تین اہم مسلم ممالک ایک میز پر بیٹھے ایک دوسرے کے دفاع کی ذمہ داری قبول کی اور یہ اصول طے کیا کہ ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ لیکن جس ملک کو ترکیہ خود اس شراکت داری کا ’قدرتی پارٹنر‘ قرار دے رہا ہے، وہ اس وقت اس معاہدے سے باہر ہے۔
یہ غیر موجودگی محض ایک خالی کرسی نہیں۔ اس کے پیچھے مشرق وسطیٰ کی وہ پیچیدہ سیاست ہے جہاں ہر ملک اتحاد تو چاہتا ہے لیکن ایسا اتحاد نہیں جو اسے کسی ایسے محاذ پر کھڑا کردے جہاں اس کے اپنے مفادات داؤ پر لگ جائیں۔
مصر کا مسئلہ شاید یہی ہے اور مصر نے مکہ معاہدے کے بارے میں اب تک کوئی واضح سرکاری مؤقف سامنے نہیں رکھا، لیکن عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں لکھا کہ قاہرہ اس مرحلے پر اس دفاعی انتظام کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یمن، بحیرہ احمر، حوثی جنگجو اور عراق میں ایران نواز گروہ وہ معاملات ہیں جہاں مصر کسی نئے عسکری محاذ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
فرض کریں مستقبل میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کوئی بڑا فوجی تصادم ہوتا ہے۔ اگر مصر کسی ایسے معاہدے کا رکن ہو جس میں ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے تو قاہرہ کے لیے غیر جانب دار رہنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصر کی دوسری بڑی ترجیح سامنے آتی ہے۔ مصر خطے میں کئی ایسے معاملات میں ایک فریق سے دوسرے فریق تک پیغام پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزہ ہو، فلسطین ہو، یمن ہو یا خطے کے دوسرے تنازعات، قاہرہ کے لیے یہ سفارتی گنجائش اہم ہے۔ کسی دفاعی اتحاد میں شامل ہو کر وہ یہ گنجائش کم نہیں کرنا چاہتا۔
لیکن پھر سوال یہ ہے کہ مصر کو دعوت کیوں دی گئی؟ ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے مصر کو مستقبل میں اس معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اسے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ’قدرتی شراکت دار‘ قرار دیا۔ یہ بات صرف سفارتی جملہ نہیں۔ مصر عرب دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس کی آبادی، فوج، جغرافیائی محل وقوع اور نہر سویز کی اہمیت اسے خطے کی طاقت کی سیاست میں ایک الگ وزن دیتی ہے۔
اگر کبھی یہ معاہدہ تین ملکوں سے آگے بڑھتا ہے تو مصر کی شمولیت اسے محض پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی انتظام نہیں رہنے دے گی بلکہ اس کی علاقائی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ لیکن قاہرہ شاید یہی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتا۔ چار ملک پہلے ہی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مصر اس پورے منظرنامے سے باہر بھی نہیں۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے میں سیاسی اور سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقاتیں اور مشاورتی رابطے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ایک وسیع تر علاقائی تعاون کی بنیاد پہلے ہی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر کی عدم شمولیت نے بعض مبصرین کو حیران کیا ہے۔
اگر سیاسی رابطہ موجود ہے، ترکیہ اور مصر کے تعلقات بھی بہتر ہو رہے ہیں اور سعودی عرب بھی قاہرہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، تو پھر دفاعی معاہدے کے وقت مصر باہر کیوں رہا؟ یہاں شاید اس کا جواب ’اتحاد یا عدم اتحاد‘ سے زیادہ ’کس وقت اور کس قیمت پر‘ میں چھپا ہے۔
ترکیہ اور مصر کی پرانی رقابت بھی بدل رہی ہے اور کچھ سال پہلے تک یہ تصور کرنا بھی آسان نہیں تھا کہ ترکیہ اور مصر دفاعی تعاون بڑھا رہے ہوں گے۔ 2013 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور تقریباً ایک دہائی تک دونوں علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے مخالف سمتوں میں کھڑے نظر آئے۔ لیکن 2023 کے بعد صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ سفارتی تعلقات بحال ہوئے، اعلیٰ سطحی رابطے بڑھے اور دفاعی شعبے میں بھی تعاون میں اضافہ ہوا۔ بحریہ، فضائیہ اور خصوصی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں اس بدلتی ہوئی سمت کی علامت ہیں۔
یعنی جس خطے میں کبھی ترکیہ اور مصر ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے تھے، وہاں اب دونوں کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔ یہ تبدیلی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست مستقل دشمنیوں سے زیادہ بدلتے ہوئے مفادات سے چلتی ہے۔
سب سے اہم بات جو اب میں کرنے لگا ہوں وہ یہ کہ کیا یہ ’مسلم نیٹو‘ بن سکتا ہے؟ مکہ معاہدے کے بعد اسے بعض حلقوں کی جانب سے ’مسلم نیٹو‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ اس کا بنیادی اصول اجتماعی دفاع سے متعلق ہے۔ لیکن نام سے زیادہ اصل سوال اس کی عملی حیثیت کا ہے۔ کاغذ پر یہ کہنا آسان ہے کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ ہوگا۔ اصل امتحان اس وقت ہوگا جب کسی رکن کو واقعی کسی عسکری بحران کا سامنا ہو۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا باقی ممالک عملی طور پر اس کے دفاع کے لیے آگے بڑھیں گے؟ اور کیا مشترکہ کمانڈ، انٹیلی جنس، دفاعی منصوبہ بندی اور عسکری تعاون کے مستقل طریقہ کار بنیں گے؟ اور پھر سب سے بڑھ کر، کیا مختلف ممالک اپنے الگ الگ قومی مفادات کے باوجود ایک مشترکہ فیصلے پر قائم رہ سکیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آنے والے برسوں میں ملیں گے۔
ایران کہاں کھڑا ہے؟ کیونکہ اب اس وقت جو صورت حال ہے اہم پہلو ایران ہے۔ مکہ معاہدے کو بعض حلقے ایران کے خلاف ممکنہ صف بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ اگر واقعی مقصد مسلم ممالک کی اجتماعی سلامتی ہے تو پھر اس تصور کو صرف چند ممالک تک محدود رکھنا بھی مشکل ہوگا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ انڈیا کے مشہور تجزیہ کار پروین سہنی کہتے ہیں کہ یہ مکہ معاہدہ ہوا ہی ایران کے کہنے پر ہے کیونکہ یہ سب چین چاہتا تھا اس کی وجہ ہے کہ ایران بھی خطے کی ایک بڑی طاقت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چین اس معاہدے کو ایک ڈٹرنس کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں اگر یہ دفاعی تعاون وسیع ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ تعلقات اور اس کی ممکنہ شمولیت بھی ایک بڑا سوال بن سکتی ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک نازک توازن موجود ہے۔ اسلام آباد کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن ایران اس کا پڑوسی بھی ہے اور ایک اہم علاقائی ملک بھی۔ اس لیے پاکستان کے لیے اس اتحاد کی کامیابی صرف عسکری طاقت میں نہیں بلکہ سفارتی توازن قائم رکھنے میں بھی ہوگی۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







