بات قابلِ غور یہ ہے کہ جیسے ہی امریکہ، اسرائیل اور مسلم حکمرانوں کے درمیان ایک کمزور سا معاہدہ ہوا — جو ہمیشہ طاقتور اور کمزور کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں کی طرح تھا — اچانک ایک غیر معمولی ردِعمل سامنے آیا۔ یہ ردِعمل دراصل اس خوف سے جنم لیتا دکھائی دیا کہ کہیں جماعتِ اسلامی اور دیگر دینی جماعتیں، اپنی محدود عوامی حمایت کے باوجود، اس معاہدے کے خلاف ایک بھرپور آواز نہ اٹھا دیں۔
پھر یکایک ایک منظم فضا بنائی گئی۔ مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مولانا رضوی اور حافظ نعیم الرحمان تک — سب کو نشانہ بنایا گیا۔ دینی جماعتوں کے خلاف سوشل میڈیا پر اس قدر گھٹیا مہم چلائی گئی کہ انہیں دفاعی پوزیشن پر لے آیا جائے۔ اوریہ سب کچھ اُس وقت شروع ہوا جب ابھی حافظ نعیم الرحمان کی تقریر یا کسی قسم کے “مذمت کے مطالبے” کا وجود بھی نہیں تھا۔
یہ طے شدہ مہم تھی — ایک حکمتِ عملی — تاکہ وہ جماعتیں جو ہمیشہ اسرائیل مخالف بیانیہ میں سب سے آگے رہی ہیں، ان کی ساکھ کو مجروح کیا جا سکے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی میڈیا یروشلم بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ “پرو فلسطین جماعتِ اسلامی کی جانب سے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
یعنی بیانیہ واضح طور پر بن رہا تھا — لیکن تحریکِ انصاف کے کارکنان نے، شاید نادانستہ طور پر، ایک ایسی مہم چلا دی جو بالآخر انہی قوتوں کے مفاد میں گئی جو ہمیشہ فلسطینی جدوجہد کے مخالف رہے ہیں۔
ممکن ہے کہ اس مہم میں مقامی اسٹیبلشمنٹ کے بعض عناصر نے بھی کردار ادا کیا ہو۔ مگرانجام یہ ہوا کہ جماعتِ اسلامی کو بدنام کرنے کی کوشش میں اصل مسئلہ — یعنی فلسطین — کہیں پسِ پشت چلا گیا۔
تحریکِ انصاف کے معصوم اور سادہ لوح کارکن ایک بار پھرانہی قوتوں کے ہاتھوں میں استعمال ہو گئے — بالکل اسی طرح جیسے ۹ مئی کو جنرل فیض کے اشارے اور فریب میں آکر بہت سے مخلص کارکنوں نے وہ کچھ کر دیا جس کا وہ خود تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
مزید پڑھیں: فلسطین — منافقوں کو بے نقاب کرنے والا میدان
دنیا اس واقعے کو کسی بھی زاویے سے دیکھے، مگر میں آج بھی اسے تحریکِ انصاف کے خلاف ایک ٹریپ (trap) سمجھتا ہوں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کا مزاج بنیادی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے۔ یہ جماعت کبھی نظریاتی مزاحمت کی جماعت نہیں رہی؛ یہ ہمیشہ اقتدار کے دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والی سیاسی قوت رہی ہے۔ اب بیچارہ ایک فرد سب کے گناہوں کے بوجھ اٹھا رہوا ہے
اری سادگی، بے صبری اور جذبات نے ایک خالص انسانی اور دینی مسئلے کو متنازع بنا کر رکھ دیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے اسرائیل خبروں اور بحثوں سے غائب ہے، مگر علمائے کرام کی تحقیراورمذہبی جماعتوں کی تذلیل سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکی ہے۔
یہی وہ المیہ ہے جو ہماری فکری کمزوری کا سب سے بڑا ثبوت ہے — دشمن پسِ منظر میں چلا گیا، اور ہم نے اپنے ہی صفوں میں نفرت کے تیر چلانے شروع کر دیے۔
اسی لیے جب بھی پسِ پردہ قوتوں نے کوئی نیا کھیل رچایا، سب سے آسان شکار یہی جماعت بنی — جو اپنی معصومیت، جوش اوررومانوی نعرہ بازی میں ہمیشہ دوسروں کے منصوبوں کا ایندھن بن جاتی ہے۔
بعد ازاں جب حافظ نعیم الرحمان نے اپنے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اسرائیل — سب پر کھل کر تنقید کی، اور صرف ایک مختصر جملے میں عمران خان سے یہ سوال اٹھایا کہ ’آپ نے اسرائیل کے مظالم کی مذمت کیوں نہیں کی؟” — تو اسی ایک جملے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر طوفان برپا کر دیا گیا۔
حافظ نعیم کا مطالبہ دراصل اس بنیاد پر تھا کہ اگر تحریکِ انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت ہے، تو اسے فلسطین جیسے مظلوم ترین مسئلے پر سب سے بلند آواز بننا چاہیے۔ مگر افسوس، تحریکِ انصاف کے اکثر کارکنان اپنے سیاسی دکھ کو فلسطینیوں کے زخموں سے بڑا سمجھتے ہیں — حالانکہ وہ شاید ان فلسطینیوں کی زندگی کے تیس سیکنڈ بھی برداشت نہ کر سکیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر معوذ اسد صدیقی کی فیس بک وال سے لی گئی ہے، تحریر میں بیان کیے گئے ذاتی خیالات سے ’پاکستان میٹرز‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر






