ہم بچپن سے ایک ہی نعرہ سنتے آ رہے تھے کہ ”ظالمو! قاصی آ رہا ہے“ جب بھی جماعت اسلامی کا ذکر ہوتا تو کہنے والے کی زبان پر خود بخود قاضی حسین احمد کا نام آجاتا، قاضی صاحب جماعت اسلامی کی پہچان تھے، ان کی صاف گوئی اور بلند عزم اور علامہ اقبال سے محبت نے بہت لوگوں کو متاثر کیا، کلام اقبال پ ان کو عبور حاصل تھا۔

قاضی حسین احمد سے واقفیت تب ہوئی جب جہاد کشمیرعروج پر تھا، ہم چونکہ دیہاتی علاقے میں رہنے والے تھے تو وہاں خبر کا ذریعہ صرف اخبارہی تھا وہ بھی کبھی پہنچتا اور کبھی نہ پہنچتا۔ اخبار کے ذریعے ہمیں پتا چلا کے قاضی آرہا ہے، یہ ایک ایسا نعرہ تھا جس نے جماعت اسلامی کو عوام میں مقبول بنایا۔

یہ قاضی حسین احمد صاحب کی سیاست کا عروج تھا، میری قاضی صاحب سے دو ملاقاتیں ہیں وہ بھی یاد گار، پہلی مرتبہ 2003ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے اجتماع عام میں ملا، دوسری تفصیلی ملاقات ایک تقریب میں ہوئی۔

تقریب شروع ہونے میں ابھی وقت باقی تھا، میں نے مقامی اخبار کے لیے ان کا انٹرویو کیا۔ وہ  پہلے نوجوانوں کی بیداری اور اُن کے کردار کے بارے میں بات کرتے رہے اور اُس کے بعد پاکستان میں امریکی مداخلت خلاف سوالات پر جوابات دیے۔ 

آج جس جین زی کا ذکرہے ہرزبان پر ہے، جنہیں منانے کے لیے ہر کوئی کوشاں ہے، ان کی طرف متوجہ ہونے کے لیے پہلی بار قاضی حسین احمد نے آواز اٹھائی تھی۔ 

قاضی صاحب پاکستان میں امریکی مداخلت کے سخت مخالف تھے،دہشت گردی کےخلاف جنگ کے حامی نہیں تھے۔

جب بھی کبھی قاضی صاحب کسی جلسہ سے خطاب کرتے تو شرکاء کو میرے عزیزو! کہہ کر پکارتے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے مینار پاکستان گراﺅنڈ میں ہونے والے اجتماع عام کے اختتامی خطاب میں کہا تھا کہ شاید زندگی رہے نہ رہے انشاءاللہ جنت میں ملاقات ہو گی، وہ واقعی جنت کے مسافر تھے، قاضی صاحب کی وفات سے جہاں کروڑوں تحریکی کارکنوں کے سر پر آپ کا سایہ نہیں رہا، وہاں پاکستان کی سیاست بھی یتیم ہوچکی ہے۔

اب سیاستدانوں میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو مفاہمت کی بات کرسکے، کسی میں اتنی سوجھ بوجھ نہیں۔ اتنی دانشمندی نہیں کہ چاروں صوبوں اور کشمیر کو جوڑ کر رکھ سکے۔ قاضی حسین احمد کی بات صرف پاکستانی ہی نہیں افغانستان، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک لوگ بھی سنتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار پاکستان میں بحرانی کیفیت تھی، ملک میں ایک بار پھربوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی تھی تو قاضی حسین احمد ایوان صدر پہنچے، اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ۔ معاملات طے پائے اور پاکستان مشرف کے بعد ایک اور مارشل لا سے بچ گیا۔

قاضی حسین احمد کی آواز میں امت کے لیے تڑپ تھی، قوم کے لیے ایک درد تھا، ملک کے مسائل کے حوالے سے تحریکیں چلائیں تو کامیاب ٹھہرے، فلاح و بہبود کا بیڑہ اٹھایا تو الخدمت جیسا ایک ایسا ادارہ دیا جس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ 

ظالم حکمرانوں کے خلاف اٹھے تو معاہدے کرکے نہیں اسلام آباد کے تخت الٹا کرلوٹے۔ قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کو حقیقی معنوں میں عوامی جماعت بنایا، عمران خان کے سرپرہاتھ رکھا تو اسے بھی ایک عوامی لیڈر بنادیا۔ 

دنیا ایک سٹیج ہے یہاں جو بھی آتا ہے پرفارم کرتا ہے چلا جاتا ہے، جو اچھا کردار ادا کرتا ہے اسے آخرت میں پھل بھی اچھا ملے گا، قاضی حسین احمد بھی چلے گئے۔ ایسے گئے کہ ’ظالمو، قاضی آرہا ہے‘ کی آواز بھی دم توڑ گئی۔ اب کوئی آواز اٹھتی ہے تو فیض آباد پہنچتے ہی دب جاتی ہے۔ حقیقت میں ظالموں کے لیے خوف کی علامت قاضی چلا گیا۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر