میچ کے اختتام پر ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے ایک بینر اٹھایا، جس کا اردو مطلب ہے "فاک لینڈز ارجنٹینا کے ہیں"۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور اس پر سیاسی و سفارتی ردعمل بھی سامنے آنے لگا۔
فاک لینڈز جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع برطانیہ کا سمندر پار علاقہ ہے، تاہم ارجنٹینا اسے "مالویناس" کے نام سے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس جزیرہ نما علاقے پر خودمختاری کا تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 1982 میں فاک لینڈز پر قبضے کے معاملے پر برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان 74 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں 655 ارجنٹائنی فوجی، 255 برطانوی فوجی اور جزائر کے 3 شہری ہلاک ہوئے تھے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ارجنٹینا کی ٹیم اس معاملے پر تنازع کا شکار ہوئی ہو۔ 2014 میں بھی فیفا نے ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر 20 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا، جب سلووینیا کے خلاف ایک دوستانہ میچ سے قبل کھلاڑیوں نے یہی پیغام درج بینر اٹھایا تھا۔ اس وقت فیفا نے اسے سیاسی پیغام قرار دیتے ہوئے فٹبال کے قوانین اور ٹیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
سیمی فائنل کے بعد ارجنٹینا کی نائب صدر وکٹوریا ویارویل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ارجنٹائنی فوجیوں کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، "یہ صرف ایک اور میچ نہیں تھا۔ فاک لینڈز ارجنٹینا کے ہیں۔ انہوں نے اسٹیڈیم میں بینر لے جانے سے منع کیا، مگر وہ یہ بھول گئے کہ ہم مالویناس کو اپنے خون اور اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔"
اس سے قبل بھی انہوں نے سیمی فائنل کو "قابضین کو ان کی جگہ دکھانے کا موقع" قرار دیا تھا۔
دوسری جانب برطانیہ کے وزیر برائے کاروبار و تجارت پیٹر کائل نے ارجنٹینا کے اس اقدام کو "مکمل طور پر نامناسب" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فیفا اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گا، کیونکہ فٹبال میں سیاسی سرگرمیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ادھر ارجنٹینا کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی نے سیمی فائنل سے قبل واضح طور پر کہا تھا کہ وہ فٹبال اور سیاست کو الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "1982 کی جنگ ہماری تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ہے، ہم ان لوگوں کو ضرور یاد رکھتے ہیں، لیکن یہ ایک فٹبال میچ ہے، اسے سیاسی تنازعات سے نہیں جوڑنا چاہیے۔"
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: ارجنٹینا نے انگلینڈ کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی
یاد رہے کہ انگلینڈ اور ارجنٹینا کے درمیان تاریخی اور سیاسی کشیدگی کے پیش نظر سیمی فائنل کے دوران سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ تاہم میچ کے بعد ہونے والا یہ سیاسی اظہار اب ارجنٹینا کے لیے ایک نئی مشکل بن سکتا ہے، جبکہ فیفا کی جانب سے ممکنہ تادیبی کارروائی پر عالمی فٹبال حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔






