پشتون ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ و طالبات نے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے اسپورٹس گراؤنڈ تک پیدل مارچ کیا، اس موقع پر ڈھول کی تھاپ پر پشتون طلبہ نے روایتی رقص کا شاندار مظاہرہ کیا، اسپورٹس گراؤنڈ پہنچتے ہی گراؤنڈ پشتون ثقافت کے رنگوں میں رنگ گیا، جہاں ہر طرف روایتی لباس، پشتون موسیقی، اتنڑ اور ثقافتی اسٹالز سجے نظر آئے۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز پشتو ترانے سے ہوا، پشتون اینتھم کے بعد سندھی، بلوچی اور پنجابی نغموں پر رقص بھی پیش کیا گیا
شرکاء نے مختلف ثقافتی اسٹالز کا دورہ کیا، جہاں پشتون ثقافت سے جڑی اشیاء، روایتی دستکاری، کھانے اور لباس کی نمائش کی گئی۔
طلبہ نے روایتی پگڑیاں، واسکٹ، روایتی چپل، شلوار قمیض اور دیگر ثقافتی ملبوسات پہن کر اپنی ثقافتی پہچان کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا
اس موقع پر پشتون موسیقی کی تھاپ پر پیش کیا گیا روایتی اتنڑ تقریب کی خاص پہچان بنا، جس پر شرکاء نے خوب داد دی۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ اس دن کے انعقاد کا مقصد صرف پشتون ثقافت کو اجاگر کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتوں کے درمیان محبت، ہم آہنگی، برداشت اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ دن اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا ہے مگر اصل پیغام یہ ہے کہ ہم سب ایک ہیں، ہماری پہچان پاکستان ہے۔
مزید پڑھیں: سیاسی بیانیہ یا نظام بدلنے کی نئی کوشش، جماعتِ اسلامی اجتماعِ عام سے کیا ظاہر کرنا چاہتی ہے؟
ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ ایسے ثقافتی پروگرام طلبہ کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی روایات کو سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔
تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام اور دیگر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔
شرکاء نے اس ایونٹ کو نہایت مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں ثقافتی شعور اور برداشت کو فروغ دیتے ہیں۔
تقریب کی سب سے نمایاں اور خوبصورت بات یہ رہی کہ رنگ و نسل، زبان اور قومیت سے بالاتر ہو کر پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان طلبہ ایک ہی گراؤنڈ میں جمع ہو کر اپنی اپنی ثقافت کے رنگ بکھیرتے نظر آئے۔ مختلف ثقافتوں کے امتزاج نے اس ایونٹ کو حقیقی معنوں میں قومی یکجہتی کی علامت بنا دیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ آج کے نوجوان کو نفرت، تعصب اور تقسیم کے بجائے اتحاد، امن اور محبت کا پیغام دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ایسے ثقافتی ایونٹس اس پیغام کو عملی شکل دینے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
پشتون کلچر ڈے نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان مختلف ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا خوبصورت گلدستہ ہے، جہاں سب اپنی شناخت کے ساتھ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر منتظمین نے کامیاب ایونٹ کے انعقاد پر تمام شرکاء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا







