مگر ایک خواب کو حقیقت بننے کے لیے امن چاہیے، اور خطے کا امن دن بدن ایک دور کی بات ہوتا جا رہا تھا۔
فروری کے آخری دنوں میں، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کیا، سعودی عرب نے دانستہ طور پر خود کو اس آگ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ نہ اس طرف، نہ اس طرف، بس خاموش تماشائی۔ لیکن جنگیں سرحدوں کا احترام کم ہی کرتی ہیں۔
خطے میں دو واضح دھڑے بن چکے تھے۔ ایک طرف ایران اور اس کے پاسدارانِ انقلاب، اور ان کے حلیف۔ یمن کے حوثی، عراق کی نیم فوجی تنظیمیں، اور فی الحال خاموش مگر طاقتور حزب اللہ۔ دوسری طرف امریکہ کی مرکزی کمان، اور اس کے ساتھ کھڑے خلیجی عرب ممالک اور اردن۔ اسرائیل اتحادی ضرور تھا مگر اس نئی جنگ میں براہ راست شریک نہیں۔
سعودی عرب کے لیے یہ خاموشی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ ایک، دو نہیں بلکہ تین اطراف سے حملے شروع ہو گئے۔ عراق سے ڈرون آنے لگے، جنوب سے یمن کے حوثی متحرک ہو گئے، اور بحیرہ احمر میں سعودی جہاز رانی نشانہ بننے لگی۔
آخرکار صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اس ہفتے سعودی افواج نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ان ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر مشترکہ حملے کیے جن پر الزام تھا کہ وہ سعودی سرزمین پر درجنوں ڈرون داغ چکی ہیں۔
لیکن یہ کہانی آج کی نہیں۔ اس کی جڑیں چھ سال پرانی ہیں۔
ستمبر 2019 کی ایک صبح، جب سعودی عرب کے تیل کی شہ رگ سمجھے جانے والے ابقیق اور خریص کے تنصیبات پر ڈرونوں کی یلغار ہوئی تھی۔ اس وقت الزام یمن کے حوثیوں پر دھرا گیا، مگر جو لوگ موقع پر پہنچے انہوں نے دیکھا کہ تباہ شدہ ڈھانچوں کے سوراخ سب شمال کی طرف کھلے تھے۔
اس طرف جہاں عراق واقع ہے۔ اس ایک حملے نے سعودی تیل کی برآمدات کا نصف حصہ کئی دنوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ یہ ایک خوفناک سبق تھا: ملک کی سب سے قیمتی چیز، اس کا تیل، کتنی آسانی سے نشانہ بن سکتی ہے۔
اور اب، چھ سال بعد، تاریخ نے خود کو دہرایا۔ سیٹلائٹ تصاویر نے ثابت کیا کہ ابقیق ایک بار پھر ڈرونوں کی زد میں آ چکا تھا۔
تیل کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جب ایران نے آبنائے ہرمز کو، جہاں سے دنیا کی بیس فیصد تیل و گیس گزرتی ہے، عملاً بند کر دیا، تو سعودی عرب نے متبادل راستہ نکالا۔ اپنی مشرق تا مغرب پائپ لائن کے ذریعے ینبع کی بندرگاہ سے روزانہ پچاس لاکھ بیرل تیل بھیجنا شروع کیا، جہاں سے ٹینکر بحیرہ احمر کے راستے ایشیا کی منڈیوں کا رخ کرتے۔
کچھ عرصہ یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی۔
پھر جولائی کے وسط میں سعودی جنگی طیاروں نے صنعاء کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ کہتے ہوئے کہ ایک ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنا مقصود تھا۔ حوثیوں نے جواب میں ابھا اور جیزان کے ہوائی اڈوں پر حملہ کر دیا۔ اور پھر، سب سے تشویشناک بات، انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، باب المندب کی تنگ آبنائے، جہاں سے ایشیا جانے والا تیل گزرتا ہے، اب ایک خطرناک راہداری بن چکی تھی۔
سعودی عرب نے سات سال حوثیوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ ایک طویل، خونریز، اور بالآخر ناکام کوشش، جس نے یمن کو دنیا کی بدترین انسانی المیوں میں سے ایک بنا دیا۔ 2022 میں دونوں فریقین ایک نازک جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، کچھ کہتے ہیں کہ خاموشی کی قیمت بھی ادا کی گئی۔ مگر آج، خطے کا سب سے دولت مند ملک ایک بار پھر اپنے جنوبی ہمسائے سے میزائلوں اور ڈرونوں کے سائے تلے کھڑا ہے، اور شمال سے عراق کی طرف سے بھی۔
اب ریاض کے فیصلہ سازوں کے سامنے ایک مشکل سوال ہے۔ کیا جوابی کارروائی جاری رکھی جائے تاکہ دشمن کو باز رکھا جا سکے؟ یا پھر پرانے راستے پر واپس جایا جائے، مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے قیمت چکائی جائے؟
ولی عہد کا خواب۔ ایک جدید، خوشحال، تیل سے آزاد سعودی عرب۔ اس دھند میں کہیں کھڑا ہے، منتظر کہ آسمان صاف ہو۔ لیکن جنگیں شاذ و نادر ہی وقت پر ختم ہوتی ہیں، اور "ویژن 2030" کے معماروں نے شاید کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کا سب سے بڑا امتحان کاغذ پر نہیں، میدانِ جنگ میں آئے گا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







