ایرانیوں میں اتنا اعتماد کیسے آگیا؟ اس اعتماد کی وجہ ایران کے میزائل نہیں، وہ جاسوس ہے جو اس کا درست معلومات دے رہا ہے، آخر یہ جاسوس کون ہے اور ایران کی ہی مدد کیوں کررہا ہے؟
آخر خلیج اور خطے میں بعض امریکی اہداف، ریڈار تنصیبات اور فوجی مقامات پر ایرانی حملے اتنے درست کیوں ہیں؟ جبکہ اسرائیل کے خلاف کیے گئے حملے اتنے تیرباہدف دکھائی نہیں دیتے؟۔
ماہرین کے مطابق اس معمہ کے پیچھے ایک خاموش مگر انتہائی طاقتور کردار موجود ہے۔ یہ کردار کیا ہے؟ یہ کون ہے؟ خلیج عمان میں تعینات چین کا جدید خلائی نگرانی اور بحری انٹیلی جنس جہاز “لیاو وانگ- ایک ۔
یہ جہاز دراصل چین کے یوآن وانگ سپیس ٹریکنگ فلیٹ کا وسیع کا حصہ ہے جوسیٹلائٹ ٹریکنگ، بیلسٹک میزائل لانچ مانیٹرنگ اور عالمی الیکٹرانک انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چین نے اس قسم کے جہاز پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی میں تیار کیے تھے تاکہ وہ امریکی اور سوویت خلائی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکے مگر نئی نسل کے جہاز اس نظام کو ایک بالکل نئی سطح تک لے گئے ہیں۔
لیاو وانگ-ایک تقریباً 225 میٹر لمبا اور 30 ہزار ٹن سے زائد وزن رکھنے والا ایک تیرتا ہوا کمانڈ سینٹر ہے۔ اس پر نصب بڑے ریڈار، سیٹلائٹ لنکس اور الیکٹرانک انٹیلی جنس سینسرز۔ بیک وقت ہزاروں فضائی اور سمندری اہداف کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس کا مانیٹرنگ دائرہ تقریبا چھ ہزار کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے جو خلیج عمان سے لے کر پورے خلیج فارس، بحیرہ عرب اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے کو کور کرتا ہے۔
اس جہاز کا اصل ہتھیار میزائل نہیں بلکہ ڈیٹا ہے۔
جدید جنگ اب بارود سے کم اور انفارمیشن ڈومیننس سے زیادہ لڑی جا رہی ہے، یہ ہتھیاروں کی نہیں ڈیٹا کی جنگ ہے، معلومات کی جنگ ہے، جو زیادہ باخبر ہوگا وہی فاتح کہلائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ اس جہاز کو اکثر دفاعی تجزیہ کار سمنر پر تیرتا انٹیلی جنس مرکز بھی قرار دیتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جہاز کرتا کیا ہے۔ تو جناب ۔
یہ جہاز سیٹلائٹس سے ریئل ٹائم ڈیٹا حاصل کرتا ہے، بیلسٹک میزائل لانچز کو ٹریک کرتا ہے، امریکی اور اتحادی افواج کی نقل و حرکت مانیٹر کرتا ہے، فضائی اور بحری اہداف کی درست جغرافیائی پوزیشننگ فراہم کرتا ہے، اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایرانی حملوں کی ٹارگٹنگ پریسیژن بعض مقامات پر حیران کن حد تک درست نظرآتی ہے۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکا واسرائیل کی جانب سے حملوں کی مکمل ریکارڈنگ کی جارہی ہے جس پر چینی ماہرین امریکا واسرائیل کی جنگی اسٹریٹیجی کو مانیٹر کررہے ہیں جو مستقبل میں واراسٹڈی کے لیے اہم مواد ثابت ہوگا۔۔
لیکن یہاں ایک اہم نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے، چین ایران کا اتحادی ضرور ہے مگر وہ اپنی اسٹریٹیجک معلومات مکمل طور پر شیئر نہیں کرتا۔ ماہرین کے مطابق چین ایران کو محدود معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ امریکا کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے کہ
ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں۔
دوسری طرف چین اسرائیل کے خلاف اسی سطح کی معلومات ایران کو فراہم نہیں کرتا کیونکہ بیجینگ کی اصل جیوپولیٹیکل رقابت امریکا کے ساتھ ہے۔ اسرائیل کے ساتھ نہیں، یعنی وہی ریاستی مفادات و مخالفت کی پالیسی۔
اسی لیے اسرائیل کے اندر اہداف کے مقابلے میں خطے میں امریکی تنصیبات کے خلاف حملے زیادہ درست دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر مسلط کردہ جنگ کا دنیا کو کتنا نقصان ہوگا؟
چین کے لیے یہ جہاز صرف نگرانی کا آلہ نہیں بلکہ مستقبل کی جنگ کا تجربہ گاہ ہے۔ بیجنگ دراصل ایک ایسے ممکنہ عالمی تصادم کی تیاری کر رہا ہے جس میں معرکے کا فیصلہ میدان جنگ نہیں بلکہ ڈیٹا، سیٹلائٹ نیٹ ورک، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت کرے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو اس جہاز کی موجودگی اور پوزیشن کا مکمل علم ہے، اطلاعات کے مطابق یہ جہاز خلیجِ عمان میں موجود ہے اور اس کی حفاظت چینی بحریہ کے جدید ٹائپ-055 اور ٹائپ-052 ڈی ڈسٹرائرز کر رہے ہیں۔
امریکا اس پر حملہ نہیں کر سکتا۔
اس وجہ سے نہیں کہ اس کے ساتھ ڈسٹرائرز موجود ہیں بلکہ ایسا کوئی بھی قدم صرف ایک واقعہ نہیں ہوگا۔ بلکہ چین اور امریکا کے درمیان براہِ راست جنگ کا آغاز بن جائے گا۔ اور اس کا مطلب دنیا کے لیے تیسری عالمی جنگ بھی ہو سکتا ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







