یہ بیانیہ وہ عوام بنارہے ہیں جنہوں نے کبھی عمران خان کو کندھے پر اٹھا کر لیڈربنایا تھا، یہ بیانیہ وہ خواتین بنارہی ہیں جو کبھی پی ٹی آئی کے جلسوں میں ’رقص‘ کرتی تھیں، یہ بیانیہ فٹ پاتھوں اور چوکوں، چوراہوں کے تھڑوں پر بیٹھے ’دانشور‘ بنارہے ہیں۔ وہ دانشور جنہوں نے کبھی ذوالفقار علی بھٹو کو آمریت کی ’گود‘ سے اٹھا کرعوام کے درمیان لے آئے تھے۔

اگر مسلم لیگ ن اور لاہور تک ہی محدود رہا جائے تو نواز شریف کے بعد اس پارٹی کے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو اپنے ووٹرز، سپورٹرز کو جوڑ کر رکھتا، لاہوریوں کی زندہ دلی کو چنگاری بخشتا۔ مریم نواز نے وہ کردکھایا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کی موجودہ مقبولیت کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں زمینی حقائق، حالیہ سروے رپورٹس اور سیاسی منظرنامے کو دیکھنا ہوگا۔ 

حالیہ جائزوں کے مطابق اگر پنجاب میں مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھا جائے تو نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ IPOR سروے  کے مطابق پنجاب کے تقریباً 62 فیصد عوام مریم نواز کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ان کی مقبولیت شہری علاقوں میں (62%) ۔ دیہی علاقوں میں (48%) کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کی بڑی وجہ ڈیجیٹل سروسز اور بڑے ترقیاتی منصوبے ہیں۔

ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی فتوحات بھی مریم نواز کی کارکردگی سے ملتی ہیں، تجزیہ کاروں اور سروے میں شامل افراد کا ماننا ہے کہ عوام اب صرف کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی کام کو ووٹ دے رہے ہیں۔

مریم نواز جہاں بھی جاتی ہیں عوام میں گھل مل جاتی ہیں خصوصی طور پر بچوں اور خواتین کے ساتھ ٹک ٹاک بنانا، گپ شپ کرنا ان کو مقبول بنارہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی کالی بھیڑیں

سب سے پہلے ہر شہری کی ضرورت روٹی کی قیمت میں کمی کی جو آج تک ایک ہی قیمت پر فکس ہے، اسی طرح رمضان پیکجز جیسے اقدامات نے نچلے طبقے میں ان کی ساکھ کو بہتر بنایا۔  ای بائیکس ،  آئی ٹی سٹی  اور میرٹ پر مبنی سکالرشپس جیسے منصوبے نوجوان نسل (Gen Z) تک رسائی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

سب سے اچھی چیز مریم نواز کی ٹیم نے ان کے کاموں کو جدید طریقے سے سوشل میڈیا پر پیش کیا ہے، جس سے ایک "ایکٹو چیف منسٹر" کا امیج بنا ہے۔ 

مریم نواز کے لیے سب سے بڑا چیلنج وفاق میں ن لیگ کی حکومت کا ہونا ہے، اگر وفاقی حکومت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہی تو اس کا اثر پنجاب میں ان کی مقبولیت پر بھی پڑتا ہے۔

تحریک انصاف (PTI) کا ایک بڑا سپورٹ بیس اب بھی موجود ہے جو مریم نواز کے ترقیاتی کاموں کو "دکھاوا" قرار دیتا ہے۔ مریم نواز مقبول تو ہوئی ہیں مگر اسی رفتار سے مخالفین نے انہیں بدنام بھی کیا ہے۔

مریم نواز کی پنجاب میں فعال موجودگی نے ن لیگ کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ میاں نواز شریف کی سرپرستی اور مریم نواز کی فیلڈ میں موجودگی نے پارٹی کے روایتی ووٹ بینک (جو کہ کچھ عرصہ مایوس تھا) کو دوبارہ متحرک کر دیا ہے۔

لبرٹی چوک سے سوال کا جواب پانے کے بعد لاہور گھومنے کا پروگرام بنایا تو پورا شہر بدلا بدلا نظر آیا، ہر طرف صفائی، خوبصورتی اور روشنی ہی روشنی تھی، زندگی مسکرا رہی تھی۔ گاڑی چلانے والے ڈرائیور سے پوچھا تو وہ بولا ’مسلم لیگ ن کو عمران خان مل گیا ہے‘۔ خیر یہ جملہ کتنا صادق آتا ہے اس کو ثابت کرنے میں ابھی بہت وقت پڑا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر