مگر مجھے ہمارے ملک کے ’پڑھے لکھے‘ اور ’سلجھے‘ ہوئے طبقے سے خوف آرہا ہے کہ ان کہ لیے ٹی ایل پی کے کارکنان پر سیدھے فائر کرنا یا ان کارکنان کو جان سے مار دینا کسی قسم کی تشویش کا باعث بھی نہیں۔ کسی انکوائری کا مطالبہ بھی ضروری نہیں کہ تمام مرنے والے اسلحے سے لیس تھے یا نہتے۔
مجھے اس بات پر بھی خوف آرہا ہے کہ مذہبی طبقہ بلکہ وہ علماء کرام بھی خاموش ہیں، جو عمران خان کے دور حکومت میں ’وزیرآباد خفیہ معاہدے‘ میں دستخطی تھے۔ ان میں کچھ تو اب پی ٹی آئی کا باقاعدہ حصہ بھی ہیں۔
مجھے اس بات پر بھی خوف ہے کہ اس میں قصوروار صرف اور صرف پولیس کو ٹھہرایا جارہا ہے، رینجرز پر الزام دھرا جارہا ہے۔ اس پر خاموشی ہے کہ یہاں تک نوبت کیوں آئی؟ کوئی جاننے کی کوشش ہی نہیں کررہا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے درجنوں واقعات ہیں، جو اس جماعت کے کھاتے میں ہیں، جڑانوالہ کا سانحہ ہویا سیالکوٹ کے بے گناہ، سری لنکن کے قتل کا واقعہ سبھی پر تو یہ سینہ چوڑا کرکے کہتے ہیں، ہاں ہم ہی نے کیا ہے۔
یکم نومبر 2018 ء کو سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کیا تھا، تب بھی یہی ہوا تھا۔ تب بھی دنگے ہوئے، فسادات پھیلے۔ اب تو ایسے حالات دیکھتے دیکھتے بچے بھی بوڑھے ہورہے ہیں۔
ختم ہی کیسے ہوں، بچوں کو ہی اس کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جب بچے تیار ہوجاتے ہیں تو ہاتھ جھاڑ کے کہا جاتا ہے ’ہم نے تو ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیں: سعد رضوی سمیت 3500 سے زائد کارکنان کے خلاف دہشتگردی اور قتل کا مقدمہ درج، پولیس آپریشن کے دوران کیا ہوا؟
خیر چلتے ہیں تازہ جھڑپوں اور سانحہ مرید کے کی طرف۔ لاہور سے مرید کے تک ہونے والی جھڑپوں میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی، جس نتیجے میں ایک پولیس افسر جان سے گیا اور 48 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 17 کو گولیوں کے زخم آئے۔
تصادم کے دوران کم از کم 40 گاڑیاں اور متعدد دکانیں نذر آتش ہوئیں۔ ہنگاموں کے دوران تین مذہبی جماعت کے کارکن اور چھ راہگیر جاں بحق، جب کہ تقریباً 30 شہری زخمی ہوئے۔ حالات قابو سے باہر ہونے پر پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔(یہ سب پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے)۔
واقعہ کی ایف آئی آر میں بھی مرحوم خادم رضوی کے دونوں بیٹوں سعد رضوی اور انس رضوی کو نامزد کیا گیا ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پستول اور رائفل سے پولیس اہلکاروں پر سیدھے فائر کیے۔ پولیس اگر یہ الزام ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملزموں کو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔
35 سو افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں۔ ڈی جی آپریشنز نے بھی یہی کہا ہے کہ پولیس سے اسلحہ چھین کرفائرنگ کی گئی، پولیس نے جوابی کارروائی کی۔
ٹی ایل پی جھتے بناتی ہے، اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچاتی ہے، تھانوں کا محاصرہ بھی کرتی ہے، زبردستی بلاسفیمی کے پرچے بھی کرواتی ہے، اگر کوئی احمدیہ جماعت کو کافر نا بولے تو اس کو بھی کافر گردانتی ہے۔ مگر ان تمام جرائم کی سزا قانون اور آئین میں درج ہے اور معذرت کے ساتھ ان میں سے کچھ اقدام تو ریاست کی نظر میں عملی طور پرجرم بھی نہیں۔
مزید پڑھیں: سعد رضوی کے گھر سے کس کس ملک کی کرنسی ملی؟ پولیس نے رپورٹ جاری کردی
جب ریاست کو ان کے اس جوش اور ولولے کی ضرورت ہوتی ہے تو ان سے معاہدے ہوتے ہیں اور جب ریاست کو ان کے جوش اور ولولے سے الجھن ہوتی ہے تو سیدھے فائر۔
کسی کو دہشت گرد یا شدت پسند گردان کریہ سب کیا گیا تو کیا انسانی حقوق ختم کئے جا سکتے ہیں؟ سیدھے فائر 26 نومبر کو بھی کئے گئے تھے اور تب بھی ریاست چاہتی تھی کہ ہم پی ٹی آئی کو شرپسند مان کر سوال کرنا بند کردیں، جس صحافی نے زیادہ سوال کیے اسے اغوا کر لیا گیا۔
کوئی شدت پسندی کے نام پر خون بہا رہا ہے تو کوئی روشن خیالی کے نام پر۔ سستی صرف انسان کی زندگی ہوئی۔ اگر جتھوں کو تیار کرکے کسی پر توہین کا الزام لگا کر اسے قتل کر دینا قدامت پسندی ہے تو سیدھے فائر کرکے نہتے مظاہرین کو قتل کرنا کیا روشن خیالی ہے۔
بات دونوں طرف سے بگڑی ہے، قیادت ٹی ایل پی کی بھی نااہل ہے، قیادت حکومت کی نالائق۔ اچھا دونوں سے نہیں ہوا، انسان دونوں سے مرے ہیں۔ سوال پھر یہی ہے کہ حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟
ایک غریب مولوی کے بچوں کے پاس اربوں مالیت کی ملکی، غیرملکی کرنسی کیسے آئی؟ سونا جواہرات کیسے پہنچے؟ ایک چھوٹے سے پھوڑے کو جسم کا ناسور کیوں بننے دیا گیا؟







