ممبئی کے وانکھڈے اسٹیڈیم میں جاری آئی سی سی مینز ورلڈکپ کے 44ویں میچ میں زمبابوے کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز نے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 254 رنز کا شاندار مجموعہ اسکور کیا، جو اس ورلڈ کپ کے نمایاں اسکورز میں سے ایک ہے۔
255 رنز کے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے کی ٹیم خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ بریڈ ایونز 43 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جب کہ ڈائن مائرز نے 28 اور کپتان سکندر رضا نے 27 رنز بنائے۔ ٹاڈیوناشے مارومانی اور ٹونی مونیونگا 14، 14 رنز بنا سکے، جب کہ برائن بینیٹ صرف پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
رائن برل، ٹاشنگا مسیکیوا، گریم کریمر اور بلیسنگ مزرابانی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے، جب کہ رچرڈ نگاروا سات رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے گداکیش موتی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں، عقیل حسین نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جب کہ جیسن ہولڈر اور میتھیو فورڈ نے ایک، ایک وکٹ اپنے نام کی۔
اس سے قبل زمبابوے کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور رنز کا انبار لگا کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی، جو آخرکار 107 رنز کی بڑی فتح کی صورت میں سامنے آئی۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے شیمرون ہیٹمائر نے 85 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر میچ کا رنگ جما دیا۔ روومن پاول نے 59 رنز کی جارحانہ باری کھیلی، جب کہ روماریو شیفرڈ 21 رنز بنا سکے۔ کپتان شے ہوپ 14، جیسن ہولڈر 13 اور برینڈن کنگ 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شرفین ردرفورڈ 31 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جب کہ میتھیو فورڈ ایک رن کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔
زمبابوے کی جانب سے رچرڈ نگواروا اور بلیسنک مزرابانی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، جب کہ گریم کریمر اور بریڈ ایونز نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
ویسٹ انڈیزی بلے بازوں نے آج ایسا لاوا اُگلا کہ زمبابوے کے بولرز دیکھتے ہی رہ گئے۔ چھکوں اور چوکوں کی برسات نے میدان کو رنگین کر دیا اور ہر اوور کے ساتھ اسکور بورڈ ایسے دوڑا جیسے بریک ہی فیل ہو گئی ہو۔
ہیٹمائر اور پاول کی جارحانہ بیٹنگ نے زمبابوے کی بولنگ لائن کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ویسٹ انڈیز نے صرف بیٹنگ نہیں کی بلکہ زمبابوے کو چاروں شانے چت کر کے میدان میں دھو ڈالا ہو۔
واضح رہے کہ دونوں ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اب تک چار بار آمنے سامنے آ چکی ہیں، جن میں ویسٹ انڈیز نے تین، جب کہ زمبابوے نے ایک میچ جیتا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں کا واحد مقابلہ 2022 میں ہوا تھا، جہاں ویسٹ انڈیز نے 31 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن ویسٹ انڈیز نے ایونٹ میں مسلسل چار فتوحات کے ساتھ مضبوط واپسی کی ہے۔ کپتان شائی ہوپ دو نصف سنچریوں کی بدولت 155 رنز کے ساتھ نمایاں ہیں، جب کہ شمرون ہٹمیئر (134) اور شرفین ردرفورڈ (126) نے مڈل آرڈر میں جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔
آل راؤنڈر جیسن ہولڈر 7 اور روماریو شیفرڈ 6 وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کے لیے مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ویسٹ انڈین ٹیم سپر ایٹ میں بھی اپنی پاور ہٹنگ سے فاتحانہ آغاز کی خواہاں ہے۔
دوسری جانب کپتان سکندر رضا کی قیادت میں زمبابوے نے ابتدائی مرحلے میں آسٹریلیا اور سری لنکا جیسے مضبوط حریفوں کو شکست دے کر سب کو حیران کیا۔ 22 سالہ برین بیننٹ دو نصف سنچریوں کی مدد سے 175 رنز بنا کر نمایاں رہے ہیں۔
پاور ہٹنگ میں واضح فرق موجود ہے۔ زمبابوے نے پورے ٹورنامنٹ میں صرف 8 چھکے لگائے ہیں، جب کہ ویسٹ انڈیز چار میچز میں 36 چھکے جڑ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ سٹالینز کے شریک مالک کامل خان نے ٹیم سے علیحدگی کا اعلان کردیا
وانکھڈے کی وکٹ عام طور پر بیٹنگ کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے، جو ویسٹ انڈیز کے ہارڈ ہٹرز کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ تاہم زمبابوے کے فاسٹ بولرز بلیسنگ مزربانی (9 وکٹیں) اور بریڈ ایونز (8 وکٹیں) کیریبیئن بیٹرز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دونوں ٹیمیں ایونٹ میں اب تک ناقابلِ شکست ہیں، جس کے باعث آج کا مقابلہ سپر ایٹ مرحلے کا ایک سنسنی خیز میچ ثابت ہونے کی توقع ہے۔






