جنوبی پنجاب پاکستان کا وہ خطہ ہے جسے ہر الیکشن میں غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں یہاں کے عوام کو خواب دکھاتی ہیں، جلسوں میں بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، بڑے بڑے وعدوں کے ذریعے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے، اور ہر طرف سیاسی سرگرمیوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سیاست اتنی گرم ہے تو جنوبی پنجاب ترقی میں اتنا ٹھنڈا کیوں ہے؟

یہ خطہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، یہاں کے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی، علاج، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں۔ سیاسی نعروں کی گونج تو بہت ہے، مگر عملی ترقی کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب صرف ووٹ لینے کا میدان ہے، ترقی دینے کی ذمہ داری کسی کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔

یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر سچ یہی ہے کہ جنوبی پنجاب کو دہائیوں سے صرف ایک ووٹ بینک سمجھا گیا۔ الیکشن کے دنوں میں یہاں کے عوام کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں، مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہی عوام حکمرانوں کی ترجیحات سے باہر ہو جاتے ہیں۔ لاہور اور وسطی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی بارش ہوتی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب میں ترقی کے نام پر صرف چند سڑکیں اور کچھ نمائشی اسکیمیں دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

وسائل کی تقسیم ہمیشہ سے غیر متوازن رہی ہے۔ پنجاب کا بجٹ ہو یا وفاقی منصوبے، زیادہ تر سرمایہ ان شہروں پر لگایا جاتا ہے جہاں حکمران طبقہ رہتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع آج بھی ٹوٹے روڈ، خستہ اسپتالوں اور ناکارہ اسکولوں کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک صوبے کے اندر ہی دو الگ دیاستیں آباد ہوں؟ ایک طرف میٹرو اور اورنج لائن، دوسری طرف ٹوٹی سڑکیں اور بنیادی سہولتوں کا فقدان۔

جنوبی پنجاب میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ روایتی اور جاگیردارانہ سیاست ہے۔ یہاں عوام کو مسائل کی بنیاد پر نہیں بلکہ برادری، خاندان اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایسے نمائندے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جو عوام کے مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی بقا اور ذاتی مفادات کے محافظ ہوتے ہیں۔ جب قیادت خدمت کے بجائے اقتدار کی غلام بن جائے تو ترقی صرف ایک خواب رہ جاتی ہے۔

بدقسمتی سے جنوبی پنجاب میں اضلاع کی تعداد میں تو اضافہ کر دیا گیا، نئے اضلاع بنا دیے گئے، نئی تحصیلیں اور نئی تقسیم کا شور بھی مچا، مگر اصل مسئلہ آج بھی وہیں کھڑا ہے، اختیارات کی مکمل منتقلی نہیں کی گئی۔ مثال کے طور پر کوٹ ادو کو ضلع بنانے کا اعلان تو کر دیا گیا، مگر آج بھی اس کے میجر اختیارات مظفرگڑھ کے پاس ہیں۔ عوام کو نام تو دے دیا گیا، مگر اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ کیسی اصلاحات ہیں جن میں صرف نقشے بدلتے ہیں، نظام نہیں بدلتا؟

اس کے برعکس اگر لاہور کی طرف دیکھا جائے تو وہاں چند دنوں میں فیصلے ہو جاتے ہیں، انتظامات مکمل ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ بسنت جیسے تہوار کے لیے بھی تمام تر سرکاری مشینری حرکت میں آ جاتی ہے۔ وہاں مہینوں نہیں، ہفتوں میں نہیں بلکہ دنوں میں سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے اسپتال، یونیورسٹیاں، سڑکیں اور اختیارات دنوں میں کیوں ممکن نہیں؟ یہ دوہرا معیار آخر کب تک چلے گا؟

جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا قیام بظاہر ایک مثبت قدم تھا۔ اس کے لیے عمارتیں بنائی گئیں، دفاتر تیار کیے گئے، عوام میں امید پیدا ہوئی کہ اب انتظامی امور ان کے اپنے علاقے سے چلیں گے اور لاہور کے چکر ختم ہوں گے۔ کچھ عرصہ یہ سیکریٹریٹ فعال بھی رہا، مگر پھر اچانک اسے غیر مؤثر کر کے ختم کر دیا گیا۔ یہ واقعہ جنوبی پنجاب کے ساتھ حکومتی سنجیدگی کی واضح مثال ہے۔ یہاں ادارے بنائے نہیں جاتے، صرف دکھائے جاتے ہیں۔

سیکریٹریٹ کی بندش نے یہ ثابت کر دیا کہ جنوبی پنجاب کے نام پر کیے گئے اقدامات محض سیاسی اسٹنٹ تھے۔ اگر حکومت واقعی اس خطے کو اختیارات دینا چاہتی تو سیکریٹریٹ کو مضبوط کرتی، اسے مستقل بناتی، اور اسے مکمل انتظامی خودمختاری دیتی۔ مگر یہاں معاملہ الٹا نکلا۔ جنوبی پنجاب کو ایک بار پھر یہ پیغام دیا گیا کہ تمہیں صرف وعدے ملیں گے، اختیار نہیں۔

ہر الیکشن میں جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ مطالبہ عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی حربہ بن چکا ہے۔ اقتدار سے پہلے صوبہ یاد آتا ہے، اقتدار کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔ اگر صوبہ بن جاتا تو وسائل کی تقسیم بہتر ہو سکتی تھی، انتظامی مسائل حل ہو سکتے تھے، مگر حکمران طبقہ اختیارات اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔

جنوبی پنجاب میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، مگر ترقیاتی کاموں کی کمی اس لیے ہے کیونکہ یہاں کے عوام کو صرف ووٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے، جاگیردارانہ نظام ترقی کو روک رہا ہے، ادارے محض نمائشی بنائے جاتے ہیں، سیکریٹریٹ جیسے منصوبے بھی سیاسی دھوکہ ثابت ہوئے، اور عوام کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔

جنوبی پنجاب کے عوام کو اب سوال کرنا ہوگا، اپنے نمائندوں کا احتساب کرنا ہوگا، اور صرف وعدوں پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی پر فیصلہ کرنا ہوگا۔ ورنہ سیاست کا یہ شور یونہی رہے گا، اور ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔

تحریر: رضوان حیدر

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر