جنگ میں ایک فاتح ہوتا ہے اور نقصان دونوں نے اٹھانا ہوتا ہے۔گیم تھیوری اور ریلزم میں Zero-Sum Game ٹرمز استعمال ہوتی ہے جس میں اگر ایک فریق جیتتا ہے تو دوسرا ہارتا ہے لیکن اس میں لازمی نہیں کہ فاتح کو بھی بڑا نقصان ہو ہاں نقصان ہوتا ضرور ہے اور اگر Non-International Armed Conflicts صورتحال ہو جس میں باغی گروہ ڈی فیکٹو اتھارٹی کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں وہاں ریاستی حکام کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔ War of Attrition میں ہمیشہ ریاست فاتح ہوتی ہے۔یعنی دونوں فریق لمبی جنگ میں نقصان اٹھاتے رہیں اور آخرکار ایک فریق زیادہ دیر تک برداشت کر کے جیت جائے۔ریاست ہمیشہ یہ وار جیت جاتی ہے۔ ترکیہ بھی کردوں سے جیت گیا ہے 40 سال تک یہ جنگ جاری رہی تھی اب کردوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
بلوچستان میں بھی War of Attrition جاری ہے جس میں ریاست کو بھی نقصان ہوتا ہے لیکن بھاری نقصان بلوچ علیحدگی پسند تحریک اٹھاتی ہے۔کالعدم بلوچ تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں انھوں نے فوجیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اور یہ وہ عام سپاہی ہیں جو چیک پوسٹوں، چیک پواٹنس، یا پھر کسی افسر کیساتھ چار سے چھ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔لیکن یہ آپریشن فورس سے نہیں ہوتے۔ بی ایل اے نے ان کو یرغمال بنایا اور ویڈیو جاری کی، جیسے ملٹری ان کیخلاف آپریشن کے بعد ان دہشت گردوں کی ویڈیو جاری کرتی ہے۔ جنگ میں یہ چیزیں عام ہوتی ہیں پاکستان کے فوجی جوان پہلے نہیں ہیں جو نان سٹیٹ ایکٹر گروپ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہیں۔
آئرش ریپبلکن آرمی نے برطانیہ کے کئی فوجیوں کو اغوا کیا اور قیدی بنایا کولمبیا کی ایف اے آر سی نے فوج اور پولیس اہلکاروں کو 10-15 سال تک جنگلات میں یرغمال بنا کر رکھا۔ سری لنکا کی لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم نے فوج کے اہلکاروں کو گرفتار کیا اور کچھ قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا۔طالبان نے 2001 سے پہلے اور بعد میں کئی افغان فوجیوں اور امریکی و نیٹو فورسز کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔2009 میں امریکی فوجی Bowe Bergdahl کو طالبان نے گرفتار کیا تھا۔2014 میں قیدیوں کے تبادلے پر ریا کر دیا۔
یمن، سوڈان ،شام اور لبنان میں بھی یہ ہوچکا ہے۔نان اسٹیٹ ایکٹرز ایسا کام اس وجہ سے کرتے ہیں کہ قیدیوں کے تبادلے ہوں، سیاسی دباؤ بڑھا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں اور خاص کر میڈیا توجہ دے تاکہ مذاکراتی leverage مل جائے مگر ریاستیں ایسے کوئی leverage فراہم نہیں کرتی اپنی رٹ قائم رکھنے کیلئے آپریشنز کرتی ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی سیاسی دباؤ بڑھا کر آپریشن میں کمی چاہتی ہے اور ویڈیو جاری کرنے کا مقصد میڈیا سوشل میڈیا سے فیم لینا تھا یعنی جو اینٹی ایسٹبلشمنٹ ہیں ان کی سپورٹ ملے گی اور کئی لوگ اس بنیاد پر بھی تحریک میں شامل ہوں گے کہ یہ بہادر ہیں۔اور خوف و ہراس پیدا کر کے اداروں کیخلاف کیا جائے کہ ان سے کچھ نہیں بن سکتا جب ملٹری کا آپریشن ہوتا ہے لاشیں دکھائی جاتی ہیں تو ان کا بھی یہی پیغام ہوتا ہے کہ مذاکرات کسی صورت میں نہیں ہوں گے ہم یہ آپریشن جاری رکھیں گے۔قوم کو بھی حوصلہ ہوتا ہے کہ ہماری حفاظت کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو این آر او مل چکا؟
اب سوشل میڈیا میں ان کو دو وجہ سے فیم ملا ہے ایک جو بےوقوف ہیں انھوں نے سوشل میڈیا پر بغیر سرکاری بریفنگ کے انکار کر دیا کہ یہ فوجی نہیں ہیں اس سے ریاست مذاق بن گئی۔ ریاست سے ریاست فوجیوں کو خفیہ رکھا جاسکتا ہے نان سٹیٹ ایکٹر سے نہیں رکھا جاتا، ریاست نے اقوام متحدہ کے قوانین کی پاسداری کرنی ہوتی ہے اور قیدیوں کے حقوق دینے ہوتے ہیں، دوسرے جو خود کو اینٹی ایسٹبلشمنٹ کہتے ہی، یا کسی جرنیل کی نفرت کی وجہ سے ان دہشت گردوں کا بیانیہ پھیلا رہے ہیں فوج اتنی کمزور ہے کہ اپنے فوجی یرغمال کروا بیٹھی ہے، وہ ان دہشت گردوں کے بیانیہ کو پروموٹ کرتے ہیں ان کی بہادری والی فیلنگ کو سپورٹ دیتے ہیں۔
جیسے کوئٹہ حملے میں ایم سی بی بینک کی اے ٹی ایم کو اڑایا گیا عسکری بینک کو چھوڑ دیا تاکہ یہ تاثر جائے کہ ملٹری ان کیساتھ ملی ہوئی تھی اور بہت سے لوگوں نے اس چیز کو پروموٹ کیا۔ یہ دونوں طبقات ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ایک محبت میں ایسا آگے بڑھ گیا اس کو اپنی حرکت ریاست کیلئے مذاق نہیں لگی دوسرا تو سب کچھ جان بوجھ کر اپنی نفرت کو تسکین دے رہا ہے۔
تحریر:فرحان ملک
نوٹ: تحریر بلاگر کی فیس بک وال سے لی گئی ہے، ادارے کا خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







