باپ نے سوچا، قریب ہی تو ہے دکان۔ کیا ہوگا؟ یہ "کیا ہوگا" تین حرفوں کا سوال ہے جو ہمارے معاشرے میں لاکھوں گھروں کی چوکھٹ پر لکھا ہوا ہے  بے پرواہی کی روشنائی سے۔

منتہا گئی، کیمرے نے دیکھا۔ واپس نہیں آئی۔

بس۔ کہانی ختم۔

نہیں، کہانی ختم نہیں ہوئی، کہانی تو اب شروع ہوئی ہے۔ وہ کہانی جو ہم ہر باردہراتے ہیں، ہر بار روتے ہیں، ہر بار بھول جاتے ہیں۔

پولیس آئی۔ مقدمہ درج ہوا۔ ملزم گرفتار ہوئے۔ فرانزک ٹیم بنی۔ رپورٹیں تیار ہوئیں۔ بیانات ریکارڈ ہوئے۔ اخبارات میں خبر چھپی۔ ٹی وی چینلوں نے بریکنگ نیوز چلائی۔ سوشل میڈیا پر غصہ ابلا۔ لوگوں نے پروفائل تصاویر سیاہ کیں۔

اور پھر؟

اگلی خبر آ گئی۔

یہی ہمارا قومی المیہ ہے، ہمارا غم بھی ٹرینڈ کرتا ہے اور ٹرینڈ کی طرح گزر جاتا ہے۔

سماجی تنظیم ایس ایس ڈی او کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی کے 7608 کیسز ریکارڈ ہوئے، یعنی ہر روز اوسطاً 21 بچے زیادتی کا شکار ہوئے۔ 

انگریزی اخبار ڈان میں لکھا ہے کہ ان میں سے 56 کیسز ایسے تھے جن میں جنسی زیادتی کے بعد بچے کو قتل کر دیا گیا۔ کل متاثرہ بچوں میں سے53 فیصد لڑکیاں اور 47 فیصد لڑکے تھے، یعنی یہ مسئلہ صرف بچیوں تک محدود نہیں۔ 

6 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ 

منتہا کو نوچنے والے سرگودھا کے ارسلان اور اس کے ساتھی گرفتار ہیں۔ اچھی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو معاشرہ ایسے ارسلانوں کو پیدا کرتا ہے، جو نظام انہیں پنپنے دیتا ہے، جو خاموشی انہیں حوصلہ دیتی ہے، وہ کب گرفتار ہوگی؟

قانون کا ہاتھ ملزم تک پہنچ گیا۔

مگر ضمیر تک؟

ہمارے ہاں "بچوں کی حفاظت" کا فریضہ صرف ماں باپ کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، گویا باقی سب تماشائی ہیں، فرض سے آزاد۔ محلے کا چوکیدار، گلی کا دکاندار، مسجد کا امام، اسکول کا استاد، سب اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری کسی اور پر منتقل کر کے بری الذمہ ہیں۔

اور ریاست؟

ریاست نے اتنے قوانین بنائے ہیں کہ اگر انہیں ایک ساتھ پڑھا جائے تو بچہ قانونی طور پر محفوظ ترین مخلوق لگے۔ مگر زمین پر؟ زمین پر وہی منتہا ہے ۔۔۔۔۔اکیلی، بے آواز، بے وکیل۔

قانون اور زمینی حقیقت کے درمیان جو فاصلہ ہے، اسی فاصلے میں ہمارے بچے گم ہو جاتے ہیں۔

منتہا کی قبر پر پھول مرجھا چکے ہیں۔

مگر سوال ابھی تازہ ہیں۔

کیا آئندہ باپ بچے کو اکیلا بھیجنے سے پہلے ایک لمحہ رکے گا؟ کیا محلے کے لوگ ایک آنکھ پڑوس پر بھی رکھیں گے؟ کیا دکاندار یاد رکھے گا کہ اس کی دکان صرف سودے سلف کی جگہ نہیں، ایک امانت کی جگہ بھی ہے؟ کیا انصاف اس بار برسوں نہیں، مہینوں میں ملے گا؟

یا پھر ہم اگلی منتہا کا انتظار کریں گے اور اگلی بریکنگ نیوز کے ساتھ پھر سے رو لیں گے؟

سرگودھا کی اس گلی میں ایک چھوٹی سی قبر ہے۔ اس قبر میں صرف منتہا نہیں، ہمارے بہت سے دعوے بھی دفن ہیں، تہذیب کا دعویٰ، انسانیت کا دعویٰ، اسلامی معاشرے کا دعویٰ۔

وہ ہم سے کچھ نہیں مانگتی۔ بس اتنا پوچھتی ہے

"کیا میرے بعد کوئی اور منتہا نہیں بنے گی؟"

اور ہم۔۔۔ ہم خاموش ہیں۔

کیونکہ جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ یا شاید جواب ہے، مگر دینے کی ہمت نہیں۔

تحریر: اظہر تھراج