عمران خان کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ نیت نیک تھی، بیانیہ زوردار تھا، اور نوجوان نسل کو سیاست کی طرف کھینچ لانے کا کمال بھی ان ہی کے کھاتے میں جاتا ہے۔ مسئلہ نیت کا نہیں، فیصلوں کا تھا۔ اور فیصلے بھی وہ جو کسی سازش کی پیداوار نہیں بلکہ عام سیاسی حساب کتاب کی غلطیاں تھیں، جیسی ہر جماعت، ہر دور میں کرتی رہی ہے۔
پہلی غلطی: خود کرسی پر بیٹھ جانا 2018 میں جیت کر خان صاحب نے سوچا ہوگا کہ اب وزیرِ اعظم بھی خود ہی بنیں گے، نگرانی بھی خود کریں گے، فیصلہ بھی خود کریں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر انتظامی خامی براہِ راست ان کے دروازے پر آ کر دستک دیتی رہی۔ کوئی درمیانی دیوار، کوئی "اصلاح کی گنجائش" باقی نہ رہی۔
دوسری غلطی: عثمان بزدار اور پنجاب کا تجربہ پنجاب پاکستان کی سیاست کا دل ہے، اور دل پر تجربہ نہیں کیا کرتے۔ ایک نووارد رکنِ اسمبلی کو وزارتِ اعلیٰ سونپ دینا، اور شکایات کے باوجود فیصلے پر ڈٹے رہنا، یہ وہ قیمت تھی جو بعد میں پوری جماعت نے چکائی۔
تیسری غلطی: اپوزیشن سے مستقل جنگ احتساب اداروں کا کام ہوتا ہے، جلسوں سے اعلانات کا نہیں۔ مخالفین کو ہر روز کٹہرے میں کھڑا کرنا سیاسی گرمی تو پیدا کرتا ہے، مفاہمت کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔
چوتھی غلطی: طاقتور اداروں سے دوری تعلقات جیسے شروع ہوئے تھے، ویسے نبھائے نہ جا سکے۔ حساس معاملات پر مشاورت کو تحمل سے سننا کمزوری نہیں، حکمتِ عملی ہوتی ہے، یہ سبق شاید دیر سے سمجھ آیا۔
پانچویں غلطی: پرانے ساتھیوں سے قطع تعلق جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے پارٹی لیڈرز جو مشکل وقتوں کے ساتھی رہے، رفتہ رفتہ کونے میں بٹھادیے گئے۔ احتساب اور تعلق ختم کرنا دو الگ باتیں ہیں، اور یہی فرق نظرانداز ہوا۔
چھٹی غلطی: خارجہ پالیسی میں بلند آواز مؤقف اکثر درست تھا، مگر لہجہ سفارت کاری کے بجائے تقریر کا سا رہا۔ بین الاقوامی تعلقات میں مفادات مستقل ہوتے ہیں، جذبات نہیں، یہ سبق سفارتی میز پر زیادہ کارگر ثابت ہوتا۔
ساتویں اور آٹھویں غلطی: اسمبلیوں سے علیحدگی عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے، اور بعد میں پنجاب و کے پی اسمبلیوں کی تحلیل، یہ دونوں فیصلے جمہوری میدان خود چھوڑ دینے کے مترادف تھے۔ پارلیمان میں رہ کر لڑنا ہمیشہ باہر بیٹھ کر تقریر کرنے سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ آٹھ غلطیاں نہ ہوتیں تو حکومت بچ جاتی؟ شاید۔ مگر انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس بحران میں دیگر سیاسی قوتوں، اداروں اور معاشی عوامل کا حصہ بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ کسی ایک فرد یا جماعت کے سر سارا ملبہ ڈالنا اتنا ہی غیرمنصفانہ ہے جتنا اسے مکمل بری الذمہ قرار دینا۔
آگے کا راستہ واضح ہے، آسمان کی طرح صاف ہے، اگرچہ چلنا مشکل ہے۔ تصادم کے بجائے مکالمہ، اور نعروں کے بجائے وہ بنیادی سوال جو ہر حکمران سے پوچھا جانا چاہیے، کیا کسی بچے کا پیٹ خالی تو نہیں؟ کیا کوئی علاج اور تعلیم سے محروم تو نہیں؟ سڑکیں اور یادگاریں بعد میں بھی بن سکتی ہیں، روٹی آج چاہیے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







