محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران پتنگوں پر مذہبی کتابوں، مذہبی مقامات، کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ صرف بغیر تصویر یا یک رنگی و کثیر رنگی پتنگوں کے استعمال کی اجازت ہوگی۔  

سوشل میڈیا پر عمران خان کی بہن علیمہ کا بسنت بازی کے بارے بیان سے پہلے پی ٹی آئی کارکنوں  کا کہنا تھا کہ پتنگ بازی خونی کھیل ہے جس میں سینکڑوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز نے 8 فروری کا احتجاج روکنے کے بہانے بسنت کا اعلان کر دیا ہے۔ 

کچھ ہی دن بعد اب بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بسنت فروری کے وسط میں منائی جاتی ہے۔ مگر احتجاج کے خوف سے اسے پہلے ہی منایا جا رہا ہے۔ اس بار سرخ اور سبز رنگ کے ساتھ قیدی نمبر 804 لکھ کر پتنگیں اڑائی جائیں گی۔ اور پورا لاہور آسمان پر قیدی نمبر 804 دیکھے گا۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت فرمائی، جہاں اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے سنجیدہ انداز میں موقف اختیار کیا کہ ہر لیڈر کی تصویر پتنگ پر چھاپنے پر قدغن ہے اور بعض نغمات پر بھی پابندی ہے جن میں ’نک دا کوکا‘ شامل ہے۔

 حالانکہ یہ نغمہ نہ سیاسی ہے، نہ فحش، مگر عدالت نے اسے بھی برابر کا سنجیدہ معاملہ بنا ڈالا۔

درخواست گزار نے عدالت کے روبرو بیان فرمایا کہ ایک بول میں بانی تحریک انصاف کا ذکر ہی اس نغمے ’نک دا کوکا‘ کی قدغن کا سبب بنا، اور یہ پابندی تو بسنت جیسے تہوار میں بھی سیاسی بدنیتی کی جھلک دکھاتی ہے۔ مزید کہا گیا کہ ڈی سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے اور عدالت سے التجا کی گئی کہ تصاویر اور نغمات پر قدغن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ 

دورانِ سماعت جنابِ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ’میں نے لیکچر نہیں سننا ، بس نوٹیفکیشن اور کچھ دستاویزات لف کریں، پہلے آفس کے اعتراضات دور کریں پھر سماعت ہوگی۔‘ رجسٹرار صاحب نے بھی اعتراضات کی گھٹڑی کھول لی اور فرمایا کہ درخواست کے ساتھ پابندی کے نوٹیفکیشن اور کچھ صفات مدھم ہیں۔ عدالت نے بالآخر درخواست گزار کو ہدایت دی کہ آفس اعتراضات دور کریں، تب سماعت آگے بڑھے گی۔ یوں عدلیہ نے سنجیدگی اور تہذیب کے ساتھ سیاسی گانے، تصاویر اور تہوار سب کو ایک ہی ترازو میں تول ڈالا۔

مذکورہ بالا کے سلسلہ میں کلچر سے عشق کرنے والے کہتے ہیں کہ پتنگ بازی ایک دلکش و دلربا ثقافتی منظر ہے۔ نیلے آسمان پر اڑتی رنگ برنگی پتنگیں ان کے ساتھ آنکھیں دوڑانا، یہ منظر نہ صرف روح کو بہلا دیتا ہے بلکہ اردو شاعری اور گانوں میں بھی اسے یاد کیا گیا۔

میں آفس میں بیٹھا ویب سائٹ پر بسنت والی خبر میں ویلیو ایڈ کرنے کے لیے گوگل کیا تو معلوم ہوا کہ جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری کا "فتویٰ نمبر 144510100082" یہ ہے کہ پتنگ اڑانا کیسا ہے؟ جواب کچھ یوں ہے: پتنگ بازی میں نہ صرف پیسوں اور وقت کا ضیاع ہے بلکہ کئی مواقع پر انسانی جانوں کے ضیاع کی نوبت بھی آچکی ہے، لہٰذا پتنگ بازی جائز نہیں اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتوے کی گوگل پر اپلوڈ شدہ تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت وقت نے یہ اقدام تب کیا ہوگا جب اس کی اشد ضرورت تھی۔ ویسے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اس کائٹ فلائنگ کی تلافی کے لیے سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کو عمرہ پر بھیج رہی ہے جو عوام کی طرف سے عمرہ ادا کرے گا۔

ایک طرف اجازت ہے تو دوسری طرف سخت قوانین بھی نافذ کر دیے گئے ہیں۔ کوئی عمران خان کا پیروکار خان صاحب کی تصویر پتنگ پر نہیں لگا سکے گا، کوئی  804  نہیں لکھے گا اور نہ ہی کوئی ن لیگی میاں صاحب یا بی بی مریم کی تصویر پتنگ پر چسپاں کر کے ہوا کی نظر کرسکے گا۔

میرا خیال ہے کہ پنجاب حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ کسی پی ٹی آئی والے کو پکڑ پائیں جو خان کی تصویر لگا کر پتنگ اڑائے، بلکہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے محبت کرنے والے خود مریم نواز کی خوبصورت تصاویر لگی پتنگ اڑائیں گے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلی پنجاب کو اپنی تصویر ہر جگہ دیکھنا پسند ہے۔

 پاکستان کی ساری سیاست 6 تا 8 فروری کو ہوا میں بیک وقت عیاں ہو جائے گی۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر