او آئی سی رابطہ گروپ برائے افغانستان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال صرف افغان عوام تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے پر پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ اگست 2021 افغانستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ تھا، پاکستان نے افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور مشکل حالات میں انسانی بنیادوں پر تعاون جاری رکھا۔ پاکستان نے دسمبر 2021 میں او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی بھی کی تاکہ افغانستان کے انسانی اور معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی اور اسلامی تعاون کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے گا، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے اور سیاسی شمولیت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا، تاہم پاکستان کے مطابق ان توقعات کے مطابق عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اسحاق ڈار نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی اور ان کے لیے دستیاب سہولت کاری کا سلسلہ ختم کریں اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری یقینی بنائیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشتگرد گروہوں کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کر رہا ہے اور پاکستانی سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کوہاٹ کی مسجد پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں، ایسے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ طالبان قیادت پر واضح کیا جائے کہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ان کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کی سرگرمیاں صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے افغان عوام کے لیے انسانی امداد، تجارت اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی حمایت کی ہے اور مستقبل میں بھی ایک مستحکم افغانستان کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

نائب وزیراعظم نے طالبان سے انسانی حقوق کے تحفظ اور عام شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا، افغان عوام طویل عرصے سے جنگ، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے افغانستان میں ایسا سیاسی عمل ضروری ہے جس میں مختلف نسلی گروہوں، اقلیتوں اور افغان معاشرے کے دیگر طبقات کو مناسب نمائندگی حاصل ہو۔

انہوں نے افغان شہریوں کی وطن واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے معاملے پر بھی عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے عالمی برادری کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی اور افغانستان کے انسانی و معاشی مسائل کے حل میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ معاملات میں کشیدگی کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی رابطوں کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسے تعلقات قائم ہوں جو باہمی احترام، خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں پر استوار ہوں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان سے دہشتگردی کا مسئلہ حل ہونے کی صورت میں تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے امکانات بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔ دفتر خارجہ پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ معمول کے تعلقات اور علاقائی رابطوں کے لیے تیار ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کا خاتمہ بنیادی ضرورت ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ خواہاں ہے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام کے اثرات سب سے پہلے اور سب سے زیادہ پاکستان کو برداشت کرنا پڑتے ہیں، ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کے مفاد میں ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے طالبان کی جانب سے واضح سیاسی عزم اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ طالبان کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنا ہوگی۔ پاکستان کے مطابق افغان سرزمین سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششیں متاثر ہوتی رہیں گی۔

او آئی سی رابطہ گروپ برائے افغانستان کا اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوا، جس میں افغانستان کی انسانی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔ او آئی سی نے بھی افغانستان کے عوام کی مدد اور انسانی و ترقیاتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔