مگر جب میں آج کے حالات دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور ذہن میں یہ سوال بار بار ہتھوڑے کی طرح بجتا ہے کہ کیا واقعی مرد آج اس مقام کے لائق رہا بھی ہے یا نہیں؟
میں اپنے معاشرے میں جب دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مرد کو ایک ایسی کھلی اجازت مل چکی ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کرے، جہاں جانا چاہے جائے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اور اسی کھلی چھوٹ کے زعم میں وہ نہ جانے کتنے معصوم پھولوں کو اپنے پیروں تلے روندتا جا رہا ہے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس اب صرف کتابوں کی حد تک رہ گیا ہے۔
جب میں اخبار اٹھاتا ہوں یا سوشل میڈیا دیکھتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ قصور کی ننھی زینب کا چہرہ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے، جسے اغوا کیا گیا، زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ ابھی اس زخم کا نشان مٹا ہی نہیں تھا کہ کراچی کی معصوم فاطمہ کا واقعہ سامنے آ گیا، جسے پیروں کی حویلی میں درندگی کا نشانہ بنا کر مار دیا گیا۔
اور ابھی حال ہی میں سرگودھا کی سات سالہ منتہا زہرا کا جو واقعہ سامنے آیا ہے، اس نے تو روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ معصوم بچی ہنستی کھیلتی اپنے گھر کے قریب ایک کریانے کی دکان پر صرف ایک چیز لینے گئی تھی۔ وہ دکان، جہاں ہم اپنے بچوں کو محفوظ سمجھ کر بھیجتے ہیں، وہاں بیٹھے درندے نے اس معصوم کلی کو ورغلایا، بالائی منزل پر لے جا کر بدترین تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر بے دردی سے اس کا گلا کاٹ کر مار دیا۔
میں سوچتا ہوں کہ کوئی انسان اتنا سفاک کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ ننھی بچیاں جنہیں ابھی زندگی کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا، جن کے ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہییں تھے، وہ اس مردانہ معاشرے کی وحشیانہ ہوس کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ درندوں نے نہ صرف ان کا بچپن اجاڑا بلکہ اپنی مردانگی کا جھوٹا رعب قائم رکھنے کے لیے ان کی سانسیں ہی چھین لیں۔
یہاں بات صرف بچیوں تک محدود نہیں ہے۔ سڑکوں پر، گاڑیوں میں اور یہاں تک کہ گھروں میں بھی عورت محفوظ نہیں ہے۔ مجھے موٹروے ریپ کیس یاد آتا ہے، جہاں ایک ماں اپنے بچوں کے سامنے اس لیے درندگی کا شکار ہو گئی کیونکہ اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا تھا۔ سڑک پر بے یار و مددگار کھڑی عورت کو مرد نے انسان نہیں بلکہ ایک موقع سمجھا۔
اسی طرح اسلام آباد کے ایف-9 پارک میں واک کرتی لڑکی کے ساتھ جو ہوا، وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ ہر عمر اور ہر طبقے کی عورت اس خوف کے سائے میں جی رہی ہے کہ نہ جانے کب کون سا مرد اپنی ہوس کا شکار بنانے کے لیے اس پر جھپٹ پڑے۔ سب سے زیادہ افسوس مجھے اس بات پر ہوتا ہے کہ اکثر معاملات میں یہ ظالم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں اور معاشرہ الٹا عورت کے کپڑوں اور اس کے باہر نکلنے پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔
مرد کی سب سے بڑی بیماری اس کی وہ جھوٹی انا ہے جو کسی عورت کی طرف سے "نا" سننے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتی۔ اگر کسی لڑکی نے اپنی مرضی کا اظہار کر دیا یا کسی مرد کے زبردستی کے رشتے سے انکار کر دیا تو گویا اس نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔
فیس بک پر دوستی یا شادی سے انکار کرنے پر خدیجہ صدیقی پر دن دہاڑے چاقوؤں کے 23 وار کیے گئے۔ وہ تو قسمت اچھی تھی کہ بچ گئی، لیکن ہر لڑکی اتنی خوش قسمت نہیں ہوتی۔ کوہستان کی ان لڑکیوں کو یاد کریں جنہیں صرف ایک ویڈیو میں تالیاں بجانے پر غیرت کے نام پر مار دیا گیا۔
ایسے کئی واقعات روز ہوتے ہیں جہاں لڑکیوں کو محض اس لیے گولی مار دی جاتی ہے یا تیزاب سے جھلسا دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ایک مرد کی مرضی کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ مرد سمجھتا ہے کہ عورت اس کی جاگیر ہے، اگر وہ اس کی نہیں ہو سکتی تو اسے دنیا میں رہنے کا بھی کوئی حق نہیں۔
جب میں ان سب واقعات کو جوڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے خوف آنے لگتا ہے۔ آج کا مرد اپنی انا، اپنی مرضی اور اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے پورے انسانی معاشرے کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ وہ رشتوں کا تقدس، اخلاقیات اور خدا کا خوف سب کچھ پاگل پن کی حد تک بھلا چکا ہے۔
طاقت کے نشے میں چور یہ مرد اپنی انا کی تسکین کے لیے معصوم جانیں لینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ ہم کس معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ سوال اب مجھے اور ہر حساس دل رکھنے والے انسان کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ کیا ایسے سفاک، وحشی اور بے رحم رویوں کے بعد بھی ہم اسے "انسان" کہنے کی غلطی کریں گے، یا پھر یہ تسلیم کر لیں کہ یہ صرف ایک حیوان ہے جو انسانی روپ میں گھوم رہا ہے؟
مگر جب میں ان سب تلخ حقائق پر غور کرتا ہوں تو میرا ذہن اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ ہر مرد ایسا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مرد وہ ہے جسے عورت کے لیے چھت، تحفظ اور ایک مضبوط سائبان بنایا گیا ہے۔ وہ باپ، بھائی، شوہر یا بیٹے کی صورت میں خود دھوپ میں جلتا ہے تاکہ اس کے گھر کی عورتیں چھاؤں میں رہ سکیں۔ وہ معاشرے کے ہر طوفان اور ہر تکلیف کو اپنے سینے پر روک لیتا ہے، مگر اپنے اپنوں پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ مرد کا اصل روپ تو شفقت، ذمہ داری اور کمزور کا سہارا بننا ہے۔
لیکن افسوس! معاشرے میں چھپے ان چند وحشی بھیڑیوں، ان ہوس کے پجاریوں اور بیمار انا کے مالک مجرموں نے اس ذمہ دار اور شفیق جنس کے ماتھے پر ایسا کلنک لگا دیا ہے جس نے پوری مردانگی کو بدنام کر کے رکھ دیا ہے۔ ان چند درندوں کی وجہ سے آج ہر محافظ پر شک کیا جانے لگا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان چند کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور انہیں عبرت کا نشان بنائیں تاکہ مرد کا وہ اصل اور شفیق روپ دوبارہ کھل کر سامنے آ سکے جو واقعی کائنات کا حسن اور عورت کا مان ہے۔







