پاکستان کی جانب سے محمد رضوان 41 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ شان مسعود نے 29 رنز بنائے۔ عبداللہ شفیق 15، سعود شکیل 14، اذان اویس 9، خرم شہزاد 8، علی عثمان 7، محمد عباس 6 اور کپتان سلمان علی آغا 4 رنز بنا سکے، جبکہ امام الحق بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن، جوفرا آرچر اور جوش ٹنگ نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گس ایٹکنسن نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ قومی ٹیم کی جانب سے اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور اذان اویس پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے، جبکہ شان مسعود بھی صرف 5 رنز بنا سکے۔
بعد ازاں امام الحق اور عبداللہ شفیق نے 91 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کو سنبھالا، تاہم امام الحق 42 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔
امام الحق کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر لڑکھڑا گئی اور 97 رنز پر تین وکٹوں کے بعد اگلی سات وکٹیں صرف 74 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔
عبداللہ شفیق 61 رنز کے ساتھ پاکستان کے نمایاں بلے باز رہے۔ کپتان سلمان علی آغا نے 21، خرم شہزاد نے 14 اور محمد رضوان نے 12 رنز بنائے۔
پاکستان کی پوری ٹیم 48.1 اوورز میں 171 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کے 171 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا۔ اوپنرز بین ڈکٹ اور ایمیلی گائے نے 36 رنز کی شراکت قائم کی، جس کے بعد محمد عباس نے ڈکٹ کو آؤٹ کیا۔ ایمیلی گائے بھی 33 رنز بنا کر محمد علی کا شکار بنے۔ پہلے روز کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے دو وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز بنائے تھے۔
دوسرے روز بارش کے باعث کھیل تاخیر سے شروع ہوا، تاہم کھیل بحال ہونے کے بعد انگلش بیٹرز نے پاکستانی بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔
جورڈن کاکس اور جو روٹ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 150 رنز کی شراکت قائم کی۔ کاکس 73 اور جو روٹ 66 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
اس کے بعد ہیری بروک اور ڈین لارنس نے پانچویں وکٹ کے لیے 118 رنز جوڑے۔ ڈین لارنس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ہیری بروک 91 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر سنچری سے محروم رہے۔
انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 366 رنز بنائے اور پاکستان کے خلاف 195 رنز کی برتری حاصل کی، جو بعد میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
پاکستان کی جانب سے علی عثمان نے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں اب واپسی کے لیے دوسرے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔
سیریز کا دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے لارڈز میں کھیلا جائے گا، جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبیسٹن گراؤنڈ میں ہوگا۔
پاکستان پہلے ہی مستقل کپتان بابر اعظم کی انجری کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جب کہ ہیڈنگلے میں بیٹنگ لائن کی ناکامی نے ٹیم کے لیے مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔







