ایک طرف قدرتی وسائل کی فراوانی، دوسری طرف عالمی مالیاتی اداروں کے دروازوں پر دستک… ایک طرف زمین کے نیچے کھربوں ڈالر کی معدنی دولت، دوسری طرف سیلاب زدگان کے لیے امدادی کیمپ اور خیراتی دسترخوان… سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟

پاکستان کو قدرت نے بے شمار وسائل سے نوازا۔ بلوچستان کے چاغی میں واقع ریکوڈک دنیا کے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ مختلف تخمینوں کے مطابق یہاں تقریباً 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں جن میں لاکھوں ٹن تانبا اور کروڑوں اونس سونا شامل ہے۔ بعض بین الاقوامی اندازوں کے مطابق یہ منصوبہ آنے والے عشروں میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی آمدنی دے سکتا ہے۔ 

اسی طرح سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر میں کوئلے کے اتنے بڑے ذخائر موجود ہیں جنہیں دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں تقریباً 175 ارب ٹن کوئلہ موجود ہے جو اگر مکمل منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال ہو تو کئی دہائیوں تک پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ اتنی بڑی دولت ہونے کے باوجود ملک طویل عرصے تک بجلی کے بحران، مہنگی درآمدی ایندھن اور صنعتی زوال کا شکار رہا۔

خیبرپختونخوا بھی معدنی دولت سے مالامال ہے۔ سوات کے زمرد دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں اور اندازوں کے مطابق یہاں کروڑوں قیراط زمرد کے ذخائر موجود ہیں۔  اس کے علاوہ صوبے میں ماربل، گرینائٹ، چونا پتھر، کرومائیٹ، جپسم اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں ماربل کے بڑے ذخائر موجود ہیں جن کے بارے میں سرکاری و تحقیقی رپورٹس میں ہزاروں میٹرک ٹن ذخائر کا ذکر کیا گیا ہے۔  مگر افسوس کہ یہ دولت آج بھی مکمل قومی ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکی۔

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ناقص حکمرانی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام اور کمزور منصوبہ بندی ہے۔ آزادی کے بعد سے ملک میں معاشی پالیسیاں تسلسل سے محروم رہیں۔ صنعت، تحقیق، تعلیم اور معدنی شعبے کو قومی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ ہر نئی حکومت پچھلی پالیسیوں کو بدلتی رہی اور ریاستی ادارے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قدرتی وسائل قومی معیشت کو مستحکم کرنے کے بجائے سیاسی نعروں اور معاہدوں تک محدود ہو گئے۔

پاکستان کی معیشت بتدریج قرضوں پر انحصار کرتی چلی گئی۔ اس وقت پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات 130 سے 138 ارب ڈالر کے درمیان بتائے جا رہے ہیں، جبکہ مجموعی سرکاری قرضہ کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔  ہر سال قومی بجٹ کا بڑا حصہ صرف سود اور قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال نے تعلیم، صحت، سائنسی تحقیق اور انفراسٹرکچر جیسے بنیادی شعبوں کو شدید متاثر کیا۔ ملک اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتا رہا اور خسارے پورے کرنے کے لیے نئے قرض لیتا رہا، یوں معیشت ایک ایسے دائرے میں داخل ہو گئی جہاں پرانے قرض اتارنے کے لیے نئے قرض لینا معمول بن گیا۔

قدرتی آفات نے بھی پاکستان کی کمزور معیشت کو بار بار جھٹکے دیے۔ 2005 کا زلزلہ، 2010 کے تباہ کن سیلاب، 2022 کی خوفناک بارشیں اور سیلاب ان تمام آفات نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ خاص طور پر 2022 کے سیلاب میں ملک کا ایک بڑا حصہ زیرِ آب آ گیا، فصلیں تباہ ہوئیں، سڑکیں اور پل بہہ گئے اور کروڑوں افراد متاثر ہوئے۔ ایسے مواقع پر پاکستان کو عالمی امداد، اقوام متحدہ، بیرونی حکومتوں اور خیراتی اداروں کی مدد پر انحصار کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ریاستی نظام ابھی تک اتنا مضبوط نہیں ہو سکا کہ بڑے بحرانوں کا مکمل مقابلہ خود کر سکے۔

اسی خلا نے ملک میں خیراتی اداروں اور این جی اوز کو غیر معمولی اہمیت دی۔ پاکستان میں ہزاروں این جی اوز مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ملک میں تقریباً اٹھارہ ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں سے صرف ایک محدود تعداد باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔  یہ ادارے تعلیم، صحت، غربت، آفات سے متاثرہ افراد، یتیم بچوں اور غریب خاندانوں کی مدد کرتے ہیں۔ کئی فلاحی ادارے لاکھوں افراد کو روزانہ کھانا، علاج اور امداد فراہم کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ انسانی خدمت کی عظیم مثال ہے، مگر کسی ریاست کی بنیاد مستقل خیرات پر نہیں بلکہ مضبوط معیشت اور مؤثر نظام پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب عوام کی بنیادی ضروریات حکومت کے بجائے فلاحی ادارے پوری کرنے لگیں تو یہ ریاستی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے۔

پاکستان کی زراعت بھی اپنی پوری صلاحیت استعمال نہیں کر سکی۔ دنیا کی بہترین نہری زمین رکھنے کے باوجود ملک خوراک کی درآمدات پر انحصار کرتا رہا۔ پانی کی قلت، پرانی زرعی تکنیک، ذخیرہ اندوزی، ناقص پالیسی اور کسان کی کمزور معاشی حالت نے زرعی شعبے کو نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم، دالیں اور خوردنی تیل درآمد کرنا پڑتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اپنی معدنی دولت، زراعت، نوجوان آبادی اور جغرافیائی حیثیت کو صحیح سمت میں استعمال کرے تو ملک چند دہائیوں میں خطے کی مضبوط معیشت بن سکتا ہے۔ ریکوڈک، تھرپارکر، سوات، چترال، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں موجود معدنی وسائل صرف زمین کے نیچے دفن دولت نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی کنجی ہیں۔ مگر اس کے لیے شفاف نظام، سیاسی استحکام، دیانتدار قیادت، مضبوط ادارے، جدید تعلیم، صنعتی ترقی اور قانون کی حکمرانی ناگزیر ہے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ وژن، نظم و ضبط اور درست فیصلوں سے ترقی کرتی ہیں۔ کئی ایسے ممالک بھی ہیں جن کے پاس پاکستان جیسے وسائل نہیں تھے، مگر انہوں نے تعلیم، صنعت اور تحقیق پر سرمایہ کاری کر کے خود کو عالمی طاقت بنا لیا۔

دنیا میں کئی ممالک ہیں جنہوں نے مشکل وقت کو سنہری موقع میں بدل دیا۔ جنوبی کوریا جنگ زدہ تباہی سے نکلتے ہوئے تعلیم اور برآمدات پر توجہ مرکوز کی۔ آج وہ سام سنگ، ہنڈائی، اور الجی جیسی کمپنیوں کی وطن ہے۔ سنگاپور کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں تھے، مگر قانون کی بالا دستی اور تعلیم نے اسے دنیا کے امیر ترین خطوں میں داخل کر دیا۔ چین نے 1980 کی دہائی میں کھلے دروازوں کی پالیسی اپنائی اور آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ترکی نے بھی دفاعی ساز و سامان اور تعمیراتی کاموں میں سرمایہ کاری کر کے معیشت کو مضبوط کیا۔

 پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے۔ اگر یہ ملک قرض اور خیرات کی نفسیات سے نکل کر پیداوار، تحقیق، صنعت اور خود انحصاری کی طرف بڑھ جائے تو یہی سرزمین ایک نئی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔

پاکستان کا اصل بحران وسائل کی کمی نہیں بلکہ ناقص حکمرانی، بدعنوانی، کمزور منصوبہ بندی اور غیر پیداواری ترجیحات ہیں۔ یہاں سرمایہ صنعت کے بجائے جائیداد اور سٹے بازی میں لگایا جاتا ہے۔ ٹیکس کا بوجھ عام آدمی پر ڈالا جاتا ہے جبکہ طاقتور طبقے مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ نوجوان صلاحیت رکھنے کے باوجود بے روزگاری اور مایوسی کا شکار ہو کر بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں۔ اگر یہی نوجوان تعلیم، تحقیق اور جدید مہارتوں سے آراستہ ہوں تو یہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔

پاکستان آج بھی سنبھل سکتا ہے، کیونکہ قدرت نے اس سرزمین کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قومی دولت کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ معدنیات، زراعت، صنعت، تعلیم اور نوجوان قوت کو ایک مربوط قومی منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ قانون سب کے لیے برابر ہو، کرپشن کا راستہ بند ہو، ٹیکس نظام منصفانہ بنایا جائے اور قومی ترجیحات کو مستقل بنیادوں پر ترتیب دیا جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان امداد مانگنے والا نہیں بلکہ دنیا کی مضبوط اور خوددار معیشتوں میں شمار ہونے والا ملک بن سکتا ہے

ورنہ تاریخ شاید یہ سوال ہمیشہ پوچھتی رہے گی کہ آخر وہ ملک، جس کے پہاڑ سونے سے بھرے تھے، جس کے صحرا توانائی کے خزانے رکھتے تھے، جس کے دریا زندگی بانٹتے تھے اور جس کے نوجوان صلاحیت سے بھرپور تھے… وہ آخر کب تک امدادی کیمپوں، قرضوں کی قسطوں اور خیراتی دسترخوانوں کے سہارے زندہ رہتا؟