"یہ اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ ہے" ... وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے یہی نام دیا، اور دنیا نے سنا۔
وہ جنگ جو پاکستان کے گھر تک آ پہنچی تھی
28 فروری 2026 کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، تو یہ صرف مشرق وسطیٰ کی جنگ نہیں رہی۔ خلیج ہرمز بند ہوئی، تیل مہنگا ہوا، اور پاکستان جو اپنی ۸۵ فیصد سے زیادہ توانائی سعودی عرب، قطر اور خلیجی ریاستوں سے حاصل کرتا ہے، شدید مشکل میں آ گیا۔ حکومت کو سرکاری دفاتر میں چار روزہ ہفتہ نافذ کرنا پڑا، اسکول بند کرنے پڑے، اور عوام سے کہنا پڑا کہ بجلی بچاؤ۔
5 اپریل 2026۔ ٹرمپ کی ایران کو دی گئی ڈیڈلائن کا آخری دن۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر واشنگٹن میں ایک کے بعد ایک فون کیے، یہاں تک کہ جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ پھر 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں وہ مذاکرات ہوئے جو 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کی سب سے اعلیٰ سطح کی ملاقات تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد آئے۔ 21 گھنٹے کی بات چیت ہوئی۔ مگر کوئی معاہدہ نہ ہوا۔
لیکن پاکستان نے ہمت نہ ہاری۔ وزیر پاکستان شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ"کئی لمحے ایسے آئے جب لگا مذاکرات ٹوٹ جائیں گے، لیکن عاصم منیر نے رک کر نہیں دیکھا۔"
ٹفٹس یونیورسٹی کے پروفیسر فہد ہمایوں کہتے ہیں کہ "پاکستان کے علاوہ کوئی ملک ایسا نہیں تھا جو امریکہ اور ایران دونوں کا اعتماد رکھتا ہو۔
اس کے پیچھے دہائیوں کی محنت تھی۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں بھی پاکستان نے غیرجانبداری اختیار کی تھی جبکہ امریکہ اور عرب دنیا کا دباؤ تھا۔ تہران کو یقین تھا کہ اسلام آباد واشنگٹن کا آلہ کار نہیں بنے گا، کیونکہ اس کی اپنی جغرافیائی مجبوریاں اسے ایران سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ دوسری طرف ٹرمپ اور فیلڈ مارشل منیر کی ذاتی دوستی نے واشنگٹن کا اعتماد قائم کیا، ٹرمپ نے سید عاصم منیر کو اپنا "پسندیدہ فیلڈ مارشل" اور "ایک غیرمعمولی انسان" کہا۔
معاہدے کے چند گھنٹے بعد ہی سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے عملدرآمد مذاکرات منسوخ ہو گئے۔ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پاکستانی تاریخ کا ایک پرانا سبق ہے جسے مصنف ف س اعجازالدین نے یوں بیان کیا ہے کہ "شاندار کامیابیاں اور قابل فراموش ناکامیاں"۔۔۔۔ ہر بار جب پاکستان نے کوئی بڑی جیو پولیٹیکل کامیابی حاصل کی، اسے اندرونی الجھنوں نے نگل لیا۔
مذاکراتی میلہ ایک بار پھر سوئٹرز لینڈ میں سج گیا ہے جہاں امریکی بھی ہیں، ایرانی بھی ہیں اور پاکستانی ثالث بھی۔
پاکستانیوں کو امید ہے کہ اس بار کچھ مختلف ہوگا۔ یہ ملک جو ایک سال پہلے سفارتی تنہائی میں تھا، آج دنیا کی دو بڑی طاقتوں کا ثالث ہے اور یہ جگہ آسانی سے نہیں ملتی۔
پاکستان نے جنوب ایشیائی شناخت سے آگے بڑھ کر مغربی ایشیا میں اپنا قدم جما لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سفارتی کامیابی عام پاکستانیوں کی زندگی تک بھی پہنچتی ہے یا نہیں کیونکہ آخرکار، کسی بھی جیت کی اصل قدر اسی سے ناپی جاتی ہے۔
تحریر: اظہر تھراج
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







