جس طبقے کو معاشرے میں سب سے زیادہ عزت و احترام دیا جاتا ہے، اسی استاد کو وزیرتعلیم نے "چور" کے لقب سے پکارا، اساتذہ برادری کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔
وزیر تعلیم نے اس کی وضاحت پیش کی مگر کمان سے نکلا تیر اور زبان سے نکلی بات کبھی واپس نہیں آتے۔
اب یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے، وہی وزیر تعلیم جو ٹیکنالوجی اور AI نصاب متعارف کروا کر تعلیمی انقلاب کا خواب دکھاتے ہیں، وہ ایسے بیانات بھی دیتے ہیں جو پورے اساتذہ طبقے کی توہین کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔
جاپان سے فن لینڈ تک، دنیا بھر میں تعلیمی نظام کی کامیابی کا راز جدید عمارتوں یا مہنگی ٹیکنالوجی میں نہیں، بلکہ اساتذہ کو دی جانے والی عزت اور سماجی تکریم میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم واقعی تعلیمی انقلاب چاہتے ہیں، تو شاید سب سے پہلا قدم یہ ہو کہ استاد کو دوبارہ وہ مقام دیا جائے جس کا وہ حقدار ہے نہ کہ عوامی بیانات میں شک و شبہے کا نشانہ بنایا جائے۔
پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم لازمی قرار دینے کے ساتھ ہی سکولز آف ایمننس کی تعداد 65 سے بڑھا کر 300 کرنے، روبوٹکس لیبارٹریز قائم کرنے اور میٹرک ٹیکنالوجی پروگرام میں 50 ہزار طلبہ کے داخلے جیسے اقدامات بھی سامنے آئے۔ یہ خبریں بلاشبہ خوش آئند ہیں، مگر ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی معیار کے قریب لے جا رہے ہیں، یا فرق بدستور بہت گہرا ہے؟
ترقی یافتہ ممالک جیسے فن لینڈ، جنوبی کوریا اور سنگاپور کا تعلیمی نظام تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی صلاحیتوں پر مرکوز ہے۔ وہاں امتحانات محض یادداشت کا امتحان نہیں بلکہ سمجھ بوجھ کی جانچ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کا روایتی نظام بڑی حد تک رٹے پر انحصار کرتا ہے، جہاں نمبروں کا حصول ہی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ AI نصاب کا نفاذ یقیناً ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے صرف ایک نیا مضمون بنا کر رٹا سسٹم میں شامل نہ کیا جائے، بلکہ عملی و تخلیقی انداز میں پڑھایا جائے۔
فن لینڈ جیسے ممالک میں استاد بننا ڈاکٹر یا انجینئر بننے جتنا ہی مشکل اور معتبر پیشہ ہے، سخت تربیت، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی اور معقول تنخواہ اس شعبے کی بنیاد ہیں۔
پاکستان میں معاملہ الٹ ہے خاص طور پر سرکاری سکولوں میں، اساتذہ کی تربیت اکثر ناکافی رہتی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی، چاہے وہ AI ہو یا روبوٹکس۔ کامیاب تب ہی ہوگی جب اسے پڑھانے والے اساتذہ خود اس میں مہارت رکھتے ہوں۔ محض لیبارٹریز بنا دینا کافی نہیں، جب تک تربیت یافتہ عملہ موجود نہ ہو۔
لاہور یا کراچی کے جدید سکولوں اور دیہی علاقوں کے سرکاری سکولوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ دانش سکولز اور سکولز آف ایمننس جیسے منصوبے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ضرور ہیں، مگر ان کی تعداد ابھی بھی ملک بھر کی ضرورت کے مقابلے میں محدود ہے۔
ترقی یافتہ ممالک اپنی جی ڈی پی کا خاطر خواہ حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، بعض ممالک میں یہ شرح 5 سے 7 فیصد تک ہے۔ پاکستان میں یہ شرح مجموعی طور پر کم رہی ہے۔
دانشوروں کی محفل سجی تھی۔ سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی صاحب نے تعلیم پر کام کرنے والی تنظیم کے ایک سربراہ سے پوچھا کہ موجودہ دور حکومت میں تعلیم نے ترقی کی ہے یا پہلے سے پیچھے چلی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا ’ تعیم کا اس وقت بہت برا حال ہے۔‘ جب حال برا ہے، اساتذہ ’پنکھے اور ٹونٹی چور‘ ہیں تو اے آئی کس کام کی۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







