پاکستان میٹرز کو جوائن کیے مجھے ابھی چند ہی ماہ ہوئے تھے کہ ایک دن معمول کی نیوز اسٹوری بناتے ہوئے پہلی بار وادی تیراہ سے متعلق ایک خبر میری نظر سے گزری۔ میں حیران تھا کہ یہ خبر کسی مقامی نشریاتی ادارے کے بجائے ایک بین الاقوامی ادارے کی جانب سے دی گئی تھی۔

یہ بات ستمبر 2025 کی ہے، جب میں نے پہلی بار وہ خبر دیکھی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ وادی تیراہ میں 21 افراد کی ہلاکت کے خلاف تحصیل باڑہ کے خیبر چوک پر مقامی افراد کا احتجاج جاری ہے، کیونکہ  20 ستمبر کی درمیانی شب وادی تیراہ کے گاؤں شاہ ڈھلہ میں اچانک دھماکے ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے ، تاہم سرکاری طور پر ان دھماکوں کی وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔

اس وقت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور تھے۔ انہوں نے قبائلی عمائدین کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا، جب کہ صوبائی اسمبلی میں بھی اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، جس کے بعد اسپیکر نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔

میں پہلے تو حیران ہوا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود، وہ بھی ایک شورش زدہ علاقے میں اور اتنی اہم خبر ہمیں کسی غیر مقامی ادارے کے ذریعے مل رہی ہے۔ اس وقت مجھے بخوبی اندازہ ہو گیا کہ مقامی نیوز چینلز کہاں تک محدود ہیں۔ ان کے نزدیک صرف پنجاب ہے اور وہ بھی مخصوص طور پر لاہور، کیونکہ اس شہر کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے دن بھر میں انتہائی کم خبریں موصول ہوتی ہیں۔ اگر کبھی آ بھی جائیں تو بس یہی کہ کوئٹہ میں دھماکا، بلوچستان میں لوگ اغوا ہو گئے یا پھر وزیرستان میں گھس گئے طالبان اور سہیل آفریدی نے کھایا پان اور بس ۔

اس تمام مزاح کے علاوہ ترقیاتی کاموں کی خبریں ہوں یا یوں کہہ لیجیے کہ کسی صوبے کے وزیراعلیٰ یا دیگر اعلیٰ حکام کی سرگرمیاں، ان سب کو ایک ساتھ تمام نیوز چینلز پر لائیو کم ہی دیکھا گیا ہے۔ جیسے میں اپنی وزیراعلیٰ صاحبہ کو دن میں دو بار سرکاری نیوز چینل پر دیکھتا ہوں، مگر سہیل آفریدی، سرفراز بگٹی یا ہمارے سائیں مراد علی شاہ صاحب کو کم ہی اس طرح اسکرین پر دیکھا جاتا ہے۔ المختصر، ہماری میڈیا انڈسٹری بھی اس معاملے میں اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔

خیر، اب وادی تیراہ کی بات کرتے ہیں۔ یہ علاقہ صوبہ خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے باعث اب تک 70 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور حکام کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

تاہم وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ کوئی جبری بے دخلی نہیں، نہ ہی لوگ کسی آپریشن کے باعث نقل مکانی کر رہے ہیں، بلکہ یہ معمول کی نقل مکانی ہے جو برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق سخت سردیوں میں برف باری کے باعث لوگ دوسرے علاقوں کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں اور موسم بہتر ہونے پر واپس لوٹ آتے ہیں۔

کتنی آسانی سے وزیر دفاع نے حکومت کے بیانیے کا دفاع کیا۔ یہاں چند سادہ سوال وزیر دفاع خواجہ آصف سے بنتے ہیں: اتنی شدید سردی میں ہی یہ نقل مکانی کیوں ہو رہی ہے؟ اگر مقامی لوگ روایتی نقل مکانی کرتے ہیں، تو انہوں نے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟ گزشتہ سال کیوں نہیں کی، یا اس سے پہلے جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تب ایسی نقل مکانی کیوں نظر نہیں آئی؟ اگر یہ واقعی روایتی نقل مکانی تھی تو جرگے میں کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی موجودگی کیوں تھی؟

یہاں صرف وفاقی حکومت سے ہی سوال نہیں بنتا۔ آج جس طرح کے پی حکومت تیراہ کا مقدمہ لڑنے میں مصروف ہے، جب لوگوں کو بے دخل کیا جا رہا تھا تو تب یہ تمام حکمران کہاں تھے؟ یہ سوال ان سے بھی بنتا ہے۔آج سہیل آفریدی صاحب ہر پریس کانفرنس میں جذباتی انداز اپناتے ہیں، مگر وہ یہ بتائیں کہ صوبائی حکومت کو کیسے علم نہیں تھا کہ انہی کے صوبے میں ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ کیا انہیں بھی تب ہی پتہ چلا جب پورے ملک نے برف باری میں سروں پر سامان اٹھائے تیراہ کے لوگوں کو دیکھا؟ اپنی ناکامیوں کا بوجھ کسی اور پر ڈال دینا کتنا آسان ہو چکا ہے۔

اب ذرا تفصیل سے بتا دوں کہ وادی تیراہ ضلع خیبر کا ایک اہم علاقہ ہے، جو سپین غر یعنی سفید کوہ کے دامن میں واقع ہے۔ اگرچہ یہ پشاور سے تقریباً 55 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، لیکن پہاڑی اور دشوار گزار راستوں کے باعث پشاور تک پہنچنے میں تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

وادی تیراہ تحصیل باڑہ کا حصہ ہے اور یہاں آفریدی قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اس کے مغرب میں افغانستان، مشرق میں پشاور، شمال میں لنڈی کوتل اور خیبر پاس واقع ہیں، جب کہ اس کی سرحدیں ضلع اورکزئی اور ضلع کرم سے بھی ملتی ہیں۔

تیراہ کی آبادی دو سے تین لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں 1947 کے بعد پہلی بار 2003 میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز داخل ہوئی تھیں۔ یہاں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکرِ اسلام نامی شدت پسند تنظیم بھی متحرک رہی ہے۔

اسی وجہ سے ماضی میں بھی عسکری آپریشنز کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ 2008-09 میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا، جس کے بعد جزوی واپسی 2011-12 میں ہوئی، تاہم بڑی تعداد میں لوگ واپس نہ آ سکے۔ اس کے بعد 2013 اور 2014 میں آپریشن خیبر کے دوران بھی نقل مکانی ہوئی، جب کہ 2016 میں مرحلہ وار واپسی کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد ازاں 2020 اور 2022 میں بھی تیراہ کے بعض علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشنز کیے گئے۔

حالیہ برسوں میں تیراہ میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ گزشتہ سال جولائی میں مظاہرین پر فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔ ستمبر میں ایک مبینہ فضائی حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے، جس میں 21 افراد جاں بحق ہوئے، تاہم اس حملے کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

اب جو آج کل 24 رکنی کمیٹی کی بات کی جا رہی ہے، اس کے پیچھے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ 11 دسمبر کو وادیٔ تیراہ کی اقوام کا ایک نمائندہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں قمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبر، آدم خیل، اکاخیل اور ذخہ خیل قبائل پر مشتمل 24 رکنی جرگے نے 27 نکات پر مبنی شرائط نامہ حکومت کو ارسال کیا۔ اس جرگے میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ علاقہ خالی کیا جائے گا، مگر اس کے لیے واضح شرائط پیش کی گئیں۔

جرگے کی شرائط کے مطابق دو ماہ کے اندر مقامی افراد کی واپسی کی تحریری ضمانت دی جائے، وادی تیراہ میں کسی قسم کی امن کمیٹی یا ویلج کمیٹی قائم نہ کی جائے، جب کہ علاقے میں امن و امان کی مکمل ذمہ داری حکومت اور سکیورٹی اداروں پر ہو گی۔

شرائط میں یہ بھی شامل تھا کہ نقل مکانی کے دوران مقامی آبادی کو ٹرانسپورٹ کی سہولت دی جائے، ہر متاثرہ خاندان کو پانچ لاکھ روپے نقد اور ایک لاکھ روپے ماہانہ امداد فراہم کی جائےاور آپریشن کے بعد اس بات کی یقینی ضمانت دی جائے کہ آئندہ علاقے میں کوئی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ مزید یہ بھی طے پایا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے قبضے میں موجود تمام گھروں کو ان کے اصل مالکان کے حوالے کیا جائے گا۔

اب ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کوئی روایتی نقل مکانی نہیں تھی، جیسا کہ خواجہ آصف صاحب نے کہا۔ اگر ایسا ہوتا تو 24 رکنی کمیٹی کیوں بنتی؟ متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد کی بات کیوں کی جاتی؟ یا یہ نکتہ کیوں شامل کیا جاتا کہ آئندہ کوئی فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا؟ ان تمام حقائق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومتی نگرانی میں ہونے والی نقل مکانی تھی، جو شاید خاموشی سے مکمل ہو جاتی اگر برف باری میں لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے نہ آتیں۔

اس تمام منظرنامے میں صوبائی حکومت کی جانب سے کئی بیانات دیے گئے، جن میں ایک اہم بیان یہ تھا کہ یہ نقل مکانی جبری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ماضی کے آپریشنز کے دوران متاثرین سے امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر پندرہ سال گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت نے آئی ڈی پیز کی واجب الادا رقم، جو تقریباً 52 ارب روپے بنتی ہے، ادا نہیں کی۔

وفاقی حکومت کو اب چار ارب روپے کی فکر لاحق ہے، جو حالیہ نقل مکانی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ یہ رقم بھی متاثرین تک نہیں پہنچے گی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ واجب الادا امداد اب تک ادا نہیں کی گئی۔

وادی تیراہ میں ہونے والا آپریشن نہ پہلا ہے اور نہ ہی کبھی حکومت یا سکیورٹی اداروں نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ یہ آخری آپریشن ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان اس نورا کشتی میں اصل نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ پچھلے پندرہ برسوں سے بار بار بے گھر کون ہو رہا ہے؟ امداد کے وعدوں کے بعد تباہ حال گھروں کی تعمیر کون کرے گا؟ کون ہیں وہ بچے جو خون جما دینے والی سردی میں دربدر پھر رہے ہیں؟ سوال کئی ہیں، مگر جواب ایک ہی ہے: عوام۔

یہ وہی عوام ہیں جو ووٹ اور اقتدار کا ذریعہ تو بنتے ہیں، مگر جنہیں پرسکون زندگی گزارنے کا موقع کبھی نہیں دیا جاتا۔

لہٰذا چاہے یہ جبری بے دخلی ہو یا روایتی نقل مکانی، فرق اس سے نہیں پڑتا۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ اس کی قیمت کیا ادا کی جا رہی ہے اور اس نام نہاد امن کے لیے مزید کتنی جانیں دینی ہوں گی، تاکہ یہ کھلتے ہوئے پھول اپنے گھروں میں ہی مہک سکیں، نہ کہ بازاروں میں جا کر مرجھا جائیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر