پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ میں، جہاں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز آمنے سامنے تھے، نشریاتی ٹیم کی جانب سے دونوں شہروں کا تقابلی ویڈیو دکھایا گیا۔ اس موقع پر کمنٹری کرتے ہوئے عامر سہیل نے کہا کہ ویڈیو میں کراچی کی ایک “اہم پہچان” شامل نہیں کی گئی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ “کراچی میں سب سے زیادہ نظر آنے والی چیز پان کی پچکاریاں ہیں”،اس کے بغیر شہر کی مکمل نمائندگی ممکن نہیں۔ ان کا یہ جملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔

بیان سامنے آتے ہی صارفین کی بڑی تعداد نے سخت ردعمل دیا اور اسے کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر کی توہین قرار دیا،ایک عالمی سطح پر پہچانے جانے والے شہر کو ایک منفی عادت تک محدود کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ عوامی جذبات کو بھی ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے عامر سہیل کے بیان کو “نامناسب” اور “غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے ان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ کچھ صارفین نے پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ کمنٹری پینل میں شامل افراد کے انتخاب میں زیادہ احتیاط برتی جائے، جبکہ بعض نے عامر سہیل کو کمنٹری سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ  لائیو نشریات کے دوران معمولی جملہ بھی بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا پر ردعمل فوری اور وسیع پیمانے پر سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق کمنٹیٹرز کو اپنے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 11 کا فائنل: حکومت کی جانب سے شائقین کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی

یاد رہے کہ “پان کی پچکاری” سے مراد عوامی مقامات پر پان تھوکنے کا عمل ہے، جسے شہری صفائی اور نظم و ضبط کے مسائل سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم اسے کراچی کی شناخت کے طور پر پیش کرنا بہت سے افراد کے نزدیک نامناسب مزاح تھا جو شدید تنقید کا باعث بنا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عوامی شخصیات کے بیانات اب فوری طور پر جانچے جاتے ہیں اور ناظرین ایسے تبصروں کو آسانی سے نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں۔