جنوبی ایشیا کے معاملات پر نظر رکھنے والے پالیسی پلیٹ فارم ساؤتھ ایشین وائسز نے اپنے تازہ تجزیے میں کچھ ایسا لکھا ہے جسے پڑھ کر یقین کرنا ذرا مشکل ہے۔ ’پاکستان نے وہ کام کر دکھایا جو چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔‘ اسلام آباد نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان پل باندھا جب دونوں فریق ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے۔
اب ذرا سوچیے! دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں، سفارت کاری کے سب سے تجربہ کار ادارے، مہنگے ترین "بیک چینلز" رکھنے والی طاقتیں۔۔ یہ سب کچھ نہ کر سکیں، اور یہ کام ہوا اسلام آباد کے کسی کمرے میں، جہاں امریکی اور ایرانی نمائندے بیس گھنٹے سے زائد آمنے سامنے بیٹھے رہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔۔۔
1979 کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان اتنی اعلیٰ سطح کا براہِ راست رابطہ ہوا۔ سوچیے، ایک انقلاب، ایک بادشاہت کا خاتمہ، بائیس کور کمانڈرز، کئی امریکی صدور، اور درمیان میں کئی جنگیں اور پھر بھی سب سے سیدھا مکالمہ اسلام آباد میں ہوا۔
مگر یہاں سے کہانی میں وہ موڑ آتا ہے جو ہر ثالث کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ جنگ بندی کے بعد امریکا اور ایران، دونوں نے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کا الزام لگا دیا۔ اب اگر دو بچے آپس میں لڑ پڑیں اور دونوں الزام اس استاد پر لگائیں جس نے صلح کروائی تھی، تو کیا استاد ناکام ٹھہرتا ہے؟ ساؤتھ ایشین وائسز کا تجزیہ اسی نکتے پر زور دیتا ہے۔ مذاکراتی عمل مکمل طور پر ترک نہیں ہوا، بس رکا، لڑکھڑایا، سستایا۔ اور رکاوٹ کا سارا بوجھ ثالث کے کندھوں پر ڈال دینا، سیدھی سیدھی ناانصافی ہے۔
یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا وہ باب ہے جو شاید ہماری اپنی قومی بحث میں کہیں گم ہو جائے۔ کیونکہ ہمارے ہاں خبر اسی وقت خبر بنتی ہے جب اس میں کوئی وزیراعلیٰ کسی جلسے میں للکارے، یا کوئی سیاسی جماعت سڑک پر نکل آئے۔ عالمی سطح پر خاموشی سے کیا گیا کام، جس کی گونج واشنگٹن اور تہران کے راہداریوں میں سنی جاتی ہے، ہمارے اپنے ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز پٹی پر شاید ایک لائن سے زیادہ جگہ نہ پائے۔
اب جب سے ’مکہ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ ہوا ہے ایران سے محبت رکھنے والے پاکستان اور ترکیہ کوس رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ دونوں مل کر سعودی عرب کو نہیں بچا پائیں گے۔
ناقدین نے اس بات کا بھی خیال نہ رکھا کہ جس پاکستان اور ترکیہ نے لاکھوں انسانوں کو بارود میں راکھ بننے سے بچایا، جنہوں نے مہینوں تک برف میں پڑی ایرانی قیادت کی لاشوں کو مٹی میں جانے کے قابل بنایا۔ انہی پر طرح طرح کی باتیں۔
کیا کریں تاریخ ایسی ہے، بدلی تو نہیں جاسکتی۔ تاریخ پاکستان کو یاد رکھے گی، تاریخ اخبار کی سرخیوں سے زیادہ دیر تک یاد رکھتی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جسے آنے والے برسوں میں کوئی مؤرخ لکھے گا۔ ’کہ جب دنیا کی بڑی طاقتیں بے بس کھڑی تھیں، ایک "درمیانی درجے کا" ملک خاموشی سے میز بچھا رہا تھا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







