سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نےاپنے  ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ جینٹل مین کھیل کے جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے ایک نئی بین الاقوامی کرکٹ تنظیم قائم کرنا ضروری ہے۔

یہ بیان ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل سامنے آیا ہے، جس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک نئے تنازع کے پیش نظر کرکٹ میں سیاسی اثر و رسوخ پر روشنی ڈالی گئی۔ پاکستانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ قومی مینز کی ٹیم عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی، تاہم پاکستان کی ٹیم 15 فروری کو انڈیا کے خلاف ہونے والے میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔ آئی سی سی نے اس فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی کرکٹ اور شائقین کے مفاد میں نہیں۔

انہوں  نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی مالی برتری اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی آمدنی آئی سی سی کے فیصلوں میں اثر انداز ہو رہی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 سے 2027 کے دوران آئی پی ایل کی متوقع آمدنی 1.15 ارب ڈالر رہی، جو آئی سی سی کی مجموعی سالانہ آمدنی کا تقریباً 39 فیصد بنتی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی اور تجارتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

آئی سی سی کے موجودہ چیئرمین جے شاہ، جو کہ انڈین وزیر داخلہ امیت شاہ کے صاحبزادے ہیں، پر بھی غیر جانبدارانہ فیصلے کرنے کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ "کرکٹ کے عالمی ادارے کو کسی بھی قومی کرکٹ بورڈ کے سیاسی اثر سے آزاد ہونا چاہیے"۔

مزید پڑھیں: آئی سی سی کے معاملے پر تمام آپشنز زیرِ غور، حتمی فیصلہ جمعے یا پیر کو لیا جائے گا: محسن نقوی

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیاسی کشیدگی کرکٹ تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ سال مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم ہوا، جس کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ستمبر 2025 میں ایشیا کپ کے دوران انڈین کھلاڑیوں نے پاکستانی کرکٹرز سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور دونوں ٹیمیں تین میچز میں آمنے سامنے آئیں، جو انڈیا نے جیتے، جبکہ کسی میچ سے قبل یا بعد میں کوئی دوستانہ ملاقات نہیں ہوئی۔

ان کے مطابق، کرکٹ کو سیاست سے الگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی غیر جانبدار تنظیم کے قیام کے بغیر جنوبی ایشیا میں کھیل کے جذبے کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے عالمی کرکٹ کے منتظمین سے اپیل کی کہ وہ کھیل کی روح کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ کھیل کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جا سکے۔