لاہور میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کے اراکین مصباح الحق، سرفراز احمد، اسد شفیق اور عاقب جاوید سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر قومی ٹیم کے انتخاب، مستقبل کی حکمت عملی اور میرٹ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے چناؤ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیئرمین پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے انتخاب میں صرف اور صرف کارکردگی اور میرٹ کو مدنظر رکھا جائے، کمیٹی کو کسی بھی جانب سے ہونے والی تنقید یا دباؤ سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ کرکٹ کے مفاد میں کیے گئے فیصلوں کی مکمل حمایت کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ شفاف اور پیشہ ورانہ انداز اپناتے ہوئے ایسے فیصلے کرے جو پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں، یقین دہانی کرائی کہ پی سی بی انتظامیہ کمیٹی کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

اس موقع پر سلیکشن کمیٹی کے اراکین نے چیئرمین پی سی بی کے اعتماد پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قومی ٹیم کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں فیصلے کریں گے۔

مزید پڑھیں:  سیالکوٹ سٹالینز  کے شریک مالک کامل خان نے ٹیم سے علیحدگی کا اعلان کردیا

اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور کمیٹی کی کوشش ہوگی کہ ایسے کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کیے جائیں جو مستقبل میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیم کے انتخاب میں کارکردگی، فٹنس اور ٹیم کے مجموعی توازن کو ترجیح دی جائے گی۔

کرکٹ حلقوں کے مطابق چیئرمین پی سی بی کی جانب سے سلیکشن کمیٹی کو مکمل اختیار دینے کا مقصد ٹیم کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ قومی ٹیم آنے والے اہم مقابلوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔