درخواست کا عنوان الیہٰ سلیم اور سید کوثر عباس بنام وفاقِ پاکستان و دیگر رکھا گیا ہے، جو وسیع تر عوامی مفاد میں دائر کی جا رہی ہے، تاکہ کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اور آن لائن گیمنگ کے منفی اثرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ آئینی درخواست جماعت ہشتم کی طالبہ الیہٰ سلیم اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی رہنما اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن سید کوثر عباس کی جانب سے، قانونی مشیر ایڈووکیٹ شزا قریشی کے توسط سے دائر کی جا رہی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بچوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق مؤثر قانون سازی اور نگرانی کا فقدان ہے، جس کے باعث کم عمر بچے ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، سوشل میڈیا کی لت، سائبر بُلنگ، نامناسب مواد، آن لائن ہراسانی اور استحصال جیسے سنگین خطرات سے دوچار ہو رہے ہیں۔
درخواست گزاروں کے مطابق ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے بڑھتی سرگرمیوں کے باوجود بچوں کے تحفظ کے لیے مربوط پالیسی اور عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جو مستقبل میں بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ لائبہ خان کا مدینہ منورہ میں نکاح، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
یہ کیس بدھ، 28 جنوری 2026 کو صبح 9 بجے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہے۔
درخواست گزاروں نے حکومت، متعلقہ اداروں، والدین اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کو ایک قومی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
میڈیا نمائندگان سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اہم قومی نوعیت کے معاملے کو اجاگر کر کے عوام میں آگاہی پیدا کریں۔






