بجلی کے بڑھتے بل خونی بل بنتے جا رہے ہیں، حکومت اپنی عیاشیوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہی ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ غریب طبقے کے پاس بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے پیسے تک نہیں ہیں۔

رواں سال بھی ایسے واقعات کا سلسلہ نہیں رکا۔ جولائی 2026 میں شیخوپورہ کے علاقے فیروز والہ میں والد شیروز خان نے بیٹے کو بھاری بجلی بل کے پیشِ نظر اے سی چلانے سے روکا تو گھر میں جھگڑا ہوگیا، بیٹا مشتعل ہوکر فائرنگ کر بیٹھا جس سے باپ موقع پر جاں بحق جبکہ ماں گلناز بی بی اور بہن نجمہ زخمی ہوگئیں، ملزم بیٹا فرار ہے۔ 

اسی مہینے قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں بجلی کا بل زیادہ آنے پر ایک 43 سالہ فیکٹری ملازم شدید مالی و ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر انتہائی اقدام اٹھا بیٹھا؛ لواحقین کے مطابق اُس ماہ کا بل 41 ہزار روپے سے زائد تھا۔ یہ واقعات ایک تشویش ناک رجحان کی علامت بن چکے ہیں، جہاں بجلی کے بل براہِ راست انسانی جانوں کو نگل رہے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ اُسے قیمتیں بڑھانے پر غریب آدمی کی مشکلات کا احساس ہے۔

بات صرف موجودہ حکومت کی نہیں، ماضی میں آئی پی پیز سے جو یکطرفہ معاہدے ہوئے اُن پر نظرثانی آج تک نہیں ہو سکی۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے، پیداواری صلاحیت کے ایک بڑے حصے کی ادائیگی بہرصورت کرنا پڑتی ہے، جسے ’کیپیسٹی پیمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال صارفین نے آئی پی پیز کو تقریباً 1.93 کھرب (تقریباً 1930 ارب) روپے کی کیپیسٹی ادائیگیاں کیں، جن میں سے 46 ارب روپے ایسے دو پلانٹس کو بھی گئے جنہوں نے ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی، جبکہ تین پلانٹس کو محض 15 فیصد پیداواری صلاحیت پر چلنے کے باوجود 370 ارب روپے ادا کیے گئے۔

 سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ آئی پی پیز کو سالانہ ادائیگیوں کا مجموعی حجم 3400 ارب روپے تک جا پہنچتا ہے، اور آئندہ بجٹ میں بھی اسی مد میں اربوں روپے مختص کیے جانے ہیں۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک کی مجموعی نصب بجلی پیداواری صلاحیت بڑھ کر 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک بھر میں بجلی کی حقیقی طلب 20 سے 22 ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ رہتی ہے، یعنی صلاحیت طلب سے تقریباً دگنی ہے، مگر اضافی صلاحیت کی قیمت بھی صارف ہی کی جیب سے وصول کی جاتی ہے۔ یوں فاضل کیپیسٹی کی اضافی ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے آئے روز فی یونٹ قیمت میں ردوبدل کیا جاتا ہے، کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اور کبھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر۔

ہم بات کرتے ہیں دوسرے ممالک کا مقابلہ کرنے کی مگر یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ وہ اپنے عوام کو کیا دے رہے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں بجلی کے سلیب وار ٹیرف اب بھی نسبتاً کم استعمال والے صارفین کو ریلیف دیتے ہیں، جبکہ پاکستان میں نیپرا کے مطابق جنوری تا دسمبر 2026 کے لیے بجلی کی اوسط بنیادی قیمت 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، تحفظ یافتہ (پروٹیکٹڈ) صارفین کے لیے 1 سے 100 یونٹ پر 10 روپے 54 پیسے اور 101 سے 200 یونٹ پر 13 روپے 01 پیسے فی یونٹ کا نرخ برقرار ہے، مگر غیر تحفظ یافتہ گھریلو صارف کے لیے 1 سے 100 یونٹ پر ہی بنیادی نرخ 22 روپے 44 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچتا ہے اور زیادہ استعمال والے غیر تحفظ یافتہ صارفین کے لیے یہ نرخ 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ تک پہنچ سکتا ہے، یہ صرف بنیادی ٹیرف ہے۔

 اِس پر فیول ایڈجسٹمنٹ، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، فکسڈ چارجز، الیکٹرسٹی ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس الگ سے وصول ہوتے ہیں۔ یوں کئی صارفین کا حقیقی بل، سرکاری اعلان کردہ بنیادی نرخ سے نمایاں زیادہ ہو کر ہاتھ میں آتا ہے۔ ایسی حالت میں لوگ اپنے تن بدن کے کپڑے نہ بیچیں تو کیا کریں، ملک سے بھاگنے کی کوشش نہ کریں تو اور کیا کریں؟ جن لوگوں کو صبح کے ناشتے کے بعد دوپہر کے کھانے کا پتا نہ ہو کہ کہاں سے آئے گا، وہ اور کیا سوچے گا؛ کہتے ہیں کہ بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر