اور پھر آپ مقروض ہوجائیں، حالانکہ آپ نے دن رات ایک کرکے اِس فصل کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہو، ٹھٹھرتی راتوں میں سیراب کیا ہو، آگ برساتی دھوپ میں ہل چلائے ہوں، پیٹھ پر ٹینکیاں اُٹھا کر سپرے کیے ہوں۔

کاش یہ خواب ہوتا، مگر بدقسمتی سے یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ سندھ میں ایک   ہاری  ، پنجاب میں ایک کسان، خیبر پی کے میں ایک کاشتکار اور بلوچستان میں ایک نواب، سردار کا پسا ہوا مزارع اپنی اجناس لے کر سڑکوں پرہے۔

ایک بوڑھا کسان، پنجاب کے کسی گاؤں میں، صبح کی اذان کے ساتھ اٹھتا ہے۔ ہاتھ میں کدال، پاؤں میں مٹی۔ وہی مٹی جو صدیوں سے دریاؤں کی گود میں پلی ہے۔ وہ جانتا ہے یہ زمین سونا اگل سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی اس کے گھر میں رات کو دال نہیں پکتی۔

اور وہ سوچتا ہے ... یہ کیسے ہوگیا؟

2025 کے گلوبل ہنگر انڈیکس  کے مطابق پاکستان ١٢٣ ممالک میں ١٠٦ ویں نمبر پر رہا، کل آبادی کا  ایک کروڑ سے زائد حصہ ایسا ہے جو رات کو پیٹ بھر کر کھا نہیں سکتا۔

زرخیز ترین زمین، بھوکے پیٹ سونے والے کروڑوں لوگ، یہ تضاد ہے ، یا سزا؟

گھر کی کڑاہی میں تیل ڈالتے وقت کسی نے سوچا نہیں ، یہ تیل کہاں سے آتا ہے؟

پاکستان میں سرسوں کھلتی ہے، تل لہلہاتے ہیں، مونگ پھلی اگتی ہے مگر ہم نے کبھی انہیں تیل میں نہیں بدلا۔

2025 میں صرف پام آئل درآمد کرنے پر 3.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

وہ کڑاہی، جو ہماری اپنی فصل سے بھر سکتی تھی ، آج ڈالروں میں خریدی جاتی ہے۔

آبادی ہر سال بڑھتی رہی۔ پیٹ بڑھتے رہے۔ لیکن بیج وہی پرانا، کھیت وہی پرانا، سوچ وہی پرانی۔

دہائیاں گزریں — کوئی نیا بیج نہ بن سکا، کوئی نئی تحقیق نہ ہو سکی۔کپاس کی پیداوار میں 30.7 فیصد کمی آئی، رحیم یارخان، خانیوال، وہاڑی اور بہاولنگر کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں شوگر ملیں لگ گئیں۔

دالیں جو ہر غریب کھا سکتا تھا اب اس کو ترستا ہے، پندرہ فیصد  تک کم ہوگئیں، اسی طرح گندم پیدا کرنے والا ملک گندم کے بحران کا شکار ہوگیا، ٢٠٢٥ میں تقریباً  ٩ فیصد  گندم  کی پیدا وار میں کمی آئی ہے۔

آسمان بدل گیا، سیلاب آئے، گرمی کی لہریں چلیں، پانی گھٹا، یہ اب اتفاق نہیں ، یہ نئی حقیقت ہے۔

مگر ہماری پالیسی ہمیشہ تباہی کے بعد آنکھیں کھولتی ہے ، پہلے سے کبھی تیار نہیں ہوتی۔

پچھلے سال آلو کی ریکارڈ فصل ہوئی، کسان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، پھر سرحد بند ہوئی، گودام نہیں تھے، منڈی نہیں تھی۔

اس نے وہی فصل  اپنے ہاتھوں سے اگائی ہوئی  جانوروں کو کھلا دی۔ یا زمین میں دبا دی۔

ایک طرف کروڑوں بھوکے۔ دوسری طرف فصل مٹی میں۔

پاکستان کے پاس زمین ہے، پانی ہے، محنتی ہاتھ ہیں۔

لیکن فوڈ سیکیورٹی کھیت میں نہیں اگتی، وہ منصوبہ بندی سے آتی ہے، سائنس سے آتی ہے، سیاسی ارادے سے آتی ہے۔

پنجاب کے رکن اسمبلی بیرسٹر اسامہ فضل چوہدری  اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری زمینیں گرم ہورہی ہیں، ہمارے ہمسائے ممالک اجناس کی پیداوار میں ہم سے  کہیں آگے نکل چکے ہیں، جو ہمارے ایک ایکڑ پیداوار ہوتی ہے وہ ان کے ہاں کئی گنا زیادہ ہے۔ ان کے پاس منصوبے ہیں ، منصوبوں پر عمل کرنے والے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔

جب تک یہ نہیں ہوگا.... "زرعی ملک" صرف ایک جملہ رہے گا۔

قصور کس کا ہے؟

کسان کا .... جو کھیت میں مرتا ہے؟

حکومت کا.... جو کبھی وہاں گئی ہی نہیں؟

یا ہم سب کا... جنہوں نے کبھی پوچھا ہی نہیں؟

تحریر: اظہر تھراج