میں آج رات دراصل تاریخ رقم کر رہا ہوں کیونکہ اسپرگرز (آٹزم) کا شکار میں پہلا شخص ہوں جو سیٹرڈے نائٹ لائیو کی میزبانی کر رہا ہے یا کم از کم پہلا شخص ہوں جو اس کا اعتراف کر رہا ہے۔ 

یہ تھے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک جنہوں نے مئی 2021 میں امریکی شو  سیٹرڈے نائٹ لائیو  کے اوپننگ مونولاگ میں اعلان کیا کہ وہ آٹزم کا شکار ہیں۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ جس کیفیت کو ہمارے ہاں اکثر کمزوری یا خامی سمجھا جاتا ہے اسی کیفیت کا حامل شخص آج دنیا کا سب سے امیر ترین بزنس مین ہے۔

گزشتہ دنوں جنید صفدر کی شادی میں شریک ہونے والی کئی شخصیات پر تبصرے ہوتے رہے۔ ان میں مریم نواز شریف کی بہن عاصمہ نواز بھی شامل تھیں جو ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کی اہلیہ ہیں۔ اسی تناظر میں جنید صفدر کی شادی کے موقع پر علی ڈار کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ اپنے بڑے بیٹے ابراہیم کے ساتھ نہایت خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ ابراہیم موسیقی پر جھوم رہے ہیں۔ 18 سالہ ابراہیم بھی آٹزم کا شکار ہیں۔ یہ ویڈیو خود علی ڈار نے شیئر کی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے بیٹے کی ویڈیوز شیئر کرتے رہتے ہیں اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ تقریباً ہر ویڈیو میں وہ اپنے بیٹے کو پیار سے بوسہ دیتے نظر آتے ہیں۔

آٹزم دراصل دماغ کی نشوونما سے جڑا ایک ایسا عارضہ ہے جو انسان کے رویے، بات چیت، سیکھنے کے انداز اور سماجی تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔ اسے عام طور پر بیماری کی بجائے ایک کیفیت سمجھا جاتا ہے۔ آٹزم عموماً بچپن کے ابتدائی برسوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے بچے عام بچوں کی طرح دنیا کو نہیں دیکھتے؛ ان کا ردعمل، دلچسپیاں اور اظہار کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔ کچھ بچے بولنے میں وقت لیتے ہیں، کچھ بالکل نہیں بولتے، کچھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر پاتے اور کچھ مخصوص حرکات کو بار بار دہراتے ہیں۔

یہ صرف بچے کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ پورے خاندان کا امتحان بن جاتا ہے۔ والدین اکثر صدمے، مایوسی اور احساس جرم کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ انہیں یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ ان کا بچہ معاشرے میں کیسے جیے گا؟ کیا وہ سکول جا سکے گا؟ کیا خودمختار زندگی گزار پائے گا؟ ہمارے ہاں آگاہی کی کمی کے باعث ایسے بچوں کو بدتمیز، ضدی یا کمزور دماغ سمجھ لیا جاتا ہے جس کے باعث والدین کو بار بار وضاحتیں دینا پڑتی ہیں اور تنقید سہنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات تو متاثرہ بچے کے والدین اسے ظاہر کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔

علی ڈار نے جب سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو شیئر کی تو صارفین کی جانب سے انتہائی گھٹیا اور نامناسب تبصرے سامنے آئے۔ اس پر علی ڈار نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا:

 جن لوگوں کو یہ عقل و شرم سے عاری کبھی سزا اور کبھی عذاب کہہ رہے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ اس سے بڑا اللہ کی طرف سے تحفہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر آپ کے گھر میں ایک ایسا بچہ ہے جو معصوم ہے، فرشتہ صفت ہے، اور جس کے لیے اللہ رب العزت کے قرب اور جنتی ہونے کی نوید ہے، تو اس بچے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کیا ہو سکتی ہے؟ ماں باپ کا اپنے بچوں سے پیار کرنا اور ان کا خیال رکھنا کوئی احسان نہیں بلکہ فطری عمل اور فریضہ ہے۔ اگر کوئی بچہ کسی جسمانی یا ذہنی تکلیف میں مبتلا ہو تو ماں باپ سے شاید وہ دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی پیار لے جائے، کم نہیں۔ اپنے سپیشل بچوں کو چھپانا یا ان پر شرمندہ ہونا سراسر غلط ہے۔ یہی بچے روزِ محشر ان شاءاللہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر جنت الفردوس میں لے جائیں گے۔ یہ اللہ میاں کا بہت بڑا انعام ہیں۔ 

اسی حقیقت کا اقرار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 27 نومبر 2025 کو ایک تقریب کے دوران بھی کیا۔ انہوں نے کہا

 میری ایک ہی بہن ہے عاصمہ جو مجھ سے 8 سال چھوٹی ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا ابراہیم اٹھارہ سال کا ہے اور وہ سپیشل چائلڈ ہے۔ جب وہ گھر پر ہوتا ہے تو میں اسے غور سے دیکھتی ہوں کہ ایک بچے کی موجودگی سے گھر میں کتنی رونق، کتنی برکت اور کتنی رحمت آ جاتی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ شاید اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا لیکن وہ بہت دور کی آواز بھی سن لیتا ہے، گزرنے والوں کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ ہاں، کچھ مشکل لمحے بھی آتے ہیں، خاص طور پر جب وہ تکلیف میں ہوتا ہے۔ 

شاید اسی ذاتی تجربے اور احساس کی بنیاد پر پنجاب حکومت نے آٹزم اور خصوصی بچوں کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب کا پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم کیا گیا جہاں 3 سے 16 سال تک کے آٹسٹک بچوں کو تعلیم، تھراپی اور سپورٹ پروگرامز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے Autism School & Resource Centre Act, 2025 منظور کیا جس کے تحت لاہور میں ایک جدید ریسورس سینٹر قائم کیا جائے گا۔ صوبے کے مختلف سپیشل ایجوکیشن سینٹرز میں 12 آٹزم یونٹس جبکہ 27 ڈویژنل پبلک سکولوں میں آٹزم سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ خصوصی بچوں کے لیے نئی بسیں، مخصوص یونیفارمز، ماہرین آٹزم کی شمولیت اور مختصر مدت میں پانچ ہزار سے زائد بچوں کے داخلے۔۔۔ یہ سباس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اب ان بچوں کو بوجھ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ رہی ہے۔ مریم نواز بارہا کہہ چکی ہیں کہ آٹزم میں مبتلا بچے مریض نہیں بلکہ  خاص لوگ  ہیں۔

تو جناب والا! اگر کسی بچے کو اللہ نے ایک مختلف کیفیت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کوئی ماں باپ معاشرتی طنز اور دقیانوسی سوچ کے برخلاف اسے پورے فخر، محبت اور قبولیت کے ساتھ اپنا رہے ہیں تو اس پر ہنسنا، انگلی اٹھانا یا تضحیک کرنا نہ صرف گھٹیا بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے۔ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہ لے کر جائیں کہ آپ کی ذہنی پستی ظاہر ہو۔ علی ڈار اور عاصمہ نواز جیسے والدین واقعی داد اور سلیوٹ کے مستحق ہیں کیونکہ معاشرتی رویوں کے برعکس اپنے بچے کی کیفیت کو قبول بھی کر رہے ہیں اور اس میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتے۔ 

  تحریر: ادیب یوسفزئی

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی فیس بک وال سے لی گئی ہے، خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر