان کے ساتھیوں نے بھی کی۔ ’وہ خود کو روس کے سابق صدر بورس یلتسن سے تشبیہ دیتے رہے‘۔ ایک ایسی شخصیت جو نظام کے اندر سے ابھری مگر بعد میں اسی نظام کے خاتمے کی علامت بن گئی۔

 ان کے ایک ساتھی کے مطابق، احمدی نژاد کسی غیرملکی طاقت کی مدد سے جنگ یا نظام کی تبدیلی کی صورت میں، ایک "مصلح" (reformer) کا روپ دھار کر اقتدار میں واپسی چاہتے تھے یہاں تک کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ابراہیم اکارڈز کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی حد تک۔

اس تبدیلی کی جھلک ان کی ظاہری شخصیت میں بھی نمایاں ہوئی، روایتی ڈھیلے خاکی جیکٹ کی جگہ سلے ہوئے سوٹ، سنوی ہوئی داڑھی، انگریزی زبان کا سیکھنا، اور سوشل میڈیا پر امریکی ریپ گانوں کے بول پر تبصرے ۔ یہ سب وہ علامات تھیں جنہوں نے بالآخر ان کو آئی آر جی سی کے سامنے مشکوک کر دیا، 2017 میں ٹرمپ کے نام عوامی خط نے تو اس کو مزید مشکوک بنادیا۔

جب امریکا-اسرائیل جنگ کا آغاز ہوا تو اسرائیل نے 28 فروری کو احمدی نژاد کی رہائش گاہ پر ایک محدود حملہ کیا، بظاہر ان کے محافظین اور مسلح گاڑی کو نشانہ بنا کر تاکہ انہیں تہران میں جاری کڑی نگرانی سے آزاد کرایا جا سکے۔ اس کے بعد موساد کے کارندے مبینہ طور پر انہیں ایک خفیہ محفوظ ٹھکانے تک لے گئے۔ مگر رپورٹ کے مطابق، احمدی نژاد خود اس عجلت میں کی گئی "نجات" کی کارروائی سے متاثر نہ ہوئے اور اسرائیلی منصوبے سے بددل ہوتے چلے گئے۔ بالآخر انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ ٹھکانہ چھوڑ دیا۔

یہیں سے ان کا زوال شروع ہوا۔ آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس ونگ نے، اسرائیل سے ان کے روابط کے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد انہیں تحویل میں لے کر نظربند کر دیا۔ حالیہ ہفتے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں وہ محافظوں کے حصار میں نقاب پوش اور بھاری کوٹ میں ملبوس، مختصر طور پر دکھائی دیے۔ جو ان کی موجودہ حیثیت کے بارے میں اب تک کی واحد عوامی جھلک ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کی ناکامی کی کئی وجوہات ہیں، ان میں ایک بڑی وجہ ایران کے اندر موجود سیکیورٹی ڈھانچے کا مستعد ہونا ہے،  آئی آر جی سی نے وقت کے ساتھ احمدی نژاد کے بیرونی روابط کا سراغ لگا لیا، جس کا آغاز 2023 کے گوئٹے مالا ماحولیاتی کانفرنس کے شبے سے ہوا، جو اسرائیل سے قریبی تعلقات رکھنے والا ایک اور ملک ہے۔

دوسری وجہ خود اسرائیل کے اندرونی اختلافات ہیں۔ ہارٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجی خفیہ ادارے کے کئی سینئر افسران شروع ہی سے اس منصوبے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے، خاص طور پر "تنصیب" کے آخری مرحلے پر۔  ان کا مؤقف تھا کہ افراتفری کے دوران پیچیدہ سیاسی نتائج کی پیشگوئی کرنا بنیادی طور پر ایک غیرحقیقت پسندانہ سوچ ہے، اور یہ کہ منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں اسرائیل کی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
تیسری وجہ خود احمدی نژاد کا رویہ ہے، وہ اسرائیلی "نجات" کی کارروائی سے متاثر نہیں ہوئے، جو بتاتا ہے کہ شاید انہیں اقتدار میں واپسی کے لیے اسرائیل پر مکمل بھروسہ نہیں تھا، یا وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ کسی دشمن ملک کی مدد سے اقتدار میں آنے کی صورت میں ان کی سیاسی ساکھ اور اندرونِ ملک قبولیت ناممکن حد تک متاثر ہو جائے گی۔
فروری 2026 کی جنگ محض ایک عسکری تصادم نہیں تھی، ایران نے جوابی کارروائی میں امریکا کے دس اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری ترسیل، بشمول تیل کی سپلائی، بند کر دی، جس سے یہ تنازع پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل گیا۔ اس وسیع تر تباہ کن پسِ منظر میں، احمدی نژاد کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کی حکمتِ عملی محض فوجی نہیں تھی بلکہ اس میں نظامِ حکومت کی تبدیلی کے لیے ایک سیاسی متبادل تیار کرنے کی طویل المدتی سرمایہ کاری بھی شامل تھی، ایک ایسا منصوبہ جو برسوں کی خاموش تیاری اور سفارتی کور (ہنگری کی معاونت) پر منحصر تھا۔
اس واقعے سے کئی اہم سوالات نے جنم لیا ہے جیسا کہ ہنگری کا کردار خود ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔ وکٹور اوربان کی حکومت اسرائیل سے قریبی تعلقات رکھتی ہے، اور نیتن یاہو نے خود اپریل 2025 میں لوڈوویکا یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ ایک یورپی یونین رکن ملک کی جانب سے اپنی تعلیمی درسگاہوں کو خفیہ ایجنسی کے آپریشن کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا، تعلیمی خودمختاری اور سفارتی اخلاقیات دونوں پر سوالیہ نشان ہے۔
دوسرا یہ کہ واقعہ ایران کی داخلی سیاسی نزاکت کو بھی بے نقاب کرتا ہے، ایک سابق صدر، جو کبھی نظام کا سب سے سخت گیر لیڈرتھا، اگر برسوں تک خفیہ طور پر دشمن ریاست سے رابطے میں رہ سکتا ہے، تو یہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود دراڑوں اور عدم اطمینان کی گہرائی کا پتہ دیتا ہے۔
 یہ منصوبہ  چاہے ناکام ہی کیوں نہ رہا ہو  خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے "رجیم چینج" کی مہمات کی اخلاقی اور قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ کسی ملک کے سابق سربراہ کو خفیہ طور پر مالی معاونت، سفارتی کور اور فوجی مداخلت کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش، بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے اصولوں سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر مبصرین کی رائے تقسیم ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ محض روایتی خفیہ سفارت کاری کا حصہ ہے جو ہر بڑی طاقت وقتاً فوقتاً کرتی رہی ہے، جبکہ دوسرے اسے کسی خودمختار ملک کے اندرونی سیاسی عمل میں ناجائز مداخلت قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل کا یہ کرد باغیوں کی ممکنہ بغاوت پر مبنی وسیع تر منصوبہ ناکام ہوا، اور تہران کا نظام، شدید جنگی دباؤ کے باوجود، اپنی گرفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ احمدی نژاد، جو کبھی اسرائیل کی تباہی کے سب سے بڑے حامی تھے، آج اپنے ہی ملک کی انٹیلی جنس کی تحویل میں نظربند ہیں، ایک ایسا انجام جو نہ صرف ان کی ذاتی سیاسی میراث بلکہ خطے کی پیچیدہ اور غیرمتوقع سیاست کی بہترین مثال ہے۔
 جدید جنگیں اب صرف ٹینکوں اور میزائلوں تک محدود نہیں رہیں، یہ اب برسوں پر محیط خفیہ سیاسی سرمایہ کاری، نفسیاتی گرومنگ، اور اندرونی انتشار پیدا کرنے کی حکمتِ عملیوں کا مجموعہ بھی بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے منصوبے، اپنی ناکامی کے باوجود، مستقبل میں خطے کے استحکام پر دیرپا اثرات مرتب کریں گے، یا یہ محض ایک اور ناکام باب کے طور پر تاریخ کے صفحات میں دفن ہو جائیں گے؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں تہران کی اندرونی سیاست اور خطے کی صورتحال ہی دے سکے گی۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر