یہ منصوبہ سعودی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی اور مدینہ ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد جدید خودکار ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کو مذہبی مقامات پر متعارف کروانا اور زائرین کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق  روبو بس  ایک برقی اور مکمل طور پر خودکار منی بس ہے، جس میں بیک وقت 20 مسافروں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام پر کام کرتی ہے اور اس میں جدید سینسرز، ہائی ریزولوشن کیمرے اور  لائیڈار  ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے، جس کے ذریعے گاڑی اردگرد کے ماحول کو پہچانتے ہوئے محفوظ انداز میں حرکت کرتی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ خودکار گاڑیاں اہم مذہبی مقامات پر کس حد تک مؤثر اور محفوظ طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سروس کے معیار، آپریشنل کارکردگی اور زائرین کے تجربے کو بھی جانچا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسی گاڑیوں کو سعودی عرب کے دیگر شہروں میں بھی متعارف کروایا جا سکے۔

روبو بس کے لیے مسجدِ قبا کے اندرونی صحن میں تقریباً 700 میٹر طویل مخصوص روٹ تیار کیا گیا ہے، جہاں یہ خودکار نظام کے تحت زائرین اور نمازیوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائے گی۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کشیدگی کے باوجود سعودی آرامکو کے منافع میں 25 فیصد اضافہ

حکام کے مطابق آزمائشی مرحلہ 60 دن تک جاری رہے گا، جس دوران گاڑی کی کارکردگی، اطراف کے انفراسٹرکچر کے ساتھ ہم آہنگی اور ڈیجیٹل نقشہ جات کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

سعودی عرب حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت، خودکار گاڑیوں اور اسمارٹ سٹی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے، جب کہ حکومت مستقبل میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کو ملک بھر میں وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔